سورة الرعد - آیت 7

وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّبِّهِ ۗ إِنَّمَا أَنتَ مُنذِرٌ ۖ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

کافر لوگ یہ کہتے ہیں کہ : ''اس (نبی) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی معجزہ کیوں [١٢] نہیں اتارا گیا'' (اے نبی! آپ اس فکر میں نہ پڑیں) آپ تو صرف ایک ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لئے ایک رہنما ہوا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

یعنی کفار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بغیر سوچے سمجھے اور اپنی خواہشات کے مطابق معین آیات و معجزات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : (آیت) ” کیوں نہیں اتاری گئی آپ پر کوئی نشانی، آپ کے رب کی طرف سے“ معجزات کے مطالبے کا جواب نہ ملنے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے عذر پیش کرتے ہوئے یہ بات کہتے ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو محض ڈرانے والے ہیں آپ کو کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو آیات و معجزات نازل فرماتا ہے۔ اس نے ایسے واضح دلائل کے ساتھ رسول کی تائید فرمائی جو عقل مندوں پر مخفی نہیں ہیں اور طالب حق ان دلائل کے ذریعے سے راہ راست پا سکتا ہے۔ رہا منکر حق، جو اپنے ظلم و جہالت کی وجہ سے بغیر سوچے سمجھے آیات و معجزات کا مطالبہ کرتا ہے تو یہ مطالبہ باطل جھوٹ اور بہتان طرازی ہے، کیونکہ اس کے پاس جو بھی معجزہ اور نشانی آئے گی وہ اس پر ایمان لائے گا۔ اس کی اطاعت کرے گا، کیونکہ اس کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس کی صحت پر دلائل نہیں، بلکہ اس کے ایمان نہ لانے کی وجہ صرف خواہشات نفس اور شہوات کی پیروی ہے۔ (ولکل قوم ھاد) ” اور ہر قوم کے لئے ایک راہنما ہوا کرتا ہے۔“ یعنی ہر قوم کے پاس انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین میں سے ایک داعی آتا ہے جو انہیں ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔ ان کے پاس دلائل و براہین ہوتے ہیں جو اس ہدایت کی صحت پر دلالت کرتے ہیں۔