سورة الرعد - آیت 5

وَإِن تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ أَإِذَا كُنَّا تُرَابًا أَإِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ ۗ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور اگر آپ [٩] تعجب کرتے ہیں تو اس سے بھی عجیب تر ان لوگوں کی بات ہے جو کہتے ہیں کہ : ''جب ہم مٹی بن جائیں گے تو کیا از سرنو پیدا ہوں گے؟'' یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کا انکار [١٠] کیا اور ایسے ہی لوگوں کی گردنوں میں طوق ہوں گے یہی لوگ اہل دوزخ ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہینگے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد : (وان تعجب) ” اور اگر آپ تعجب کریں“ میں احتمال ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت اور توحید کے دلائل کی کثرت پر تعجب ہو۔ اس لئے کہ اس کے باوجود جھٹلانے والوں کا انکار اور ان کا روز قیامت کی تکذیب کرنا عجیب بات ہے، ان کا یہ کہنا : (اذا کنا ترباً ء انا لفی خلق جدید) ” کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے، کیا نئے سرے سے بنائے جائیں گے؟“ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق، یہ بہت بعید اور ممتنع ہے کہ جب وہ مٹی میں رل مل جائیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ انہوں نے بربنائے جہالت خالق کی قدرت کو مخلقو کی قدرت پر قیاس کرلیا ہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ یہ مخلوق کی قدرت سے باہر ہے تو انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ خلاق کے لئے بھی ممتنع ہے۔ حالانکہ وہ فراموش کر بیٹھے کہ ان کی پہلی بار اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھے۔ آیت کریمہ میں اس معنی کا احتمال بھی ہے اگر آپ ان کی بات اور ان کی ان کے مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی تکذیب پر تعجب کرتے ہیں تو واقعی ان کی یہ بات عجائبات میں شمار ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ شخص جس کے سامنے آیات الٰہی بیان کی جائیں، جو زندگی بعد موت پر ایسے قطعی دلائل دیکھتا ہو جن میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں اور اس کے بعد وہ انکار کر دے تو یہ عجیب بات ہے۔ مگر ان کی یہ بات کوئی انوکھی چیز نہیں ہے۔ (اولئک الذین کفروا بربھم) ” یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا“ اور اس کی وحدانیت کو جھٹلایا حالانکہ توحید سب سے زیادہ واضح اور سب سے زیاد روشن چیز ہے۔ (و اولئک الاغلل) ” اور وہی لوگ، طوق ہیں“ جو ان کو راہ ہدایت سے روکتے ہیں (فی اعناقھم) ان کی رگدنوں میں“ کیونکہ انہیں ایمان کی طرف بلایا گیا مگر وہ ایمان نہ لائے، ان کے سامنے ہدایت پیش کی گئی مگر انہوں نے اسے قبول نہ کیا، لہٰذا سزا کے طور پر ان کے دل پلٹ دیئے گئے کیونکہ یہ لوگ پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے۔ (واولئک اصحب النارھم فیھا خلدون) ” یہی لوگ دوزخی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔“ یعنی وہ جہنم سے کبھی نہیں نکلیں گے۔