سورة الرعد - آیت 3

وَهُوَ الَّذِي مَدَّ الْأَرْضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْهَارًا ۖ وَمِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِيهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ ۖ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

وہی تو ہے جس نے زمین کو پھیلا دیا اور اس میں سلسلہ ہائے کوہ [٧] اور نہریں بنادیں اور ہر طرح کے پھلوں کی دو دو قسمیں بنائیں۔ وہی دن پر رات کو طاری کرتا ہے۔ سوچنے سمجھے والے لوگوں کے لئے ان باتوں میں بہت سی نشانیاں موجود ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(وھو الذی مد الارض) ” وہی ہے جس نے پھیلائی زمین“ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اپنے بندوں کے لئے تخلیق کیا، اس کو وسعت بخشی، اس میں برکت عطا کی، اپنے بندوں کے لئے اس کو پھیلایا اور اس کے اندران کے لئے فوائد و مصالح ودیعت کئے۔ (وجعل فیھا رواسی) ” اور رکھے اس میں پہاڑ“ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیئے تاکہ زمین مخلوق کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ اس لئے اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین اپنے رہنے والوں کے ساتھ ایک طرف جھک جاتی، کیونکہ زمین پانی کی سطح پر تیر رہی ہے جس کو ثبات و استقرار نہیں۔ مضبوطی کے ساتھ جمے ہوئے پہاڑوں کے ذریعے سے اس میں توازن پیدا کیا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین کے لئے میخیں بنایا ہے۔ (وانھرا) ” اور دریا“ یعنی زمین کے اندر دریا بنائے جو انسان، ان کے مویشیوں اور ان کے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ پس ان دریاؤں کے ذریعے سے درخت، کھیتیاں اور باغات اگائے اور ان کے ذریعے سے خیر کثیر برآمد کیا۔ اس لئے فرمایا : (آیت) ” اور ہر پھل کے رکھے اس میں جوڑے، دو دو قسم“ یعنی ان میں دو اصناف پیدا کیں جن کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ (یغشی الیل النھار) ” ڈھانکتا ہے دن پر رات کو“ وہ دن پر رات کو طاری کردیا ت ہے جس سے تمام آپ اق اور اندھیرا چھا جاتا ہے اور ہر جاندار اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر دن بھر کی مشقت اور تھکن کو دور کرنے کے لئے آرام کرتا ہے۔ جب وہ اپنی نیند پوری کرلیتے ہیں تو دن رات پر چھا جاتا ہے تو لوگ دن کے وقت پھیل کر اپنے مصالح کے حصول اور اپنے کام کاج میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اور یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لئے دن اور رات بنائے تاکہ تم اس میں آرام کرو اور تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور شاید کہ تم شکر گزار بنو۔ “ (ان فی ذلک لایت) ” اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔“ یعنی اس میں مطالب الہیہ پر دلائل ہیں (لقوم یتفکرون) ” غور و فکر کرنے والوں کے لئے۔“ یعنی ان لوگوں کے لئے جو ان آیات و دلائل میں غور و فکر کرتے ہیں، انہیں عبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو اس ہستی کی طرف راہنمائی کرتی ہیں جس نے ان کو تخلیق کیا، ان کی تدبیر کی اور ان میں تصرف کیا۔ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی الہ اور کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔ وہ غائب اور موجود ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ وہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے، وہ اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے، اپنے خلق و امر میں قابل تعریف، نہایت بابرکت اور بہت بلند ہستی ہے۔