سورة یوسف - آیت 100

وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا ۖ وَقَالَ يَا أَبَتِ هَٰذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا ۖ وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاءَ بِكُم مِّنَ الْبَدْوِ مِن بَعْدِ أَن نَّزَغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي ۚ إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِّمَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور یوسف نے اپنے والدین کو اٹھا کر (اپنے ساتھ) تخت پر بٹھایا اور اس کے بھائی یوسف کے آگے سجدہ [٩٤] میں گر گئے۔ یوسف نے کہا : ابا جان! یہ ہے میرے اس خواب کی تعبیر جو میں نے بہت پہلے دیکھی تھی۔ اللہ نے اس کو حقیقت بنا دیا اس نے اس وقت بھی مجھ پر احسان کیا جب مجھے قید خانہ سے نکالا اور اس وقت بھی جبکہ آپ سب کو دیہات سے میرے یہاں لایا حا لانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان [٩٥] فتنہ کھڑا کرچکا تھا۔ بلاشبہ میرا پروردگار غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیئت پوری کرتا ہے کیونکہ وہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(آیت) ” اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر“ یعنی انہیں شاہی تخت اور مقام عزت پر بٹھایا (آیت) ” اور سب اس کے آگے سجدے میں گر پڑے۔“ یعنی یوسف (علیہ السلام) کے والدین اور ان کے بھائی ان کی تعظیم اور عزت و اکرام کے لئے ان کے سامنے سجدے میں گر گئے۔ (آیت) جب یوسف (علیہ السلام) نے انہیں اس حالت میں دیکھا کہ وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں، تو کہنے لگے : (آیت) ” ابا جان ! یہ ہے تعبیر میرے خواب کی جو اس سے پہلے دیکھا تھا“ یعنی جب یوسف (علیہ السلام) نے خواب میں دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند انہیں سجدہ کر رہے ہیں۔ یہ تھی اس خواب کی تعبیر، جو اس مقام پر پہنچ کر پوری ہوئی۔ (آیت) ” میرے رب نے اسے سچ کردیا۔“ یعنی میرے رب نے اس خواب کو حقیقت بنا دکھایا اور اسے خواب پریشان نہ بنایا۔ (آیت) ” اور اس نے مجھ پر بڑا احسان کیا۔“ (آیت) ” جب اس نے مجھے قید خانے سے نکالا اور تم کو گاؤں سے (یہاں) لے آیا“ یہ یوسف (علیہ السلام) کی مہربانی اور حسن تخاطب ہے کہ انہوں نے اپنے بھائیوں کے لئے اتمام عفو کی خاطر اپنی حالت قید کا تو ذکر کیا مگر اندھے کنوئیں میں ان پر جو کچھ گزری، اس کا ذکر نہیں کیا اور نہ انہوں نے اپنے بھائیوں کے قصور کا ذکر کیا نیز ان کو صحرا سے مصر لانے میں اللہ تعالیٰ کے احساب کا ذکر کیا۔ یوسف (علیہ السلام) نے یہ پیرا یہ بھی اختیار نہیں کیا کہ ” تمہیں بھوک اور بد حالی سے نکال کر یہاں لایا“ نہ یہ کہا“ اس نے تم پر احسان کیا“ بلکہ کہا ” اس نے مجھ پر احسان فرمایا“ اور اللہ تعالیٰ کے احسان کو اپنی طرف لوٹایا۔ نہایت بابرکت ہے وہ ذات جو اپنے بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنی رحمت کے لئے مختصر کرلیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف سے بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے وہ بہت زیادہ نوازشات کرنے والا ہے۔ (آیت) ” بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان جھگڑا ڈال دیا“ اور یہ نہیں کہا : (آیت) ” شیطان نے میرے بھائیوں کو بہکا دیا“ بلکہ پیرا یہ استعمال کیا گیا گویا گناہ اور جہالت دونوں طرف سے صادر ہوئی۔۔۔ تمام ستائش اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے شیطان کو رسوا کرکے دھتکار دیا اور اس انتہائی تکلیف دہ جدائی کے بعد اس نے ہمیں پھر اکٹھا کردیا۔ (آیت) ” بے شک میرا رب تدبیر سے کرتا ہے جو چاہتا ہے“ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو اپنے کرم اور احسان سے اس طرح نوازتا ہے کہ اسے شعور تک نہیں ہوتا اور بعض ناپسندیدہ امور کے ذریعے سے بلند ترین منازل پر پہنچا دیتا ہے۔ (آیت) ” بے شک وہ جاننے والا“ یعنی وہ جو تمام معاملات کے ظاہر و باطن کو جانتا ہے اور وہ بندوں کے ضمیر میں نہاں رازوں کو بھی جانتا ہے۔ (آیت) وہ حکمت والا ہے اور تمام اشیاء کو ان کے لائق مقام پر رکھتا ہے اور تمام امور کو ان کے اوقات مقرر پر وقوع پذیر کرتا ہے۔