سورة یوسف - آیت 92

قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

یوسف نے کہا : ''آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔ اللہ تمہیں [٨٩] معاف کرے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(آیت) یوسف (علیہ السلام) نے اپنے جو دو کرم کی بنا پر ان سے کہا : (آیت) ” آج تم پر کوئی الزام نہیں“ یعنی میں تمہارا کوئی مواخذہ اور تم پر کوئی ملامت نہیں کرتا۔ (آیت) ” اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔“ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کے گزشتہ جرائم پر عار دلائے بغیر ان کے ساتھ انتہائی نرمی اور فراخ دلی کا سلوک کیا اور ان کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعا کی، یہ احسان کی انتہا ہے، اس سلوک کا مظاہرہ اللہ تعالیٰ کے خاص اور چنے ہوئے بندے ہی کرسکتے ہیں۔