سورة یوسف - آیت 55

قَالَ اجْعَلْنِي عَلَىٰ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ۖ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

یوسف کہنے لگے : مجھے زمین کے خزانوں کا نگران [٥٤] مقرر کردیجئے میں ان کی حفاظت کرنے والا ہوں اور (یہ کام) جانتا بھی ہوں''

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(آیت) یوسف (علیہ السلام) نے مصلحت عامہ کی خاطر بادشاہ سے مطالبہ کیا۔ (آیت) ” مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کردیجیے۔“ یعنی مجھے زمین کی پیدا وار، اس کے محاصل کا نگران، محافظ اور منتظم مقرر کردیں (آیت) ” کیونکہ میں حفاطت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف بھی ہوں۔“ یعنی جس چیز کا آپ مجھے نگران بنائیں گے میں اس کی حفاظت کروں گا اس میں سے کچھ بھی بے محل استعمال ہو کر ضائع نہیں ہوگی، میں ان محاصل کے داخل خارج کو منضبط کرسکتا ہوں میں ان کے انتظام کی کیفیت کا پورا علم رکھتا ہوں۔ میں یہ بھی خوب جانتا ہوں کہ کسے عطا کرنا ہے کسے محروم رکھنا ہے اور ان میں تصرفات کی پوری طرح دیکھ بھال کرسکتا ہوں۔ یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے اس عہدے کا مطالبہ، عہدے کی حرص کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ نفع عام میں رغبت کی وجہ سے تھا۔ یوسف (علیہ السلام) اپنے بارے میں کفایت اور حفظ و امانت کے متعلق جو کچھ جانتے تھے وہ لوگ نہیں جانتے تھے۔ بنا بریں یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ مصر سے مطالبہ کیا کہ وہ انہیں زمین کے محاصل کے خزانوں کے انتظام پر مقرر کر دے۔ چنانچہ بادشاہ نے انہیں زمین کے محاصل کے خزانوں کا والی اور منتظم مقرر کردیا۔