سورة البقرة - آیت 155

وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور ہم ضرور تمہیں [١٩٥] خوف اور فاقہ میں مبتلا کر کے، نیز جان و مال اور پھلوں کے خسارہ میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے۔ اور (اے نبی !) ایسے صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ اپنے بندوں کو مصائب و محنن کے ذریعے سے آزماتا ہے، تاکہ سچے اور جھوٹے، صابر اور بے صبر کے درمیان فرق واضح ہوجائے۔ اپنے بندوں کے معاملے میں یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے، کیونکہ اگر اہل ایمان ہمیشہ خوشحالی سے لطف اندوز ہوں انہیں کبھی مصائب و محن کا سامنا نہ ہو تو فساد واقع ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اہل خیر اہل شر میں سے علیحدہ ہوں۔ یہ آزمائش کا فائدہ ہے۔ اس سے اہل ایمان کا وہ ایمان زائل نہیں ہوتا جو انہیں عطا کیا گیا ہے اور نہ آزمائش انہیں دین سے ہٹاتی ہے، اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ایمان کو ضائع نہیں کرتا۔ پس اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آزمئاے گا (آیت) بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ ” کسی قدر خوف سیذ یعنی دشمنوں کے خوف سے (آیت) والجوع ” اور بھوک سے“ یعنی بھوک اور دشمنوں کے خوف کے ذریعے سے کچھ نہ کچھ انہیں ضرور آزمائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مکمل بھوک اور خوف میں مبتلا کردیا تو وہ ہلاک ہوجائیں گے اور آزمئاش اور امتحان ہلاک کرنے کی غرض سے نہیں آتا، بلکہ اس کا مقصد پاک صاف کرنا ہوتا ہے۔ (آیت) وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ” اور کچھ مالوں کی کمی سے“ اس میں وہ تمام کمی اور گھاٹا شامل ہے جو اہل ایمان کو آفات سمادی، سیلاب یا سمندر میں غرق ہونے، جانوں کی کمی سے“ اولاد، عزیز و اقارب اور دوستوں کو فوت کر کے، خود بندہ مومن یا اس کے کسی عزیز کو بیماری لاحق کر کے ان کو آزماتا ہے۔ (آیت) والثمرات ” اور پھلوں کی کمی سے“ ژالہ باری، سردی، آگ لگنے، آفات سمادی اور ٹنڈی دل کے ذریعے سے غلہ جات، کھجوروں، سبزیوں اور تمام پھلدار درختوں کو نقصان پہنچا کر ہم ضرور آزمائیں گے۔ ان تمام آزمائشوں کا آنا ضروری ہے، کیونکہ اللہ علیم و خبیر نے ان کے بارے میں خبر دی ہے اور یہ آزمائشیں اسی طرح واقع ہوئیں۔ جب یہ مصائب و محن واقع ہوئے، تو لوگ دو اقسام میں منقسم ہوگئے۔ (١) بے صبری کا مظاہرہ کرنے والے۔ (٢) صبر کرنے والے۔ بے صبر شخص کو دو مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا، محبوب چیز سے محروم ہونا اور وہ اس مصیبت کا وجود ہے۔ دوسرا اس سے بھی زیادہ بڑی چیز سے محروم ہونا، یعنی اللہ تعالیٰ نے صبر کا حکم دیا ہے اس پر عمل کرتے ہوئے ثواب کا حاصل نہ کرنا چنانچہ خسارہ، حرماں نصیبی اور ایمان میں کمی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ وہ صبر، رضا اور شکر سے محروم ہوجاتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے نارضای حاصل ہوتی ہے جو شدت نقصان پر دلالت کرتی ہے۔ لیکن وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے ان مصائب و محن کے وقت صبر سے نوازا اور اس نے اپنے آپ کو قولاً اور فعلاً اللہ پر اظہار برہمی سے روکے رکھا۔ پھر اس پر اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر و ثواب کی امید رکھی اور اسے یہ بھی علم ہے کہ صبر کرنے سے اسے جو ثواب حاصل ہوگا، وہ اس مصیبت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے جس کا اسے سامنا ہے، بلکہ یہ مصیبت اس کے حق میں نعمت ہے، کیونکہ یہ مصیبت اس کے لئے اس بھلائی اور فائدے کے حصول کا باعث بنی ہے جو اس مصیبت سے زیادہ بہتر ہے۔ پس اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی اور ثواب کا مستحق قرار پایا۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ ” اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو۔“ یعنی انہیں خوشخبری سنا دو کہ اللہ تعالیٰ بغیر کسی حساب کے ان کو پورا پورا اجر دے گا۔ پس اہل صبر وہ لوگ ہیں جن کو عظیم بشارت اور بہت بڑے انعام سے نوازا گیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان صابرین کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا : (آیت)ۙالَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ ” وہ لوگ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے“ مصیبت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو قلب، بدن یا دونوں کو تکلیف پہنچائے۔ جس کا ذکر پہلے گزرا۔ (آیت) قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰہِ ” تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ ہی کی ملکیت ہیں۔“ یعنی وہ پکار اٹھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں، اسی کے دست تدبیر اور اسی کے تصرف کے تحت ہیں۔ پس ہماری جانوں اور ہمارے مال میں ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ ہمیں کسی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ، جس کی ذات سب سے زیادہ رحم کرنے والی ہے، درحقیقت اپنے غلاموں اور ان کے مال میں تصرف کرتا ہے اس لئے مالک پر اعتراض کی مجال نہیں، بلکہ بندہ مومن کا کمال عبودیت اس کا یہ جان لینا ہے کہ اس پر جو مصیبت آن پڑی ہے وہ اس کے حکمت والے مالک کی طرف سے ہے جو اپنے بندے پر خود اس بندے سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، تب یہ چیز بندے کو اللہ تعالیٰ پر راضی اور اس کی اس تدبیر پر شکر گزار رکھتی ہے کہ اس نے اپنے بندے کے لئے وہی چیز اتخیار کی جو اس کے لئے بہتر تھی، اگرچہ بندے کو اس کا شعور بھی نہ تھا۔ نیز اس کے ساتھ ساتھ ہم اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں۔ پس قیامت کے روز ہم نے لوٹ کر اللہ تعالیٰ کے پاس ہی حاض رہونا ہے اور ہر شخص کو اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا اگر ہم صبر کریں اور اجر کی امید رکھیں تو ہم اس کے ہاں اپنے اجر و ثواب کو وافر پائیں گے اور اگر ہم بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر ناراض ہوں گے تو ہمیں ناراضی اور اجر کی محرومی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ پس بندے کا اللہ کی ملکیت ہونا اور اس کا اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا صبر کا سب سے طاقتور سبب ہے۔ (آیت)ۭاُولٰۗیِٕکَ” یہی لوگ ہیں۔“ یعنی یہی لوگ جو صبر مذکور کی صفت سے موصوف ہیں (آیت) عَلَیْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ” ان پر برکتیں ہیں ان کے رب کی طرف سے“ یعنی یہ ان کے احوال کی مدح و ثنا اور تعریف و تعظیم ہے (آیت) وَرَحْمَۃٌ ۣ” اور رحمت“ اور ان پر عظیم رحمت ہے۔ یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا حصہ ہے کہ اس نے ان کو صبر کی توفیق سے نوازا جس کے ذریعے سے وہ کامل اجر حاصل کرتے ہیں۔ (آیت) وَاُولٰۗیِٕکَ ھُمُ الْمُہْتَدُوْنَ” اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں“ یعنی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو پہچان لیا اور وہ حق اس مقام پر یہ ہے کہ انہیں یہ معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور انہیں لوٹ کر اسی کے پاس حاضر ہونا ہے اور اس پر وہ عمل پیرا ہوئے اور یہاں عمل، اللہ تعالیٰ کے لئے ان کا صبر کرنا ہے۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی واضح ہے کہ جس نے صبر نہ کیا انہیں وہ کچھ حاصل ہوگا جو صبر کرنے والوں کی ضد ہے، یعنی مذمت، عقوبت، گمراہی اور خسارہ (اعاذنا اللہ منھا) پس دونوں قسموں کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے، الہ صبر کے لئے کتنی کم مشقت اور بے صبروں کے لئے کتنی بڑی تکلیف ہے۔ یہ دونوں آیتیں نفوس کو مصائب کے نازل ہونے سے پہلے ان مصائب کو خوش دلی سے قبول کرنے پر آمادہ کرتی ہیں، تاکہ جب مصائب نازل ہوں، تو وہ آسانی سے برداشت ہوسکیں۔ ان آیات میں اس امر کا بھی بیان ہے کہ جب مصیبت نازل ہو تو کس چیز سے اس کا مقابلہ کیا جائے اور وہ ہے صبر۔ اس چیز کا بھی بیان ہے جو صبر پر مددگار ہوتی ہے، نیز یہ کہ صبر کرنے والوں کے لئے کیا اجر و ثواب ہے۔ ان سے بے صبر لوگوں کا حال بھی واضح ہوتا ہے جو صبر کرنے والوں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ ابتلاء و امتحان اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے اور تو اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا۔ نیز ان آیات کریمہ میں مصائب کی مختلف انواع کا بیان ہے۔