سورة البقرة - آیت 145

وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَّا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ ۚ وَمَا أَنتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ ۚ وَمَا بَعْضُهُم بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ۚ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ إِنَّكَ إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

آپ ان اہل کتاب کے پاس کوئی بھی نشانی [١٨٠] لے آئیں وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے، نہ ہی آپ ان کے قبلہ کی پیروی کرسکتے ہیں بلکہ کوئی بھی دوسرے کے قبلہ کی [١٨١] پیروی کرنے والا نہیں اور اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس علم کے بعد، جو آپ کے پاس آ چکا ہے، ان کی خواہشات کی پیروی کریں گے [١٨٢] تو یقینا آپ کا شمار ظالموں میں ہوگا

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مخلوقات کی ہدایت کی بہت تمنا اور آرزو کیا کرتے تھے اور ان کی نہایت درجہ خیر خواہی کرتے تھے۔ نرمی اور پیار سے انہیں ہدایت کی راہ پر لانے کی کوششیں کیا کرتے تھے اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت نہیں کرتے، تو یہ امر آپ کو نہایت غمگین کردیتا تھا۔ پس کافروں میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے اللہ کے حکم کے مقابلے میں سرتابی اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین ( علیہ السلام) کے ساتھ تکبر سے پیش آئے اور جان بوجھ کر ظلم و عدوان کی بنا پر ہدایت کو چھوڑ دیا۔ انہی میں سے پہلے اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ ہیں جنہوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جہالت کی بنا پر نہیں، بلکہ یہ یقین رکھتے ہوئے انکار کیا کہ آپ نبی ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو آگاہ فرمایا : (آیت) وَلَیِٕنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ بِکُلِّ اٰیَۃٍ ” اگر آپ ان اہل کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آئیں۔“ یعنی اگر آپ ان کے سامنے ہر قسم کی دلیل اور برہان پیش کردیں جو آپ کی بات اور دعوت کو واضح کردیں (آیت) مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَکَ ۚ ” تو بھی یہ آپ کے قبلے کی پیروی نہ کریں گے۔“ یعنی تب بھی وہ آپ کی اتباع نہیں کریں گے، کیونکہ قبلہ کی طرف منہ کرنا درحقیقت آپ کی اتباع کی دلیل ہے اور اس لئے کہ اصل سبب قبلے کا معاملہ ہے اور معاملہ واقعی ایسا ہے، کیونکہ وہ حق کے ساتھ عناد رکھتے ہیں انہوں نے حق کو پہچانا اور اسے چھوڑ دیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے صرف وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو حق کا متلاشی ہو اور حق اس پر مشتبہ ہوگیا ہو، تب یہ آیات بینات اس پر حق کو واضح کردیتی ہیں اور جو کوئی اس بات پر اڑ جاتا ہے کہ وہ حق کی اتباع نہیں کرے گا تو اسے حق کی طرف لانے کی کوئی صورت نہیں۔ نیز ان میں آپس میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے قبلہ کیپ یروی نہیں کرتے۔ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں کہ وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کرتے، کیونکہ وہ دشمن اور حاسد ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت) وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــعٍ قِبْلَتَہُمْ ۚ (ولاتتبع) سے زیادہ بلیغ ہے، کیونکہ یہ لفظ اس بات کو متضمن ہے کہ رسول اللہ (آیت) ان کی مخالفت سے متصف ہیں، پس آپ سے اس کا وقوع ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا (ولو اتوابکل ایۃ) کیونکہ ان کے پاس اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لئے کوئی دلیل ہی نہیں۔ اسی طرح جب یقینی دلائل و براہین سے حق واضح ہوجاتا ہے، تو اس پر وار و شبہات کا جواب دینا لازم نہیں، کیونکہ ان شبہات کی تو کوئی حد نہیں اور ان کا بطلان واضح ہے، کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ جو چیز واضح حق کے منفای ہو وہ باطل ہوتی ہے۔ تب شبہ کو حل کرنا تبرع کے زمرے میں آئے گا۔ (یعنی بغیر ضرورت کے محض خشوی سے شبہات کا ازالہ کرنا) (آیت)ۭ وَلَیِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ ” اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی“ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے (اھوانھم) ” ان کی خواہشات“ کا لفظ استعمال کیا ہے اور اس کی بجائے (دینھم) ” ان کا دین“ کا لفظ استعمال نہیں کیا، کیونکہ وہ محض اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے تھے۔ حتی کہ وہ خود بھی یہ جانتے تھے کہ یہ دین نہیں ہے اور جو کوئی دین کو چھوڑ دیتا ہے وہ لامحالہ خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے۔ حتی کہ وہ خود بھی یہ جانتے تھے کہ یہ دین نہیں ہے اور جو کوئی دین کو چھوڑ دیتا ہے وہ لامحالہ خواشہات نفس کی پیروی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) افرائیت من اتخذ الھہ ھواہ (الجاثیہ ٢٣) ” بھلا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے؟“ (آیت) مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَکَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ” اس کے بعد کہ آپ کے پاس علم آچکا ہے۔“ یعنی یہ جان لینے کے بعد کہ آپ حق پر اور وہ باطل پر ہیں (آیت) انک اذا۔” تب آپ“ یعنی اگر آپ نے ان کی اتباع کی، یہ احتراز ہے، تاکہ یہ جملہ اپنے ماقبل جملے سے علیحدہ نہ رہے، خواہ وہ افہام ہی میں کیوں نہ ہو۔ (آیت) لمن الظالمین ” ظالموں میں سے ہوجائیں گے۔“ یعنی آپ کا شمار ظالموں میں ہوگا اور اس شخص کے ظلم سے بڑھ کر کون سا ظلم ہے جس نے حق اور باطل کو پہچان کر باطل کو حق پر ترجیح دی۔ یہ خطاب اگرچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے تاہم آپ کی امت اس میں داخل ہے نیز اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی یہ کام کیا ہوتا، حاشا وکلا، آپ سے یہ ممکن نہیں تھا، تو آپ بھی اپنے بلند متربہ اور نیکیوں کی کثرت کے باوجود ظالموں میں شمار ہوتے تب آپ کے علاوہ کوئی دوسرا تو بطریق اولیٰ بڑا ظالم ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :