سورة البقرة - آیت 144

قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا ۚ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ ۗ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

ہم تمہارے چہرہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔ لہذا ہم آپ کو اسی قبلہ کی طرف پھیر دیتے ہیں جو آپ کو پسند ہے۔ سو اب آپ اپنا رخ مسجد الحرام (کعبہ) کی طرف پھیر لیجئے۔ اور جہاں کہیں بھی تم لوگ ہو، اپنا رخ اسی کی طرف پھیر لیا کرو۔ اور جن لوگوں کو کتاب (تورات) دی گئی ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ تحویل قبلہ کا یہ حکم ان کے رب کی طرف [١٧٩] سے ہے اور بالکل درست ہے۔ (اس کے باوجود) جو کچھ یہ کر رہے ہیں، اللہ اس سے بے خبر نہیں۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

اللہ تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا ہے : (آیت) قَدْ نَرٰی تَـقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَاۗءِ ۚ ” ہم تمہارا آسمان یک طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔“ یعنی ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ آپ استقبال کعبہ کے بارے میں ناول وحی کے شوق اور انتظار میں اپنا منہ تمام جہات میں کثرت سے پھیرتے ہیں یہاں اللہ تعالیٰ نے (آیت) وجھک۔ ارشاد فرمایا ہے (بصرک) نہیں، کیونکہ اس سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فکر و غم کی زیادتی کو بیان کرنا مقصود ہے، نیز چہرہ پھیرنا نظر پھیرنے کو بھی شامل ہے۔” سو ہم آپ کو پھیر دیں گے۔“ یعنی چونکہ ہم آپ کے سرپرست اور مددگار ہیں اس لئے ہم ضرور آپ کا منہ پھیر دیں گے (آیت) قِبْلَۃً تَرْضٰیھَا ۠” اس قبلہ کی طرف جس کو آپ پسند کرتے ہیں۔“ یعنی ہم آپ کا منہ اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں اور وہ ہے کعبہ شریف۔ اس آیت کریمہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شرف و فضیلت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پسندیدہ امر کے مطابق حکم نازل کرنے میں جلدی فرمائی۔ اس کے بعد اللہ نے آپ کو استقبال کعبہ کا صراحتاً حکم فرمایا۔ چنانچہ فرمایا : (آیت) فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۭ” پس اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف موڑ لیں“ (وجہ) سے مراد انسان کے بدن کے سامنے کا حصہ ہے۔ فرمایا : (آیت) وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ” اور تم جہاں کہیں بھی ہو“ یعنی بحر و بر، مشرق و مغرب اور شمال و جنوب جہاں کہیں بھی ہو (آیت) فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ ” پس اپنے چہروں کو اس جہت کی طرف پھیر لو۔“ اس آیت کریمہ سے واضح ہے کہ تمام نمازوں میں، خواہ فرض ہوں یا نفل اگر عین کعبہ کی طرف منہ کرناممکن ہو تو اس کی طرف منہ کرنا فرض ہے ورنہ اس کی طرف اور جہت میں منہ کرلین اکافی ہے اور یہ کہ نماز کے اندر بدن کے ساتھ ادھر ادھر التفات کرنا نماز کو باطل کرنے والا عمل ہے، کیونکہ کسی چیز کی بات حکم دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی ضد ممنوع ہے۔ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب وغیرہ میں سے اعتراض کرنے والوں کا ذکر کیا ہے وہاں ان کے اعتراض کا جواب بھی دیا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اہل کتاب اور ان کے اہل علم جانتے ہیں کہ آپ اس معاملے میں واضح حق پر ہیں، کیونکہ انہیں اپنی کتابوں میں اس نبی کی نشانیاں ملتی ہیں۔ اس لئے وہ عناد اور سرکشی کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں۔ پس جب وہ اپنے کرتتوں کی وجہ سے مبتلائے غم ہیں تو تم ان کے اعتراضات کی پرواہ نہ کرو۔ اس لئے کہ انسان کو صرف اس اعتراض کرنے والے کا اعتراض غم میں ڈالتا ہے، جب معاملہ مشتبہ ہو اور اس کا امکان ہو کہ صواب (صحیح بات) اس کے ساتھ ہو۔ لیکن جب یہ یقین ہوجائے کہ حق صواب اس شخص کے ساتھ ہے جس پر اعتراض کیا جا رہا ہے اور اعتراض کرنے والا محض عناد سے کام لے رہا ہے اور اسے یہ بھی علم ہے کہ معترض کا اعتراض باطل ہے تو اسے پروا نہیں کرنی چاہئے، بلکہ اسے اتنظار کرنا چاہئے کہ معترض کو دنیاوی اور اخروی عقوبت کا ضرور سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ۔ اللہ ان کے اعمال سے بے خبر نہیں“ بلکہ وہ ان کے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ اس آیت کریمہ میں اعتراض کرنے والوں کے لئے وعید اور اہل ایمان کے لئے تسلی ہے۔