سورة ھود - آیت 31

وَلَا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ إِنِّي مَلَكٌ وَلَا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ لَن يُؤْتِيَهُمُ اللَّهُ خَيْرًا ۖ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِي أَنفُسِهِمْ ۖ إِنِّي إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے [٣٨] ہیں، نہ یہ کہتا ہوں کہ میں غیب جانتا ہوں، نہ یہ کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ہی میں یہ کہتا ہوں کہ جن لوگوں کو تم حقیر سمجھتے ہو۔ اللہ انھیں کبھی بھلائی سے نوازے گا ہی نہیں۔ جو ان کے دلوں میں ہے وہ تو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ اگر میں ان سب باتوں سے کوئی بھی بات کہوں تو یقینا میں ظالموں سے ہوجاؤں گا

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(ولا اقول لکم عندی خزائن اللہ ) ” اور میں تم سے نہیں کہتا ہے کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں“ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں، میں تمہیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمہیں برے انجام سے ڈراتا ہوں، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں۔ (ولا اعلم الغیب) ” اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں“ کہ میں تمہارے سینے کے بھیدوں اور تمہارے ” رازدروں“ کے بارے میں تمہیں آگاہ کرسکوں۔ (ولا اقول انی ملکٌ)’ اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔“ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں۔ (ولا اقول للذین تردری اعینکم) ” اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمہاری آنکھوں میں حقیر ہیں“ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سردار ان قوم حقیر سمجھتے تھے۔ (لن یوتیھم اللہ خیراً اللہ اعلم بما فی انفسھم) ” اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے“ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لئے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ (انی اذاً) ” بے شک میں تب“ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے (لمن الظلمین) ” ظالموں میں سے ہوں گا“، نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کرلیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کرسکتے ہیں۔