سورة ھود - آیت 27

فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ مَا نَرَاكَ إِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ وَمَا نَرَىٰ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

تو اس کی قوم کے کافر سرداروں نے جواب دیا : ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا [٣٤] ? دمی خیال کرتے ہیں اور جو تیرے پیروکار ہیں [٣٥] وہ بادی النظر میں ہمیں کمینے معلوم ہوتے ہیں۔ پھر تم لوگوں کو ہم پر کسی طرح کی فضیلت بھی نہیں بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا ہی سمجھتے ہیں''

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(فقال الملاء الذین کفرو من قومہ ) ” تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔“ یعنی جناب نوح (علیہ السلام) کی قوم کے اشراف اور روئسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیساکہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنہوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے : (ما نرک الا بشراً مثلنا) ” ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں“ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انہیں نوح (علیہ السلام) کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں، کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کرسکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کرسکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کرسکتا ہے۔ (ومانرک اتبعک الا الذین ھم اراذلنا ) ” اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں۔“ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں۔۔۔۔۔۔ حالانکہ وہ، در حقیقت، اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنہوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑح کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ (بادی الرای) ” سرسری نظر والے“ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں، بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں۔ حالانکہ انہیں معلوم نہیں کہ واضح حق ہے وہ ہے جس کی طرف عقل بد یہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں۔ (ومانری لکم علینا من فضل) ” اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔“ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمہاری اطاعت کریں (بل نظنکم کذبین) ” بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا گمان کرتے ہیں“ انہوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا، کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی تائید کے لئے نازل فرمایا تھا، کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی تائید کے لئے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انہیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں۔