سورة ھود - آیت 22

لَا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِي الْآخِرَةِ هُمُ الْأَخْسَرُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اس میں کوئی شک نہیں کہ آخرت میں یہی سب سے زیادہ نقصان [٢٧] اٹھانے والے ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(لاجرم) ” بلا شبہ“ یعنی یہ بات حق اور سچ ہے کہ (انھم فی الاخرۃ ھم الاخسرون) ” وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ان پر منحصر کردیا ہے، بلکہ ان کے لئے شدید ترین خسارہ مقرر کیا، کیونکہ ان کی حسرت اور محرومی نہایت شدید ہوگی۔ مشقت اور عذاب ان پر مستزاد ہوگا۔ ہم ان کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔