سورة ھود - آیت 13

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

یا وہ یہ کہیں کہ ''اس نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے'' آپ ان سے کہئے کہ : اگر تم اس دعویٰ میں سچے ہو تو تم بھی اس جیسی دس سورتیں گھڑ لاؤ [١٦] اور اللہ کے سوا جس جس کو تم بلا سکو بلا لو

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(ام یقولون افترہہ) ” کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس (قرآن) کو از خود بنا لیا ہے“ یعنی اس قرآن کو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : (قل) ان سے ” کہہ دیجیے !“ (فاتو بعشر سورمثلہ مفتریت وادعو من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صدقین) ” اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس صورتیں بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلا لو۔“ یعنی اگر اس قرآن کو تمہارے قول کے مطابق۔۔۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی طرف سے تصنیف کیا ہے، تب تو فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے تمہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان کوئی فرق نہیں اور تم حقیقی دشمن ہو اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے ابطال کے لئے انتہائی حریص ہو۔۔۔ اگر تم اپنے موقف میں سچے ہو تو اس جیسی دس سورتیں گھڑ لاؤ۔