سورة ھود - آیت 9

وَلَئِنْ أَذَقْنَا الْإِنسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اگر ہم کسی انسان کو اپنی رحمت کا مزا چکھائیں پھر وہ اس سے چھین لیں تو وہ مایوس ہو کر ناشکری کرنے لگتا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

اور البتہ اگر چکھائیں ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت، پھر چھین لیں ہم وہ (رحمت) اس سے تو بیشک (ہوجاتا ہے) وہ انتہائی ان امید، بہت ناشکرا۔ اور البتہ اگر چکھائیں ہم اسے راحت بعد اس تکلیف کے جو پہنچی اسے تو ضرور کہے گا چلی گئیں برائیاں (دکھ درد) مجھ سے، بلا شبہ وہ بہت اترانے والا، بڑا شیخی بگھانے والا ہے۔ مگر وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اور عمل کئے نیک، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے مغفرت اور اجر بہت بڑا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ جاہل اور ظالم ہے بایں طور کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے، مثلاً اسے صحت، رزق اور اولاد وغیرہ سے نوازتا ہے، پھر وہ اس سے چھین لیتا ہے، تو مایوسی اور ناامیدی کے سامنے جھک جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ثواب کی اسے ذرہ بھر امید نہیں رہتی ہے اور اس کے دل میں یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ تمام چیزیں دوبارہ عطا کرسکتا ہے یا ان جیسی اور چیزوں سے یا ان سے بہتر چیزوں سے اسے نواز سکتا ہے۔