سورة ھود - آیت 1

الر ۚ كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

ا۔ ل۔ ر یہ ایسی کتاب ہے جس کی آیات کو محکم [١] بنایا گیا ہے اور یہ حکیم و خبیر ہستی کی طرف سے تفصیلاً بیان کی گئی ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

تفسیر سورۃ ھود آیت : ( 1-4) (کتب) یہ عظیم کتاب اور بہترین فضل و عنایت ہے۔ (احکمت ایتہ) ” جس کی آیتیں مستحکم ہیں۔“ یعنی اس کی آیات کو بہت اچھے اور محکم طریقے سے بیان کیا گیا ہے‘ اس کی خبریں سچی‘ اس کے او امر و نواہی عدل پر مبنی‘ اس کے الفاظ نہایت فصیح اور اس کے معانی بہت خوبصورت ہیں۔ (ثم فصلت) ” پھر ان کی تفصیل بیان کردی گئی“ یعنی ان کو علیحدہ علیحدہ اور معانی و بیان کی بہترین انواع کے ذریعے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ (من لدن حکیم) ” حکمت والے کی طرف سے“ وہ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق جگہ پر نازل کرتا ہے۔ صرف اسی چیز کا حکم دیا ہے اور اسی چیز سے روکتا ہے جس کا تقاجا اس کی حکمت کرتی ہے (خبیر) وہ تمام ظاہر و باطن کی خبر رکھتا ہے۔ جب اس کتاب کا محکم کرنا اور اس کی تفصیل حکمت والی اور خبردار ہستی کی طرف سے ہے تب اس ہستی کی عظمت و جلال‘ حکمت و کمال اور بے کراں رحمت کے بارے میں مت پوچھ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم کتاب کو محض اس مقصد کے لئے نازل فرمایا (الا تعبدوا الا اللہ) ” کہ عبادت صرف اللہ کی کرو“ یعنی دین کو تمام تر اللہ تعالیٰ کے خالص کرنے کے لئے نازل فرمایا نیز یہ کہ اس کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے۔ (انی لکم) ” بے شک میں تمہارے لئے) (منہ) ” اس کی طرف سے“ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے (نذیر) ” ڈر سنانے والا“ یعنی اس شخص کو دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتا ہے۔ (وبشیر) ” اور خوشخبری دینے والا۔“ یعنی اطاعت گزار بندوں کو دنیا و آخرت کے ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں۔ (وان استغفروا ربکم) ” اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو“ یعنی ان گناہوں کی بخشش مانگو جو تم سے صادر ہوئے ہیں۔ (ثم توبوا الیہ) ” پھر اس کی طرف توبہ کرو۔“ یعنی اپنے عمر میں جن گناہوں سے سابقہ پڑتا ہے اللہ تعالیی کی طرف رجوع کے ذریعے سے توبہ کرو اور جن امور کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے‘ انہیں چھوڑ کر ان امور کی طرف لوٹو جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو توبہ و استغفار پر مترتب ہوتے ہیں۔ فرمایا : (یمتعکم متاعا حسنا) ” وہ تمہیں متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا“ یعنی وہ تمہیں رزق عطا کرے گا جس سے تم استفادہ کرو گے اور منتفع ہو گے۔ (الی اجل مسمی) ” ایک وقت مقرر تک“ یعنی تمہاری وفات تک (ویوت کل ذی فضل فضلہ) ” اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی دے گا۔“ یعنی وہ تم میں سے اہل احسان کو اپنے فضل وکرم سے نوازے گا جو چیز انہیں پسند ہے وہ حاصل ہوگی جو ناپسند ہے وہ ان سے ہٹا دی جائے گی۔ یہ ان کی نیکی کی جزا ہے۔ (وان تولوا) ” اگر تم نے روگردانی کی۔“ یعنی اگر تم نے اس دعوت سے روگردانی کی جو میں نے تمہیں پیش کی ہے‘ بلکہ تم نے اعراض کیا ہے اور بسا اوقات دعوت کو جھٹلایا ہے۔ (فانی اخاف علیکم عذاب یوم کبیر) ” تو میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے“ اور وہ ہے روز قیامت‘ جس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا۔ (الی اللہ مرجعکم) ” تمہی اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے“ تاکہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے اگر اعمال نیک ہوں گے‘ تو جزا اچھی ہوگی اور اگر اعمال برے ہوں گے‘ تو بدلہ بھی برا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (وھو علی کل شیء قدیر) ” وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور مروں کو زندہ کرنا بھی ” ہر زیا“ کے زمرے میں شامل ہے اور اس کی خبر سب سے سچی ہستی نے دی ہے۔ پس اس خبر کا وقوع عقلاً اور نقلاً واجب ہے۔