سورة یونس - آیت 75

ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِم مُّوسَىٰ وَهَارُونَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ بِآيَاتِنَا فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِمِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

پھر اس کے بعد ہم نے اپنے معجزے دے کر موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو وہ اکڑ گئے [٨٩] اور وہ تھے ہی مجرم لوگ

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت : ( 75-93) (ثم بعثنا من بعدھم) ” پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا“ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ (موسیٰ) اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو‘ جو ایک اولو العزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کئے گئے۔ (وھرون) اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ (الی فرعون وملاۂ) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف“ یعنی فرعون‘ اس کے اکابرین اور رؤسائے سلطنت کی طرف‘ کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں (بایتنا) ” اپنی نشانیوں کے ساتھ“ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت اور دلالت کرتی تھیں جنہیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے‘ یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ (فاستکبرو) ” پس انہوں نے تکبر کیا“ یعنی انہوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا (وکانوا قوما مجرمین) ” اور وہ گناہ گار لوگ تھے۔“ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔ (فلما جاء ھم الحق من عندنا) ” پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا“ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑٰ نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرا فگندہ ہوجاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العلمین‘ جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر حق آیا تو انہوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ (قالو ان ھذا لسحر مبین) ” اور کہا‘ یہ تو کھلا جادو ہے“ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انہوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انہوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کردیا۔۔۔۔ بلکہ انہوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل‘ یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے۔۔۔ بلکہ انہوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا۔۔۔۔ حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے۔۔۔۔۔ ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے۔۔۔۔۔ ان کو زجرو توبیخ کرتے ہوئے فرمایا : (اتقو لون للحق لما جائکم) ” کیا تم یہ کہتے ہو حق کو‘ جب وہ تمہارے پاس آیا“ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے (اسحر ھذا) ” کیا یہ جادو ہے؟“ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے مجرود اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہوجاتا ہے کہ یہ حق ہے (ولا یفلح اسحرون) ” اور جادو گر فلاح نہیں پاتےُ“ یعنی جادو گر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے‘ کس کے لئے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انہیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) تھے جنہوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفر یاب ہوئے۔ (قالوا) انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا : (اجئتنا لتلفتنا عما وجدنا علیہ اباء نا) ” کیا تم ہمارے پاس اس لئے آٗے ہو‘ تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔“ مثلاً شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمین حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انہوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انہوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے۔ (وتکون لکما البیریاء فی الارض) ” اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے“ یعنی تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلافت حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰ (علیہ السلام) کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔ جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کرسکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا‘ کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہیں ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے‘ لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کردیا جائے‘ تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مد مقابل کے قول کو رد کر دے‘ کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور انے مد مقابل کو یہ نہ کہتا ” تیرا مقصد یہ ہے“ اور ” تیری مراد وہ ہے“ خواہ وہ اپنے مد مقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا۔۔۔۔۔۔ تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے احولا اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا۔۔۔۔۔۔ یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لئے فائدہ مند ہیں۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انہوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا (وما نحن لکما بمومنین) ” ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے“ یعنی انہوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ” ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔“ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادہ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر لگا رہے تھے۔ (وقال فرعون) ” اور فرعون نے کہا“ یعنی فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت‘ اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لئے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا : (ائتونی بکل سحر علیم) ” سب ماہر فن جادو گروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔“ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادو گر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہر کارے دوڑائے‘ تاکہ وہ مختلف قسم کے جادو گروں کو اس کے پاس لے آئیں۔ (فلما جاء السحرۃ) ” پس جب جادو گر آئے“ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرنے کے لئے (قال لھم موسیٰ القوا ما انتم ملقون) ” تو ان سے موسیٰ نے کہا‘ ڈالو جو تم ڈلاتے ہو۔“ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمہارے لئے کچھ مقرر نہیں کروں گا۔۔۔۔ اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو ان پر غالب آنے کا پوریٰ یقین تھا‘ اس لئے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کو کان سا کرتب دکھاتے ہیں۔ (فلما القوا) ” پس جب انہوں نے ڈالا“ یعنی جب انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں‘ تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں۔ (قال موسیٰ ماجئتم بہ السحر) ” موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے‘ وہ جادو ہے“ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑ ؁ ہونے کے باوجود (ان اللہ سیبطلہ ان اللہ لا یصلح عمل المفسدین) ” اللہ اسے باطل کرے دے گا‘ یقیناً اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔“ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہوسکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے‘ تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہوجاتا ہے ہرچند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہوجاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار‘ تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد‘ اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال ووسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہیا اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشونما دیتا رہتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کے باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ (ویحق اللہ الحق بکلمتہ ولو کرہ المجرمون) ” اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے‘ اگرچہ گناہ گاروں کو ناگوار ہو“ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے سر اطاعت خم کردیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انہوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور اپنے تمام ایمان میں ثابت قدم رہے۔ رہا فرعون‘ اس کے اشراف قوم اور اس کے متبعین‘ تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا‘ بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں ہے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (فما امن لموسیٰ الا ذریۃ من قومہ) ” پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر‘ مگر کچھ لڑخے اس کی قوم کے“ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے‘ جنہوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہوجانے کی وجہ سے خوف کے مقابل میں صبر سے کام لیا۔ (علی خوف من فرعون وملاءھم ان یفتنھم) ” فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں“ یعنی ان کے دین کے معاملے میں (وان فرعون لعال فی الارض) ” اور بے شک فرعون ملک میں متکبر و متغلب تھا“ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لئے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ (و) ” اور“ خاص طور پر (انہ لمن المسرفین) ” وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔“ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم۔۔۔۔۔۔ کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں۔ اس کے برعکس بوڑھے جنہوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے‘ ان کے دلون میں چونکہ عقائد فاسد راسخ ہوتے ہیں‘ اس وجہ سے وہ‘ دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں۔ (وقال موسیٰ) موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں‘ کہا : (یقوم ان کنتم امنتم باللہ) ” اے میری قوم : اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر“ تو وظیفہء ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔ (فعلیۃ توکلواان کنتم مسلمین) ” تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو‘ اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ (فقالوا) انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا : (علی اللہ توکلنا ربنا لا تجعلنا فتنۃ للقوم الظلمیں) ” ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا‘ اے ہمارے رب‘ ہمٰن ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آ کر ہمیں آزمائش میں ڈالی اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ (ونجنا برحمتک من القوم الکفرین) ” اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔“ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہوسکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کرسکیں۔ (واوحینا الی موسیٰ واخیہ) ” اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی“ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انہوں نے چالا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں‘ (ان تبوا لقومکما بمصر بیوتا) ” کہ تم دونوں اپنی قوم کے لئے مصر میں گھر بناؤ“ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مسر میں اپنے لئے کچھ گھر مقرر کرلیں جہان وہ چھپ سکیں۔ (واجعلوا بیوتکم قبلۃ) ” اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) ٹھہراؤ“ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کرسکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ (واقیموا الصلوۃ) ” اور نماز قائم کرو“ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ (وبشر المومنین) ” اور مومنوں کو خوشخبری سنا دو۔“ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبہء دین کی خوشخبری سنا دیجئے‘ کیونکہ تنگی کے ساتھ کئی آسانیاں ہوتی ہیں اور یقیناً تنگی کے ساتھ کئی آسانیاں ہوتی ہیں۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہوجاتا ہے‘ تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کردیتا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا‘ تو ان کے لئے بددعا کی اور ہارون (علیہ السلام) نے اس پر آمین کہی‘ چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کی : (ربنا انک اتیت فرعون وملاہ زینۃ) ” اے ہمارے رب ! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت“ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات‘ ملبوسات‘ سجے ہوئے گھر‘ اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ‘ دنیاوی آرائشوں کو اپنا لئے زینت بناتے ہیں۔ (واموالا) اور بڑے بڑے مال (فی الحیوۃ الدنیا ربنا لیضلوا عن سبیلک) ” دنیا کی زندگی میں‘ اے ہمارے رب‘ تاکہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں“ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں‘ خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ (ربنا اطمس علی اموالھم) ” اے ہمارے رب ! ان کے مال کو برباد کر دے“ یعنی ان کے مال و دولت کو‘ تبالی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کرسکیں۔ (واشدد علی قلوبھم) ” اور ان کے دلوں کو سخت کر دے“ (فلا یومنوا حتیٰ یروالعذاب الالیم) ” پو سہ نہ ایمان لائیں‘ یہاں تک کہ درد ناک عذاب دیکھ لیں۔“ یہ بددعا انہوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی‘ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی‘ اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا‘ نیز موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بد اعمالیوں کی سزا دے گا۔ (قال قد اجیبت دعوتکما) ” اللہ نے فرمایا تمہاری دعا قبول ہوئی“۔۔۔۔۔ آیت کریمہ میں ثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) دعا کرتے جاتے تھے اور ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے‘ وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ (فاستقیما) ” پس دونوں ثابت قدم رہنا“ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ (ولا تتبعن سبیل الذین لا یعلمون) ” اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔“ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنہوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انہوں نے اس بات سے بھی آگاہ کردیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیئے جو اعلان کرتے ہوئے (ان ھولاء) ” یہ لوگ“ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم (لشر ذمۃ قلیلون۔ وانھم لنا لغائظون۔ وانا لجمیع حذرون) (الشعاء : 54-56/26) ” ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بساز و سامان تیار ہیں۔“ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر مع کر لئے اور اس نے انے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انہیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔ (وجوزنا ببنی اسرائیل البحر) ” اور پار کردیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے“ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ساتھ سمند پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمند پر اپنا عصا ماریں‘ انہوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی ھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمند میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم مکمل طور پر سمند سے باہر آگئے اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے‘ تو اللہ تعالیٰ نے سمدر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کردیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا (امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنوا اسراء یل) ” میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے“ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وانا من المسلمین) ” اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے۔۔۔۔۔۔۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا۔۔۔۔۔ فرمایا : (الئن) ” اب“ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ (وقد عصیت قبل) ” حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا“ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ (وکنت من المفسدین) ” اور تو شرارتیوں میں سے تھا“ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادی الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں‘ تو ان کا ایمان لانا انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتا‘ کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے‘ جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ (فالیوم ننجیک ببدنک لتکون لمن خلفک ایۃ) ” پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں‘ تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لئے نشانی ہو“ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انہیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انہیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے‘ تاکہ وہ لوگوں کے لئے نشان عبرت بن جائے۔ (وان کثیرا من الناس عن ایتنا لغفلون) ” اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں۔“ بنا بریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکر اراں ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے‘ کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیت ان امور پر سے سے بڑی دلیل ہیں جنہیں رسول لے کر آئے ہیں۔ (ولقد بوانا بنی اسرائیل مبوا صدق) ” اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ“ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھرون کا مالک بنا دیا۔ (ورزقنھم من الطیبت) ” اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں“ مطعومات اور مشروبات وغیرہ (فما اختلفوا) ” پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی“ یعنی حق کے بارے میں (حتیٰ جاء ءھم العلم) ” حتیٰ کہ ان کے پاس علم آگیا“ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یون ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ (ان ربک یقضی بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون) ” بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں‘ تمہارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔“ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے‘ قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یعنی وہ بیماری ہے‘ جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے‘ تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں‘ پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ وربہ جب ان کا رب ایک ہے‘ ان کا رسول ایک ہے‘ ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں‘ پھر کس لئے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں‘ ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں‘ ان کے نظم و ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہوجاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہوجاتے ہیں۔ اے اللہ ! ہم تیرے مومن بندوں کے لئے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں‘ جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے‘ جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے‘ جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے۔۔۔۔۔ یا ذالجلال و الاکرام :