سورة یونس - آیت 68

قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۖ هُوَ الْغَنِيُّ ۖ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ إِنْ عِندَكُم مِّن سُلْطَانٍ بِهَٰذَا ۚ أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ نے (کسی کو) بیٹا بنا لیا ہے۔ وہ (ایسی باتوں سے) پاک ہے۔ وہ بے نیاز [٨٢] ہے۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی [٨٣] کا ہے۔ تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں کیا تم اللہ کی نسبت وہ بات کہتے ہو جو تم جانتے نہیں؟

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت : ( 68-70) اللہ رب العالمین کے بارے میں مشرکین کیبہتان طرازی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (قالوا اتخذ اللہ ولدا) ” انہوں نے کہا‘ ٹھہرالی ہے اللہ نے اولاد“ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو اس سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا : (سبحنۃ) ” وہ پاک ہے“ یہ ظالم اللہ تعالیٰ کی طرف جو نقائص منسوب کرتے ہیں وہ ان سے بلند و برتر ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں متعدد دلائل ذکر کئے ہیں : (١) (ھوالغنی) ” وہ بے نیاز ہے۔“ یعنی عناد (بے نیازی) اسی میں منحصر ہے اور عناد کی تمام اقسام کا وہی مالک ہے۔ وہ غنی ہے جو ہر پہلو‘ ہر اعتبار اور ہر لحاظ سے نائے کامل کا مالک ہے۔ جب وہ ہر لحاظ سے غنی ہے تب وہ کس لئے بیٹا بنائے گا؟ کیس اس وجہ سے کہ وہ بیٹے کا محتاج ہے؟ یہ تو اس کے عنا اور بے نیازی کے منافی ہے۔ کوئی شخص صرف اسپنے عناد میں نقص کی بنا پر بیٹا بناتا ہے۔ ؂(٢) دوسری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (لہ ما فی السموت وما فی الارض) ” جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔“ یہ عام اور جامع کلمہ ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات اس کی ملکیت سے خارج نہیں‘ تمام موجودات اس کی مخلوق‘ اس کے بندے اور مملوک ہیں اور یہ بات معلوم اور مسلم ہے کہ یہ وصف عام اس بات کے منافی ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو‘ کیونکہ بیٹا اپنے باپ کی جنس سے ہوگا جو مخلوق ہوگا نہ مملوک۔ پس آسمانوں اور زمین کا اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہونا ولادت (اولاد ہونے) کے منافی ہے۔ (٣) تیسری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (ان عند کم من سلطن بھذا) ” تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں“ یعنی تمہارے پاس تمہارے اس دعویٰ پر کوئی دلیل نہیں ۃ ے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہے۔ اگر ان کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ اسے ضرور پیش کرتے۔ جب انہیں دلیل پیش کرنے کے لئے کہا گیا اور وہ دلیل قائم کرنے سے عاجز آگئے‘ تو ان کے دعوے کا بطلان ثابت ہوگیا اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ان کا قول بلا علم ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اتقولون علی اللہ مالا تعلمون) ’ کیا تم اللہ کے ذمے ایسی بات لگات ہو جو تم نہیں جانتے“ پس بلا علم اللہ تعالیٰ کی طرف بات منسوب کرنا سب سے بڑا حرام ہے۔ (قل ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون) ” کہہ دیجئے ! جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندتے ہیں‘ وہ کامیاب نہیں ہوں گے“ یعنی وہ اپنا مطلوب و مقصود حاصل نہ کرسکیں گے‘ وہ دنیاوی زندگی میں اپنے کفر اور جھوٹ کے ذریعے سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں گے پھر لوٹ کر اللہ کے حضور حاضر ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ انہیں ان کے کفر کی پاداش میں سخت عذاب کا مزہ چکھائے گا۔ (وما ظلمھم اللہ ولکن انفسھم یظلمون) (آلعمران : 118/3) ” اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔ “