سورة یونس - آیت 59

قُلْ أَرَأَيْتُم مَّا أَنزَلَ اللَّهُ لَكُم مِّن رِّزْقٍ فَجَعَلْتُم مِّنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ ۖ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

آپ ان سے کہئے : کیا تم نے سوچا کہ اللہ نے تمہارے لئے جو رزق [٧٣] اتارا تھا اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حرام قرار دے لیا [٧٤] اور کسی کو حلال تو کیا اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی تھی؟ یا تم اللہ پر افترا کرتے ہو؟

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت : (59-60) مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے اور حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دینے کے لئے تحریم و تحلیل کے جو ضابطے ایجاد کئے تھے‘ ان پر نکیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (قل ارئیتم ما انزل اللہ لکم من رزق) ” کہہ دیجئے‘ بھلا بتلاؤ اللہ نے تمہارے لئے جو روزی اتاری“ یعنی حلال جانوروں کی مختلف اقسام جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ذریعہ رزق اور رحمت بنایا ہے۔ (فجعلتم منہ حراما و حلالا) ” پس ٹھہرایا تم نے اس میں سے کچھ کو حرام اور کچھ کو حلال“ یعنی اس فاسد قول پر انکو زجرو توبیخ کرتے ہوئے ان سے کہہ دیجئے : (اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون) ” کیا اللہ نے تمکو حکم دیا یا اللہ پر تم جھوٹ باندھتے ہو؟“ اور یہ بات معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بات کا ہرگز حکم نہیں دیا پس ثابت ہوا کہ یہ لوگ افتراء پرداز ہیں۔ (وما ظن الذین یفترون علی اللہ لکذب یوم القیمۃ) ” اور کیا خیال ہے اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں کا قیامت کے دن“ یہ کہ ان کو سزا دے گا اور ان پر عذاب نازل کرے گا‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ویوم القمۃ تری الذین کذبوا علی اللہ وجوھھم مسودۃ) (الزممر : 60/39) ” اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا‘ آپ قیامت کے روز دیکھیں گے کہ ان کے چہرے سیاہ ہو رہے ہوں گے۔“ (ان اللہ لذ وفضل علی الناس) ” بے شک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ لوگوں پر بہت زیادہ فضل و احسان کرنے والا ہے۔ ٠ ولکن اکثرھم لا یشکرون) ” لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔“ یا تو اس کی صورت یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا نہیں کرتے یا وہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی میں نافرمانیوں میں استعمال کرتے ہیں یا ان میں سے بعض نعمتوں کو حرام ٹھہرا کر ان کو ٹھکرا دیتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرتے ہیں اور پھر اس نعمت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استعمال کرتے ہیں۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ کھانے والی تمام اشیاء میں اصل حلت ہے جب تک کہ اس کی حرمت پر شرعی حکم وارد نہ ہو‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر نکیر فرمائی ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس رزق کو حرام قرار دے دیا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے نازل کیا۔