سورة یونس - آیت 57

يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت آچکی۔ یہ دلوں کے امراض [٧١] کی شفا اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت : (57-58) اللہ تبارک و تعالیٰ کتاب کرم کے اوصاف حسنہ‘ جو بندوں کے لئے ضروری ہیں‘ بیان کر کے اس کی طرف متوجہ ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے : (یایھا الناس قد جائتکم موعظۃ من ربکم) ” اے لوگو ! تمہارے پاس تمہار تب کی طرف سے نصیحت آگئی“ یعنی وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے اور وہ تمہیں ان اعمال سے ڈراتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے موجب اور اس کے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں۔ وہ ان اعمال کے اثرات اور مفاسد بیان کرکے تمہیں ان سے بچاتا ہے۔ (وشفاء لما فی صدور) ” اور شفا دلوں کے روگ کی“ اور وہ یہی قرآن ہے جو امراض قلب‘ مثلاً امراض شہوات‘ جو شریعت کی اطاعت سے روکتے ہیں اور امراض شبہات‘ جو علم یقینی میں قادح ہیں۔۔۔۔ کے لئے شفا ہے۔ اس کتاب کریم کے اندر مواعظ‘ ترغیب و ترہیب اور وعد و وعید کے جو مضامین ہیں وہ بندے کے لئے رغبت و رہبت کے موجب ہیں۔ جب آپ اس کتاب کریم میں بھلائی کی طرف رغبت‘ برائی سے ڈر اور قرآن کے معانی میں بتکرار ایسا اسلونب پاتے ہیں‘ تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کے مراد کو نفس کی مراد پر مقدم رکھنے کی موجب بنتی ہے اور بندہ مومن کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی رضا شہوت نفس سے زیادہ محبوب بن جاتی ہے۔ اسی طرح اس کے اندر جو دلائل براہین ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے ذکر کیا ہے اور انہیں بہترین سلوب میں بیان کیا ہے جو ایسے شبہات کو زائل کردیتا ہے جو حق میں قادح ہیں اور اس کے ذریعے سے قلب یقین کے بلند ترین مراب پر پہنچ جاتا ہے اور جب قلب اپنی بیماری سے صحت یاب ہوجاتا ہے اور وہ لباس عافیت کو زیب تن کرلیتا ہے‘ تو جوارح اس کی پیروی کرتے ہیں اس لئے کہ جوارح‘ دل کی درستی سے درست رہتے ہیں اگر دل فاسد ہوجاتا ہے تو جوارح بھی خرابی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ (وھدی ورحمۃ للمومنین) ” اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت۔“ پس ہدایت ھق کے علم اور اس پر عمل کرنے کا نام ہے۔ اور ” رحمت“ سے مراد وہ بھلائی‘ اھسان اور دنیاوی و اخروی ثواب ہے جو ہدایت یافتہ انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ تب معلوم ہوا کہ ہدایت جلیل ترین وسیلہ اور رھمت کامل ترین مقصود و مطلوب ہے۔ اس کی طرف صرف اہلامان ہی کو راہ نمائی طا ہوتی ہے اور اہل ایمان ہی رحمت سے نوازے جاتے ہیں۔ جب بندہ مومن کو ہدایت حاصل ہوتی ہے اور اسے ہدایت سے جنم لینے والی رحمت سے نواز دیا جاتا ہے تو وہ سعادت‘ فلاح‘ نفع‘ کامیابی‘ فرحت اور سرور کے حصول میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمانکو خوش ہونے کا حکم دیا ہے‘ چنانچہ فرمایا : (قل بفضل اللہ) ” کہہ دیجئے ! اللہ کے فضل کے ساتھ“ فضل سے مراد قرآن ہے جو سب سے بڑی نعمت‘ احسان اور اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑافضل ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ (وبرحمتہ) ” اور اس کی مہربانی کے ساتھ“ یعنی دین‘ ایمان‘ اللہ تعالیٰ کی عبادت‘ اس کی محبت اور اس کی معرفت۔ (فئذلک فلیفر ھوا ھو خیر مما یجمعون) ” پس اس پر انہیں خوش ہونا چاہئے‘ یہ بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔“ یعنی دنیا کی متاع اور اس کی لذات سے بہتر ہے۔ دین کی نعمت‘ جس سے دنیا‘ آخرت کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔ دنیا کے تمام مال و متاع کا اس سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ دنیا کا مال و متاع تو عنقریب مضمحل ہو کر زائل ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فل و رحمت پر خوش ہونے کا صرف اس لئے حکم دیا ہے کہ یہ نفس کے انبساط‘ نشاط‘ اللہ تعالیٰ کے لئے اس کے شکر‘ اس کی قوت‘ علم و ایمان میں شدید رغبت کا موجب اور علم و ایمان میں ازدیا کا داعی ہے۔ یہ فرحت اور خوشی محمود ہے۔ اس کے برعکس دنیا کی شہوات و لذات اور باطل پر خوش ہونا مذموم ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قارون کے بارے میں اس کی قوم کا قول نقل فرمایا ہے : (لا تفرخ ان اللہ لا یحب الفرحین) (القصص : 76/28) ” کوشی میں اتراؤ مت ! اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا جو اپنے اس باطل پر اتراتے تھے جو انبیاء و رسل کی لائی ہوئی وحی کے متناقض تھا۔ (فلما جائتھم رسلھم بالبینت فرحوا بما عند ھممن العلم) (المومن : 83/40) ” جب ان کے رسول ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے‘ تو (بزعم خود) جو علم ان کے پاس تھا اس کی بنا پر اترانے لگے۔ “