سورة یونس - آیت 47

وَلِكُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ رَسُولُهُمْ قُضِيَ بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

ہر امت کے لئے ایک رسول ہے۔ پھر جب ان کے پاس رسول آتا ہے تو پورے انصاف کے ساتھ ان کا فیصلہ [٦٤] چکا دیا جاتا ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت : (47-49) (ولکل امۃ) ” ہر امت کے لئے“ یعنی گزشتہ امتوں میں سے ہر امت کے لئے (رسول) ایک رسول مبعوث کیا گیا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دین کی دعوت دیتا تھا۔ (فاذا جاء رسولھم) ” پس جب ان کا رسول آتا۔“ یعنی ان کے پاس آیات الٰہی لے کر آتا تو ان میں سے کچھ لوگ اس کی تصدیق کرتے اور دوسرے اس کو جھٹلاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرماتا‘ اہل ایمان کو نجات دیتا اور جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیتا۔ (وھم لا یظلمون) ” اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا“ یعنی رسول بھیجنے اور حجت قائم کرنے سے پہلے یا کسی جرم کے بغیر ان کو عذاب نہیں دیا گیا‘ اس لئے آپ کو جھٹلانے والے گزشتہ زمانوں میں ہلاک کی گئی قوموں کی مشابہت سے بچیں۔ ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہوجائے جو ان قوموں پر نازل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں یہ نہ سمجھیں کہ وہ دیر سے آئے گا اور پھر وہ یہ کہتے پھریں (متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین) ” کب ہے یہ وعدہ‘ اگر تم سچے ہو“ یہ ان کی طرف سے سخط ظلم کا رویہ ہے کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ آپ کے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔ آپ کی ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے اور لوگوں کے سامنے بیان کردینا ہے۔ رہا ان کا حساب و کتاب اور ان پر عذاب کا نازل کرنا تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ جب اس کی مدت معینہ اور حکمت الہیہ کے مطابق انکا وقت مقررہ آن پہنچے گا‘ تو ان کے ساتھ ایک گھڑی کی تاخیر نہ کی جائے گی نہ تقدیم۔ اس لئے اس کی تکذیب کرنے والے جلدی مچانے سے بچیں‘ کیونکہ وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے لئے جلدی مچاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا عذاب جب نازل ہوتا ہے تو مجرموں کی قوم پر نازل ہونے سے اسے روکا نہیں جاسکتا۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :