سورة یونس - آیت 37

وَمَا كَانَ هَٰذَا الْقُرْآنُ أَن يُفْتَرَىٰ مِن دُونِ اللَّهِ وَلَٰكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

قرآن ایسی چیز نہیں جسے اللہ کے سوا کوئی اور بناسکے [٥٢] بلکہ یہ تو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق (کرتی) ہے اور الکتاب [٥٣] کی تفصیل ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رب العالمین کی طرف سے (نازل شدہ) ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت : (37-41) (وما کان ھذا الرآن ان یفتری من دون اللہ) ” اور نہیں ہے یہ قرآن کہ اسے گھڑ یلا جائے اللہ کے ورے ورے ہی“ یعنی یہ غیر ممکن اور غیر متصور ہے کہ اس قرآن کو اللہ تعالیٰ پر گھڑ لیا گیا ہو کیونکہ یہ عظیم کتاب ہے۔ جس کے بارے میں فرمایا : (لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید) (حتم السجدۃ: 43/41) ” باطل کا دخل اس میں آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے‘ یہ دانا اور قابل ستائش ہستی کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے۔“ یہ ایسی کتاب ہے (لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یا توا بمثل ھذا القرآن لا یاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیرا) (بنی اسرائیل : 88/17) ” اگر تمام انسان اور جن اس بات پر اکٹھے ہوجائیں کہ وہ اس قرآن جیسی کوئی کتاب بنا کر لائیں تو اس جیسے کوئی کتاب نہ لا سکیں گے خواہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں۔ “ یہ وہ کتاب ہے جس کے ذریعے سے جہانوں کے پروردگار نے بندوں کے ساتھ کلام کیا‘ تب مخلوق میں سے کوئی ہستی اس جیسے کلام یا اس کے قریب قریب کلام پر کیوں کر قادر ہوسکتی ہے۔ حالانکہ کلام متکلم کی عظمت اور اس کے اوصاف کے تابع ہوتا ہے۔ اگر کوئی ہستی اپنی عظمت اور اپنے اوصاف کمال میں اللہ تعالیٰ جیسی ہوسکتی ہے‘ تو اس کے لئے یہ بھی ممکن ہے کہ اس قرآن جیسی کتاب بنا لائے۔ اگر ہم فض کرلیں کہ کسی نے اللہ تعالیٰ پر کتاب گھڑ لی ہے‘ تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور فوری سزا دیتا۔ (ولکن) مگر اللہ تعالیٰ نے کائنات پر بے پایاں رحمت اور تمام بندوں پر حجت کے طور پر اس کتاب کو نازل فرمایا (تصدیق الذین بین یدیہ) ” تصدیق کرتی ہے پہلے کلام کی“ یعنی آسمانی کتابیں جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں ان کی تصدیق ہے‘ یہ کتاب ان کی موافقت اور ان کی شہادت کی بنا پر ان کی تصدیق کرتی ہے‘ ان کتابوں نے اس کے نازل ہونے کی خوشخبری سنائی تھی اور پھر اسی طرح ہوا جس طرح ان کتب الیہہ نے خبر دی تھی۔ (وتفصیل الکتاب) ” اور کتاب کی تفصیل ہے۔“ یعنی اس میں حلال و حرام‘ احکام دینیہ‘ احکام قدریہ اور اخبار صادقہ کی تفصیل ہے۔ (لاریب فیہ من رب العلمین) ” اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔“ یعنی کسی بھی پہلو سے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں‘ بلکہ یہ یقینی حق ہے اور جہانوں کے پروردگار کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی پرورش اور اس کی تربیت کی۔ سب سے بڑی تربیت کی قسم یہ ہے کہ اس نے ان پر یہ کتاب نازل فرمائی جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح پر مبنی اور مکارم اخلاق اور محاسن اخلاق پر مشتمل ہے۔ (ام یقولون) ” کیا یہ کہتے ہیں؟“ یعنی اس کتبا کی تکذیب کرنے والے عناد اور تعدی کی بنا پر کہتے ہیں : (افترہ) ” اس نے خود اسے بنا لیا ہے“ یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو تصنیف کیا ہے۔ (قل) ” کہہ دیجئے“ یعنی ان پر اس کو لازم کرتے ہوئے کہ وہ جس کا دعویٰ کرتے ہیں اگر اس پر قدرت رکھتے ہیں تو وہ (اس جیسی کتاب) لے آئیں ورنہ ان کی بات باطل ہے۔ (وادعو من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صدقین) ’ اور بلا لو‘ جس کو تم بلا سکو اللہ کے سوا‘ اگر تم سچے ہو“ یعنی جو اس جیسی سورت بنا لانے میں تمہاری مدد کرے اور یہ محال ہے اگر ایسا کرنا ممکن ہوتا تو ضرور اس پر قدرت رکھنے کا دعویٰ کرتے اور اس جیسی کتاب لا دکھاتے۔ مگر چونکہ ان کی بے بسی ظاہر ہوگئی ہے اس لئے ان کا قول باطل ہوگیا جو کہ دلیل سے محروم ہے۔ وہ چیز جس نے ان کو قرآن‘ جو حق پر مشتمل ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی حق نہیں‘ کی تکذیب پر آمادہ کیا ہے‘ وہ یہ ہے کہ وہ اس کا علم نہیں رکتے۔ اگر وہ اس کا علم رکھتے ہوتے اور اگر انہوں نے اس کو سمجھ لیا ہوتا جیسا کہ سمجھنے کا حق ہے‘ تو وہ ضرور اس کی حقانیت کی تصدیق کرتے۔ اسی طرح اب تک ان کے پاس ان کے ساتھ کئے ہوئے اس وعدے کی حقیقیت‘ کہ اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نازل کرے گا اور ان کو سزا دے گا‘ نہیں آٗی۔ اور یہ تکذیب جو ان کی طرف سے صادر ہوئی ہے ان سے پہلے لوگوں کی طرف سے صادر ہونے والی تکذیب کی جنس سے ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (کذلک کذاب الذین من قبلھم فانظر کیف کان عاقبۃ الظلمین) ” اسی طرح جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے‘ پس دیکھو‘ کیسا انجام ظالموں کا“ اس سے مراد وہ عذاب ہے جس نے ان میں سیکوی کو باقی نہ چھوڑا‘ لہٰذا ان لوگوں کو تکذیب پر جمے رہنے سے بچنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ کہیں ان پر بھی وہ عذابنازل ہوجائے جو انبیاء و رسل کو جھٹلانے والی اور ہلاک ہونے والی قوموں پر نازل ہوا۔ یہ آیت کریمہ تمام امور میں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے اور اس سے یہ راہ نمائی بھی حاصل ہوتی ہے کہ انسان کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ کسی چیز کے بارے میں پوری حقیقت حال معلوم کئے بغیر اسے قبول یارد کر دے۔ (ومنھم من یومن بہ) ” اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں ساتھ اس کے“ یعنی قرآن کریم اور اس کی لائی ہوئی تعلیم پر ایمان رکھتے ہیں (ومنھم من لایومن بہ وربک اعلم بالمفسدین) ” اور بعض وہ ہیں جو اس کے ساتھ ایمان نہیں لاتے اور آپ کا رب شرارت کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔“ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے ظلم‘ عناد اور فساد کی بنا پر قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔ اللہ تعالیٰ ان کے فساد کی پاداش میں انہیں سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ (وان کذبوک) ” اگر وہ آ کو جھٹلاتے ہیں“ تو آپ ان کو اپنی دعوت پہنچاتے رہئے‘ ان کے حساب میں سے کچھ بھی آپ کے ذمے نہیں اور نہ آپ کا حساب ان کے ذمے ہے‘ ہر شخص کا عمل اسی کے لئے ہے۔ فرمایا : (فقل لی عملی ولکم عملکم انتم بریون مما اعمل وانا بری مما تعملون) ” آپ کہہ دیجئے ! میرے واسطے میرا عمل ہے اور تمہارے واسطے تمہارا عمل‘ تم میرے عمل سے بری ہو اور میں تمہارے عملوں سے بری ہوں“ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے (من عمل صالحا فلنفسہ ومن اساء فعلیھا) (حم السجدہ : 46/41) ” جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے‘ جو کوئی برا کام کرتا ہے تو اس کا ضرر اسی پر ہے۔ “