سورة یونس - آیت 30

هُنَالِكَ تَبْلُو كُلُّ نَفْسٍ مَّا أَسْلَفَتْ ۚ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ ۖ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اس وقت ہر شخص اپنے اعمال کو، جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے جانچ لے گا اور وہ سب اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے جو ان کا حقیقی مالک ہے اور جو کچھ وہ افترا پردازیاں [٤٤] کرتے رہے سب انہیں بھول جائیں گی

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

بنا بریں فرمایا : ﴿هُنَالِكَ﴾ ” وہاں“ یعنی اس روز ﴿تَبْلُو كُلُّ نَفْسٍ مَّا أَسْلَفَتْ﴾ ” جانچ لے گا ہر کوئی جو اس نے پہلے کیا“ یعنی ان کے اعمال کی پڑتال کی جائے گی اور ان کی نوعیت کے مطابق ان کو جزا دی جائے گی۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے، تو اچھی جزا ہوگی، اگر اعمال برے ہوں گے، تو جزا بھی بری ہوگی۔ ﴿وَرُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ ۖ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ ﴾ ” اور وہ اللہ کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے، جو ان کا سچا مالک ہے اور جاتا رہے گا ان سے جو جھوٹ باندھتے تھے“ یعنی اپنے شرک کے بارے میں انہوں نے بہتان طرازی کی تھی کہ یہ معبد ان باطل جن کی یہ عبادت کرتے تھے، ان کو فائدہ دے سکتے ہیں اور عذاب کو ان سے دور کرسکتے ہیں۔ (اس روز ان بہتانوں کی حقیقت واضح ہوجائے گی)۔