سورة یونس - آیت 28

وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ ۖ وَقَالَ شُرَكَاؤُهُم مَّا كُنتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور جس دن ہم سب کو اکٹھا کردیں گے پھر جن لوگوں نے شرک کیا تھا انہیں ہم کہیں گے کہ : '' تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو'' پھر ہم انہیں الگ الگ [٤١] کردیں گے تو ان کے بنائے [٤٢] ہوئے شریک انہیں کہیں گے کہ : تم تو ہماری بندگی کرتے [٤٣] ہی نہیں تھے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت : (28-30) (ویوم نحشرھم جمیعا) ” اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے۔“ یعنی ایک مقرر دن میں ہم تمام مخلوقات کو جمع کریں گے‘ ہم مشرکین اور ان کے ان معبودان باطل کو بھی اکٹھا کریں گے جن کی یہ مشرکین عبادت کیا کرتے تھے۔ (ثم نقول للذین اشرکوا مکانکم انتم وشرکاء کم) ” پھر ہم کہیں گے شرک کرنے والوں کو کھڑے ہو اپنی اپنی جگہ‘ تم اور تمہارے شریک“ یعنی اپنی جگہ پر کھڑے رہو‘ تاکہ تمہارے اور تمہارے معبودوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے۔ (فزیلنا بینھم) ” پھر ہم ان کے درمیان تفرقہ ڈال دیں ہے۔“ یعنی ہم بعد بدنی اور بعد قلبی کے ذریعے سے ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے‘ دنیا میں وہ ایک دوسرے کے لئے خالص محبت و مودت رکھتے تھے‘ اب ان کے درمیان سخت عداوت ہوگی۔ یہ محبت اور دوستی سخت عداوت اور بغض میں بدل جائے گی۔ (وقال شرکاؤھم) ” اور ان کے شریک کہیں گے“ یعنی ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک ان سے بیزار کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے۔ (ما کنتم ایانا تعبدون) ” تم ہماری عبادت تو نہ کرتے تھے“ کیونکہ ہم تو اللہ تبارک و تعالیٰ کو اس سے پاک اور منزہ گردانتے ہیں کہ اس کا کوئی شریک اور ہمسر ہو۔ (فکفی باللہ شھیدا بیننا وبینکم ان کنا عن عبادتکم لغفلین) ” پس اللہ کافی ہے گواہ‘ ہمارے اور تمہارے درمیان‘ یقیناً ہم تمہاری عبادت سے بے خبر تھے“ ہم نے تمہیں عبادت کا حکم دیا تھا نہ ہم نے تمہیں اس کی طرف بلایا تھا‘ بلکہ درحقیقت تم نے تو اس کی عبادت کی ہے جس نے تمہیں اس شرک کی طرف دعوت دی اور وہ ہے شیطان مردود‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمایا تھا : (الم اعھد الیکم یبنی ادم ان لاتعبدوا الشیطن انہ لکم عدو مبین) (یسین : 60/36) ” اے اولاد آدم ! کیا میں نے تمہیں کہہ نہ دیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا‘ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ویوم یحشر ھم جمیعا ثم یقول للملئکۃ اھو لاء ایاکم کانو یعبدون۔ قالوا سبحنک انت ولینا من دونھم بل کانوا یعبدون الجن اکثرھم بھم مومنون) (سبا : 40-41/34) ” اور جس روز وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا‘ پھر فرشتوں سے کہے گا کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ عرض کریں گے‘ تو پاک ہے‘ ان کی بجائے تو ہمارا دوست ہے‘ بلکہ یہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور ان میں سے اکثر لوگ انہی کی بات مانتے تھے۔ “ اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتے‘ انبیائے کرام علی السلام اور اولیائے عظام و غیر ہم قیامت کے روز ان لوگوں سے برات کا اظہار کریں گے جو ان کی عبادت کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو (اس الزام سے) بری کریں گے کہ وہ ان لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت دیتے تھے اور وہ اپنی اس براءت میں سچے ہوں گے۔ تب اس وقت مشرکین کو اتنی زیادہ حسرت ہوگی کہ اس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ انہیں انے اعمال کی مقدار کا علم ہوجائے گا اور انہیں یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ ان سے کیا ردی خصائل صادر ہوتے رہے ہیں۔ اس روز ان پر عیاں ہوجائے گا کہ وہ جھوٹے تھے اور اللہ تالیٰ پر بہتان طرازی کیا کرتے تھے۔ ان کی عبادتیں گم اور ان کے معبود نا بود ہوجائیں گے اور ان کے تمام اسباب و وسائل منقطع ہوجائیں گے۔ بنا بریں فرمایا : (ھنالک) ” وہاں“ یعنی اس روز (تبلوا کل نفس ما اسلفت) ” جانچ لے گا ہر کوئی جو اس نے پہلے کیا“ یعنی ان کے اعمال کی پڑتال کی جائے گی اور ان کی نوعیت کے مطابق ان کو جزا دی جائے گی۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے‘ تو اچھی جزا ہوگی‘ اگر اعمال برے ہوں گے‘ تو جزا بھی بری ہوگی۔ (وردوا الیاللہ مولھم الحق وضل عنھم ما کانوا یفترون) ” اور وہ اللہ کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے‘ جو ان کا سچا مالک ہے اور جاتا رہے گا ان سے جو جھوٹ باندھتے تھے“ یعنی اپنے شرک کے بارے میں انہوں نے بہتان طرازی کی تھی کہ یہ معبود ان باطل جن کی یہ عبادت کرتے تھے‘ ان کو فائدہ دے سکتے ہیں اور عذاب کو ان سے دور کرسکتے ہیں۔ (اس روز ان بہتانوں کی حقیقت واضح ہوجائے گی)۔