سورة البقرة - آیت 132

وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور ابراہیم نے بھی اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی تھی اور یعقوب [١٦٤] نے بھی انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا : ’’اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند کیا ہے۔ لہٰذا تم مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔‘‘

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

پس اے اولاد یعقوب ! تمہیں تمہارے باپ نے خاص طور پر وصیت کی ہے اس لیے نہایت کامل طریقے سے اس کی اطاعت کرنا اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کرنا تم پر واجب ہے۔ فرمایا : ﴿یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی لَکُمُ الدِّیْنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور احسان کرتے ہوئے تمہارے لیے دین کو چن لیا ہے لہٰذا اس دین کو قائم کرو اس کی شرائع سے متصف اور اس کے اخلاق میں رنگے جاؤ پھر ان کو دائمی طور پر اختیار کرلو۔ جب تمہیں موت آئے تو یہ اوصاف و اخلاق تمہارا اوڑھنا بچھونا ہوں، کیونکہ انسان جن اوصاف کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے انہی اوصاف کے ساتھ موت سے ہم آغوش ہوتا ہے اور جن اوصاف پر وہ مرتا ہے انہی اوصاف کے ساتھ اسے قیامت کے روز اٹھایا جائے گا۔