سورة یونس - آیت 18

وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَٰؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللَّهِ ۚ قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو ان کا نہ کچھ بگاڑ سکیں اور نہ [٢٨] فائدہ پہنچا سکیں اور کہتے یہ ہیں کہ ''اللہ کے ہاں یہ ہمارے سفارشی ہوں گے'' آپ ان سے کہئے : '' کیا تم اللہ کو ایسی بات کی خبر دیتے ہو جس کا وجود نہ کہیں آسمانوں میں اسے معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین [٢٩] میں؟'' وہ ایسی باتوں سے پاک اور بالاتر ہے جو یہ شرک کرتے ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت : (18) اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (ویعبدون) ” اور پرستش کرتے ہیں“ یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرنے والے مشرکین۔ (من دون اللہ ما لا یضروھم ولا ینفعھم) ” اللہ کے سوا‘ اس چیز کی جو ان کو نقصان پہنچا سکے نہ نفع“ یعنی ان کے معبودان باطل ان کو ذرہ بھر فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور نہ ان سے کسی ضرر کو دور کرسکتے ہیں۔ (ویقولون) ” اور وہ کہتے ہیں۔“ ایسی بات جو دلیل سے بالکل خالی ہے۔ (ھولاء شفعاؤنا عند اللہ) ” یہ اللہ کے ہاں ہمار سفارشی ہیں“ یعنی وہ ان معبودان باطل کی عبادت محض اس لئے کرتے ہیں‘ تاکہ وہ انہیں اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں اور اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں۔ ایہ ان کی اپنی طرف سے گھڑی ہوئی بات ہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس عقیدے کا ابطال کرتے ہوئے فرمایا : (قل اتنبؤن اللہ بما لا یعلم فی السموت ولا فی الارض) ” کہہ دیجئے ! کیا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو اس کو معلوم نہیں‘ آسمانوں میں اور زمین میں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے جس نے اپنے علم کے ذریعے سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے اس نے تمہیں آگاہ کیا ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے ساتھ کوئی معبود نہیں۔ پس اے مشرکو ! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ مزین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں؟ کیا تم اللہ تعالیٰ کو ایسے معاملے کی خبر دے رہے ہو جو اللہ تعالیٰ سے مخفی ہے اور تم اسے جانتے ہو؟ کیا تم اللہ تعالیٰ سے زیادہ جانتے ہو؟ کیا اس عقیدے سے زیادہ باطل عقیدہ پایا جاسکتا ہے جو اس امر کا متضمن ہے کہ یہ گمراہ‘ جہال اور بیوقوف لوگ‘ اللہ رب العالمین سے زیادہ علم رکھتے ہیں؟ عقل مند شخص کے لئے اس عقیدے کا مجرد تصور ہی یہ جاننے کے لئے کافی ہے کہ یہ قطعی طور پر فاسد اور باطل عقیدہ ہے۔ (سبحنہ وتعلیٰ عما یشرکون) ” وہ پاک ہے اور ان کے شرک سے بہت زیادہ ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ اس اس بات سے پاک اور منزہ ہے کہ کوئی اس کا شریک یا نظیر ہو‘ بلکہ اللہ تعالیٰ واحد‘ فرد اور بے نیاز ہے‘ آسمانوں اور زمین میں اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس عالم علوی اور سفلی میں اللہ تعالیٰ کے سوا ہر معبود عقل‘ شرع اور فطرت کے اعتبار سے باطل ہے۔ (ذلک بان اللہ ھو الحق وان ما یدعون من دونہ ھوالباطل و ان اللہ ھو العلی الکبیر) (الحج : 62/22) ” اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ ہی کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں اور اللہ ہی بلند اور بڑا ہے۔ “