سورة یونس - آیت 1

الر ۚ تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِيمِ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

ا۔ ل۔ ر یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

تفسیر سورۃ یونس آیت : (1-2) (الر تلک ایت الکتب الحکیم) ” یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی“ اور وہ کتاب یہ قرآن ہے جو تمام تر حکمت و احکام پر مشتمل ہے جس کی آیت کریمہ حقائق ایمانی اور شریعت کے او امر و نواہی پر دلالت کرتی ہیں جن کو برضا و رغبت قبول کرنا اور جن پر عمل کرنا تمامامت پر فرض ہے۔ بایں ہمہ اکثر لوگوں نے اس سے روگردانی کی۔ وہ اس کا علم نہیں رکھتے اس لئے انہیں سخت تعجب ہے۔ (ان اوحینا الی رجل منھم ان انذر الناس) ” کہ ہمنے ان میں سے ایکمرد پروھی بھیجی کہ لوگوں کو ڈر سنائے“ یعنی لوگوں کو الہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائے اور انہیں اس کی تراضی کا خوف دلائے اور اللہ تعالیی کی آیت کے ذریعے سے ان کو نصیحت کرے۔ (وبشر الذین امنو) ” اور خوش خبری دیں ایمان والوں کو“ جو صدق دل سے ایمان لائے ہیں (ان لھم قدم صدق عند ربھم) ” کہ ان کے لئے مقام صدق ہے ان کے رب کے پاس“ یعنی ان کے لئے اپنے بر کے پاس وافر جزا اور جمع کیا ہوا ثواب ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے صدق پر مبنیٰ اعمال صالحہ پیش کئے تھے۔ کفار کو اس عظیم شخص پر سخت تعجب ہے اور اس تعجب نے ان کو اس کے انکار پر آمادہ کیا۔ (قال الکفرون) ” اور کفار (اس کے بارے میں) کہتے ہیں“ (ان ھذا لسحر مبین) ” یہ تو واضح طور پر جادو گر ہے۔“ ان کے زعم کے مطابق اس کا جادو گر ہونا کسی پر مخفی نہیں اور یہ ان کی سفاہت اور عناد کی دلیل ہے۔ وہ ایسی بات پر تعجب کرتے ہیں جو ایسی انوکھی چیز نہیں جس پر تعجب کیا جائے۔ تعجب تو ان کی جہالت اور اس چیز پر ہونا چاہئے کہ انہیں اپنے مصالح کی معرفت حاصل نہیں۔ وہ اس رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کیسے ایمان نہیں لائے۔ جس کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہی میں سے چن کر رسول مبعوث کیا ہے وہ اسے اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح پہچاننے کا حق ہے۔ پس انہوں نے اس کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور اس کے دین کے ابطال کے سخت ھریض ٹھہرے۔ مگر اللہ تعالیٰ انے نور کو مکمل کر کے رہتا ہے خواہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔