سورة التوبہ - آیت 128

لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

(لوگو)! تمہارے پاس تمہی میں سے ایک رسول [١٤٨] آیا ہے۔ اگر تمہیں کوئی تکلیف [١٤٩] پہنچے تو اسے گراں گزرتی ہے۔ وہ ( تمہاری فلاح کا) حریص [١٥٠] ہے، مومنوں پر نہایت مہربان [١٥١] اور رحم کرنے والا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت : (128-129) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں پر انے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے ان کے اندر نبی امی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا جو خود ان میں سے ہیں وہ آپ کا حال جانتے ہیں‘ وہ آپ سے اخذ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور آپ کی اطاعت کرنے کو ناپسند نہیں کرتے اور خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے بے انتہا خیر خواہ اور ان کے مصالح کے لئے کوشش کرنے والے ہیں۔ (عیز علیہ ماعنھم) ” تمہاری تکلیف ان پر گراں گزرتی ہے۔“ یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہر وہ معاملہ بہت شاق گزرتا ہے جو تم پر شاق گزرتا ہے اور تمہیں تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔ (حریض علیکم) ” حریض ہیں تمہاری بھلائی پر“ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے لئے بھلائی پسند کرتے ہیں اور تمہیں بھلائی تک پہنچانے کے لئے بھرپور کوشش کرتے ہیں‘ ایمان تک تمہاری راہ نمائی کے خواہش مند ہیں۔ آپ شر کو سخت ناپسند کرتے ہیں اور شر سے تمہیں نفرت دلانے کے لئے پوری کوشش صرف کرتے ہیں۔ (بالمومنین رؤف رحیم) ” اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے ولاے مہربان ہیں۔“ یعنی اہل ایمان کے لئے انتہائی رافت و رحمت کے حامل ہیں بلکہ وہ مومنوں کے لئے ان کے ماں باپ سے بھی بڑھ کر رحیم ہیں۔ بنا بریں آپ کا ھق تمام مخلوق پر فائق اور مقدم ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا‘ آپ کی تعظم کرنا‘ آپ کی عزت و توقیر کرنا تمام امت پر فرض ہے۔ (فان) ” پس اگر“ وہ ایمان لے آئیں تو یہ ان کی خوش نصیبی اور توفیق الٰہی ہے۔ اور اگر وہ (تولوا) ” پھر جائیں۔“ یعنی ایمان و عمل سے روگردانی کریں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے راستے پر گامزن رہیں اور ان کو دعوت دیتے رہیں۔ (فقل حسبی اللہ) ” اور کہہ دیں ! کہ (تمام امور میں) میرے لئے الہ کافی ہے۔“ (لا الا الا ھو) ” اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔“ (علیہ توکلت) ” میں نے اسی پر توکل کیا۔“ یعنی امور نافعہ کے حصول اور ضرر رساں امور کو دور ہٹانے کے لئے‘ میں اسی پر اعتماد اور بھروسہ کرتا ہوں (وھو رب العرش العظیم) ” اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔“ یعنی جب اللہ تعالیٰ اس عظیم عرش کا رب ہے جو تمام مخلوقات پر سایہ کناں ہے تو عرش سے کم تر مخلوق کا رب ہونا اولیٰ اور احریٰ ہے۔