سورة التوبہ - آیت 123

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اے ایمان والو ! ان کافروں [١٤٠] سے جنگ کرو جن کا علاقہ تمہارے ساتھ ملتا ہے۔ اور ان کے ساتھ تمہیں سختی [١٤١] سے پیش آنا چاہئے اور یہ جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں [١٤٢] کے ساتھ ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت : (123) جنگی معاملات کی تدبیر میں اہل ایمان کی راہ نمائی کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف راہنمائی فرمائی ہے کہ ان کفار سے ابتدا کی جائے جو سب سے قریب ہیں ان کے ساتھ رویہ سخت رکھا جائے اور جنگ میں ان کا نہایت سختی‘ بہادری اور ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کیا جائے (واعلموا ان اللہ مع المتقین) ” اور جان رکھو کہ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔“ یعنی تمہیں یہ علم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد تقویٰ کے مطابق نازل ہوتی ہے‘ اس لئے تقویٰ کا التزام کرو‘ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے دشمن کے خلاف تمہیں نصرت سے نوازے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد : (قاتلو الذین یلونکم من الکفار) ” قریب کے کافروں سے قتال کرو۔“ عام ہے‘ تاہم جب مصلحت اس بات کا تقاضا کرے کہ ان کافروں کے ساتھ لڑائی کی جائے جو قریب نہیں ہیں‘ تو اس وقت ایسا کرنا ضروری ہوگا اور یہ خاص حکم اس عموم سے مستثنیٰ ہوگا‘ کیونکہ مصالح کی اقسام تو بے شمار ہیں۔