سورة البقرة - آیت 127

وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور جب ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل ( علیہ السلام) بیت اللہ [١٥٦] کی بنیادیں اٹھا رہے تھے تو انہوں نے دعا کی کہ ''اے ہمارے پروردگار! ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما لے۔ بلاشبہ تو ہی سب کی سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

یعنی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کی اس حالت کو یاد کرو جب وہ بیت اللہ کی بنیادیں بلند کر رہے تھے اور اس عظیم کام پر تسلسل اور پابندی سے لگے ہوئے تھے اور یہ کہ اس وقت ان پر خوف اور امید کی کیسی کیفیت طاری تھی، حتی کہ اس عظیم عمل کے باوجود انہوں نے دعا کی کہ ان کا عمل قبول کیا جائے، تاکہ اس کا فائدہ عام ہو اور انہوں نے اپنی ذات اور اپنی اولاد کے لئے اسلام کی دعا کی۔ جس کی حقیقت قلب کا خشوع و خضوع ہے اور دل کا اپنے رب کا مطیع ہوجانے اور اعضاء و جوارح کے فرماں بردار ہونے کو متضمن ہے۔