سورة التوبہ - آیت 101

وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ۖ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ ۖ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور تمہارے ارد گرد بسنے والے دیہاتیوں میں کچھ منافق موجود ہیں اور کچھ خود مدینہ میں بھی موجود ہیں جو اپنے نفاق پر اڑے ہوئے ہیں۔ انہیں تم [١١٤] نہیں جانتے، ہم ہی جانتے ہیں، جلد ہی ہم انہیں [١١٥] دو مرتبہ سزا دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت (101) (وممن حولکم من الاعراب منفقون و من اھل المدینہ) ” اور تمہارے گرد رہنے والے گنواروں میں سے بعض منافق ہیں اور بعض مدینے والوں میں سے“ یعنی مدینہ میں بھی منافقین موجود ہیں (مردواعلی النفاق) ” اڑے ہوئے ہیں وہ نفاق پر“ یعنی نفاق کے عادی ہیں اور نفاق میں ان کی سرکشی بڑھتی جا رہی ہے (لا تعلمھم) ” آپ ان کو نہیں جانتے۔“ یعنی آپ ان کے اعیان کو نہیں جانتے کہ آپ ان کو سزا دے سکیں یا ان کے نفاق کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کرسکیں۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی حکمت پنہاں ہے۔ (نحن نعلمھم سنعذبھم مرتین) ” ہم ان کو جانتے ہیں‘ ہم ان کو دو مرتبہ عذاب دیں گے۔“ اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ ” تثنیہ“ کا لفظ اپنے حقیقی باپ (معنی) میں استعمال ہوا ہو‘ تب اس سے مراد دنیا کا عذاب اور آخرت کا عذاب ہے۔ پس دنیا میں اہل ایمان کی فتح و نصرت سے ان کو جو غم و ہموم اور سخت ناگواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ دنیا کا عذاب ہے اور آخرت میں ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے اور یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہم ان کو نہایت سخت عذاب دیں گے‘ ان کو دگنا عذاب دیں گے اور بار بار عذاب دیں گے۔