سورة التوبہ - آیت 61

وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ ۚ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ ۚ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور ان (منافقین) میں سے کچھ وہ ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ : ''وہ کانوں کا کچا ہے'' آپ ان سے کہئے : یہ کانوں کا کچا ہونا ہی تمہارے [٧٤] حق میں بہتر ہے۔ وہ اللہ پر اور مومنوں کی بات پر [٧٥] یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں ایمان لائے ہیں ان کے لئے رحمت ہے اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ پہنچاتے ہیں، ان کے لئے دردناک عذاب ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 61 (١) لیکن ان کی بنیاد سنن ابی داؤد وغیرہ کی ایک روایت ہے جس کی رو سے حج و عمرہ پر زکوۃ کی رقم صرف کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے لیکن اس میں عمرہ کے ذکر کو شاذ قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو، اور اء الغلیل 382/3) علاوہ ازیں صحابہ میں سے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر اور ائمہ میں سے امام احمد و امام اسحاق رحمتہ اللہ علیہم وغیرہ بھی اس کے قائل ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھیے، راقم کی کتاب ” زکوۃ، عشر اور صدقتہ الفطر“ ص ٣٠١، ٤٠١ مطبوعہ دار السلام (ص۔ ی) یعنی یہ منافقین (الذین یوذون النبی) ” جو نبی کو ایذا دیتے ہیں۔“ یعنی جو روی اقوال اور عیب جوئی کے ذریعے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا پہنچاتے ہیں۔ (ویقولون ھو اذن) ” اور کہتے ہیں کہ وہ کان (کا کچا) ہے۔“ اور انہیں اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ ان کی بدگوئی کی وجہ سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دکھ پہنچتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ان میں سے کچھ باتیں آپ تک پہنچتی ہیں تو ہم آپ کے پاس معذرت پیش کرنے کے لئے آجاتے ہیں اور آپ ہماری معذرت قبول کرلیتے ہیں، کیونکہ آپ کان کے کچے ہیں۔ یعنی آپ سے جو کچھ کہا جاتا ہے آپ اسے تسلیم کرلیتے ہیں سچے اور جھوٹے میں تمیز نہیں کرتے۔ ان کا مقصد تو محض یہ تھا۔۔۔۔۔۔ اللہ ان کا برا کرے۔۔۔۔۔۔ کہ وہ اس بات کی کوئی پروا کریں نہ اس کو اہمیت دیں، کیونکہ ان کی کوئی بات آپ تک نہ پہنچے تو یہی ان کا مطلوب ہے اور اگر آپ تک وہ بات پہنچ جائے تو صرف باطل معذورتوں پر اکتفا کریں۔ پس انہوں نے بہت سے پہلوؤں سے برائی کا رویہ اختیار کیا : (١) ان میں سب سے بری بات یہ ہے کہ وہ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا پہنچاتے ہیں جو ان کی رہنمائی اور ان کو ہلاکت اور شقاوت کے گڑھے سے نکال کر ہدایت اور سعادت کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے تشریف لائے۔ (٢) وہ اس ایذا رسانی کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے، یہ مجرد ایذا رسانی پر ایک قدر زائد ہے۔ (٣) وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عقل و دانش میں عیب نکالتے تھے، آپ کو عدم ادراک اور سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز نہ کرسکنے کی صفات سے متصف کرتے تھے۔ حالانکہ آپ مخلوق میں سب سے زیادہ عقل کامل سے بہرہ مند بدرجہ اتم ادراک کے حامل، عمدہ رائے اور روشن بصیرت رکھنے والے تھے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (قل اذن خیرلکم) ” آپ کہہ دیجیے، کان ہیں تمہاری بہتری کے لئے“ یعنی جو کوئی بھلی اور سچی بات کہتا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے قبول فرما لیتے ہیں۔ رہا آپ کا صرف نظر کرنا اور جھوٹے عذرات پیش کرنے والے منافقین کے ساتھ سختی سے پیش نہ آنا، تو یہ آپ کی کشادہ ظرفی، ان کے معاملے میں عدم اہتمام اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کی بنا پر تھا۔ (آیت) ” جب تم واپس جب تم واپس لوٹو گے تو یہ منافقین قسمیں کھائیں گے، تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو، پس تم ان کے معاملے کو نظر انداز کر دو کیونکہ وہ ناپاک ہیں۔“ رہی یہ حقیقت کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں کیا ہے اور آپ کی رائے کیا ہے تو اس کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (یومن باللہ ویومن للمومنین) ” وہ یقین کرتا ہے اللہ پر اور یقین کرتا ہے مومنوں کی بات پر“ جو سچے اور تصدیق کرنے والے ہیں اور وہ سچے اور جھوٹے کو خوب پہچانتا ہے اگرچہ وہ بہت سے ایسے لوگوں سے صرف نظر کرتا ہے جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ جھوٹے ہیں اور ان میں سچائی معدوم ہے (ورحمۃ للذین امنوا منکم) ” اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو تم میں سے ایمان لائے“ کیونکہ وہی آپ کی وجہ سے راہ راست پر گامزن ہوتے اور آپ کے اخلاق کی پیروی کرتے ہیں۔ رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو انہوں نے اس رحمت کو قبول نہ کیا، بلکہ ٹھکرا دیا اور یوں وہ دنیا و آخرت کے گھاٹے میں پڑگئے۔ (والذین یوذون رسول اللہ) ” اور وہ لوگ جو (قول و فعل کے ذریعے سے) رسول اللہ کو دکھ دیتے ہیں۔“ (لھم عذاب الیم) ” ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔“ دنیا و آخرت میں اور دنیا میں ان کے لئے دد ناک عذاب یہ ہے کہ آپ کو دکھ پہنچانے والے اور آپ کی شان میں گستاخی کرنے اور ایذا پہنچانے والے کی حتمی سزا قتل ہے۔ (یحلفون باللہ لکم لیرضوکم) ” وہ قسمیں کھتاے ہیں اللہ کی تاکہ تمہیں راضی کریں“ اور ان کی طرف سے جو ایذا رسانی ہوئی وہ اس سے بری ٹھہریں۔ پس ان کی غرض و غایت محض یہ ہے کہ تم ان سے راضی رہو۔ (واللہ و رسولہ احق ان یرضوہ ان کانوا مؤمنین) ” حالانکہ اللہ اور اس کا رسول اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ ان کو راضی کریں اگر مومن ہوں“ کیونکہ بندہ مومن اپنے رب کی رضا پر کسی چیز کو ترجیح نہیں دیتا۔ یہ آیت ان کے ایمان کی نفی پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی رضا پر دوسروں کی رضا کو مقدم رکھا اور یہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت اور کھلی دشمنی ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے دشمنی رکھتا ہے اس کے لئے سخت وعید ہے۔ چنانچہ فرمایا : (الم یعلموآ انہ من یحادد اللہ و رسولہ) ” کیا انہوں نے نہیں جانا کہ جو کوئی مقابلہ کرے اللہ سے اور اس کے رسول سے“ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر کی اہانت و تحقیر اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کر کے وہ اللہ اور اس کے رسول سے بہت دور اور ان کے مخالف ہوجائے (فان لہ نار جھنم خالدا فیھا ذلک الخزی العظیم) ” تو اس کے لئے جہنم کی آگ ہے اور اس میں وہ ہمیشہ رہے گا، یہ بڑی رسوائی کی بات ہے۔“ جس سے بڑھ کر کوئی رسوائی نہیں، کیونکہ وہ دائمی نعمتوں سے محروم ہوگئے اور بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب حاصل کرلیا۔ ان کے حال سے اللہ کی پناہ !