سورة التوبہ - آیت 53

قُلْ أَنفِقُوا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا لَّن يُتَقَبَّلَ مِنكُمْ ۖ إِنَّكُمْ كُنتُمْ قَوْمًا فَاسِقِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

نیز ان سے کہئے : تم خواہ خوشی سے خرچ کرو یا بادل ناخواستہ۔ تم سے یہ صدقہ قبول [٥٧] نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ تم فاسق لوگ ہو

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیات 53 اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے صدقات کے بطلان اور اس کے سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (قل) ان سے کہہ دیجیے (انفقوا طوعاً) ” خوشی سے خرچ کرو۔“ یعنی بطیب خاطر خرچ کرو (اوکرھاً) ” یا ناخشوی سے“ یا اپنے اختیار کے بغیر ناگواری کے ساتھ خرچ کرو۔ (لن یتقبل منکم) ” تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔“ اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو قبول نہیں کرے گا۔ (انکم کنتم قوماً فسقین) ” اس لئے کہ تم نافرمان لوگ ہو۔“ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے دائرے سے باہر نکلتے ہوئے لوگ ہو۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے فسق اور ان کے اعمال کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (وما منعھم ان تقبل منھم نفقتھم الا انھم کفروا باللہ وبرسولہ) ” اور نہیں موقوف ہوا ان کے خرچ کا قبول ہونا، مگر اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا۔“ ایمان، تمام اعمال کے قبول ہونے کی شرط ہے اور یہ لوگ ایمان اور عمل صالح سے محروم لوگ ہیں حتی کہ ان کی حالت تو یہ ہے کہ جب یہ لوگ نماز۔۔۔ جو کہ افضل ترین بدنی عبادت ہے۔۔۔ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو کسمساتے ہوئے اٹھتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی یہ حالت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولایاتون الصلوۃ الا وھم کسالی) ” اور نماز کو آتے ہیں تو سست وکاہل ہو کر۔“ یعنی نماز کے لئے بوجھل پن کے ساتھ اٹھتے ہیں چونکہ نماز ان پر گراں گزرتی ہے، اس لئے نماز پڑھنا ان کے لئے بہت ہی مشکل ہے۔ (ولاینفقون الا وھم کرھون) ” اور خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے“ یعنی وہ انشراح صدر اور ثبات نفس کے بغیر خرچ کرتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی مذمت کی انتہا ہے جو ان جیسے افعال کا ارتکاب کرتے ہیں۔ بندے کے لئے مناسب یہ ہے کہ جب وہ نماز کے لئے آئے تو نشاط بدن اور نشاط قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوا اور جب وہ اللہ تعالیٰ نے اسے آخرت کے لئے ذخیرہ کرلیا ہے اور صرف اسی سے ثواب کی امید رکھے اور منافقین کی مشابہت اختیار نہ کرے۔