سورة التوبہ - آیت 50

إِن تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ ۖ وَإِن تُصِبْكَ مُصِيبَةٌ يَقُولُوا قَدْ أَخَذْنَا أَمْرَنَا مِن قَبْلُ وَيَتَوَلَّوا وَّهُمْ فَرِحُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اگر آپ کو کوئی بھلائی [٥٤] ملے تو انہیں بری لگتی ہے۔ اور اگر کوئی مصیبت آپڑے تو کہتے ہیں۔ ''ہم نے تو اپنا معاملہ پہلے ہی درست رکھا تھا'' پھر وہ خوش خوش واپس چلے جاتے ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 50 اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے بارے میں یہ واضح کرتے ہوئے کہ وہی حقیقی دشمن اور اسلام کے خلاف بغض رکھنے والے ہیں۔۔۔ فرماتا ہے (ان تصبک حسنۃ) ” اگر پہنچے آپ کو کوئی بھلائی“ مثلاً فتح و نصرت اور دشمن کے خلاف آپ کی کامیبای (تسوھم) ” تو ان کو بری لگتی ہے۔“ یعنی ان کو غمزدہ کردیتی ہے (وان تصبک مصیبۃ) ” اور اگر آپ کو پہنچے کوئی مصیبت“ مثلاً آپ کے خلاف دشمن کی کامیابی (یقولوا) ” تو کہتے ہیں۔“ آپ کے ساتھ نہ جانے کی وجہ سے سلامت رہنے کی بنا پر نہایت فخر سے کہتے ہیں : (قد اخذنا امرنا من قبل“ ہم نے اس سے پہلے اپنا بچاؤ کرلیا تھا اور ہم نے ایسا رویہ رکھا جس کی وجہ سے ہم اس مصیبت میں گرفتار ہونے سے بچ گئے (ویتولوا وھم فرحون) ” اور پھر کر جائیں وہ خوشیاں کرتے ہوئے“ یعنی وہ آپ کی مصیبت اور آپ کے ساتھ اس میں عدم مشارکت پر خوش ہوتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے : (قل لن یصیبنآ الا ما کتب اللہ لنا) ” کہہ دیجیے ! ہمیں وہی پہنچے گا جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دیا ہے“ یعنی جو کچھ اس نے مقدر کر کے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔ (ھو مولنا) ” وہی ہمارا کار ساز ہے۔“ یعنی و ہمارے تمام دینی اور دنیاوی امور کا سرپرست ہے پس ہم پر اس کی قضا و قدر پر راضی رہنا فرض ہے۔ ہمارے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں (وعلی اللہ) ” اور اللہ پر“ یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ ہی پر (فلیتوکل المومنون) ” مومنوں کو توکل کرنا چاہے۔“ یعنی اہل ایمان کو اپنے مصالح کے حصول اور ضرر کو دور کرنے کے لئے اعتماد اور اپنے مطلوب و مقصود کی تحصیل کی خاطر اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا اور جو غیروں پر تکیہ کرتا ہے تو وہ ایک تو بے یار و مددگار رہے گا، دوسرے اپنی امیدوں کے حصول میں ناکام رہے گا۔