سورة التوبہ - آیت 39

إِلَّا تَنفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اگر تم نہ نکلو گے تو اللہ تمہیں [٤٢] دردناک سزا دے گا اور تمہارے علاوہ دوسرے لوگ لے آئے گا اور تم ان کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 39 واضح رہے کہ اس سورۃ کریمہ کا اکثر حصہ غزوہ تبوک میں نازل ہوا ہے، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رومیوں کے مقابلے میں جنگ کے لئے لوگوں کو بلایا۔ اس وقت سخت گرمی کا موسم تھا، لوگوں کے پاس زاد راہ بہت کم تھا اور ان کے معاشی حالات عسرت کا شکار تھے۔ اس کی وجہ سے بعض مسلمانوں میں سستی آگئی تھی جو اللہ تعالیٰ کے عتاب کی موجب بنی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جہاد کے لئے اٹھنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا : (یا یھا الذین امنوا) ” اے ایمان والو“! کیا تم ایمان کے تقاضوں اور یقین کے داعیوں کو نہیں جانتے؟ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں سبقت کی جائے، اس کی رضا کے حصول، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں اور تمہارے دین کے دشمنوں کے خلاف جہاد کی طرف سرعت سے بڑھا جائے۔ پس (آیت) ” تمہیں کیا ہے کہ جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ کے راستے میں کوچ کرو، تو گرے جاتے ہو زمین پر“ یعنی تم سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیٹھ رہے ہو اور راحت و آرام کی طرف مائل ہو رہے ہو۔ (آیت) ”” کیا تم آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔“ یعنی تمہارا حال تو بس اس شخص جیسا ہے جو دنیا کی زندگی پر راضی ہے اور اسی کے لئے بھاگ دوڑ کرتا ہے اور آخرت کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ گویا آخرت پر وہ ایمان ہی نہیں رکھتا۔ (آیت) ” پس نہیں ہے نفع اٹھانا دنیا کی زندگی کا“ جس کی طرف تم مئال ہو جس کو تم نے آخرت پر ترجیح دے رکھی ہے۔ (الا قلیل) ” مگر بہت تھوڑا“ کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں عقل سے نہیں نوازا جس کے جس کے ذریعے سے تم تمام معاملات کو تولو کہ کون سا معاملہ ہے جو ترجیح دیئے جانے کا مستحق ہے؟ کیا ایسا نہیں کہ یہ دنیا۔۔۔ اول سے لے کر آخر تک۔۔۔ آخرت کے ساتھ اس کی کوئی نسبت ہی نہیں؟ اس دنیا میں انسان کی عمر بہت تھوڑی ہے، یہ عمر اتنی نہیں کہ اس کو مقصد بنا لیا جائے اور اس کے ماوراء کوئی مقصد ہی نہ ہو اور انسان کی کوشش، اس کی جہد اور اس کے ارادے اس انتہائی مختصر زندگی سے آگے نہ بڑھتے ہوں جو تکدر سے لبریز اور خطرات سے بھرپور ہے۔ تب کس بنا پر تم نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دے دی جو تمام نعمتوں کی جامع ہے جس میں وہ سب کچھ ہوگا نفس جس کی خواہش کریں گے اور آنکھیں جس سے لذت حاصل کریں گی اور تم اس آخرت میں ہمیشہ رہو گے۔۔۔ اللہ کی قسم ! وہ شخص جس کے دل میں ایمان جاگزیں ہوگیا ہے، جو صائب رائے رکھتا ہے اور جو عقل مندوں میں شمار ہوتا ہے، کبھی دنیا کو آخرت پر ترجیح نہیں دے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاد کے لئے نہ نکلنے پر ان کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا : (الا تنفروا یعذبکم عذاباً الیماً) ” اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تطم کو عذاب دے گا، درد ناک عذاب“ دنیا اور آخرت میں، کیونکہ جہاد کے لئے بلانے پر جہاد کے لئے گھر سے نہ نکلنا کبیرہ گناہ ہے جو سخت ترین عذاب کا موجب ہے، کیونکہ اس میں شدید نقصان ہے بوقت ضرورت جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کی منہیات کا ارتکاب ہے۔ جہاد سے گریز کرنے والے نے اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کی، نہ اس کی کاتب اور شریعت کی مدافعت کی اور اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کی ان کے ان دشمنوں کے خلاف مدد کی جو ان کو ختم کرنا اور ان کے دین کو مٹانا چاہتے ہیں۔ نیز بسا اوقات ضعیف الایمان لوگ جہاد سے جی چراتے میں ان کی پیروی کرنے لگتے ہیں، بلکہ اس طرح دشمن کے خلاف جہاد کرنے والوں کی قوت ٹوٹ جاتی ہے۔ اس لئے جس کا یہ حال ہو تو وہ اسی قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے سخت وعید سنائے۔ اس لئے فرمایا : (الا تنفروا یعذبکم عذاباً الیماً ویستبدل قوماً غیر کم ولا تضروا شیاً) ” اگر تم نہ نکلو گے، تو تم کو درد ناک عذاب دے گا اور تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو بدلے میں لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔“ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت اور اپنے کلمہ کو بلند کرنے کا ذمہ اٹھا رکھا ہے۔ اس لئے اگر تم اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہو یا ان کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیتے ہو، اللہ کے لئے برابر ہے۔ (واللہ علی کل شیء قدیر) ” اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ اللہ تعالیٰ جس چیز کا ارادہ کرے تو وہ اسے بے بس نہیں کرسکتی اور کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا۔