سورة الانفال - آیت 55

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّهِ الَّذِينَ كَفَرُوا فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اللہ کے ہاں بدترین [٥٨] جانور وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کا انکار کردیا۔ پھر وہ ایمان لانے پر تیار نہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 55 فرمایا (ان) بے شک وہ لوگ جن میں یہ تین خصلتیں جمع ہیں۔۔۔ یعنی کفر، عدم ایمان اور خیانت۔۔۔ خیانت سے مراد یہ ہے کہ وہ جو عہد کرتے ہیں، اس پر ثابت قدمی نہیں دکھاتے اور جو بات کرتے ہیں اس پر پکے نہیں رہتے (شرالدوآب عنداللہ) ” سب جان داروں میں بدترین ہیں اللہ کے ہاں“ پس وہ گدھوں اور کتوں اور دیگر چوپایوں سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ ان کے اندر بھلائی معدوم ہے اور برائی متوقع ہے، لہٰذا ان کو ختم کرنا اور ہلاک کرنا ضروری ہے، تاکہ ان کی بیماری دوسروں میں نہ پھیلے، اسی لئے فرمایا : (فاما تتقفنھم فی الحرب) ” پس جب تم ان کو حالت جنگ میں پاؤ‘ ق جب کہ تمہارے اور ان کے درمیان عہد و میثاق نہ ہو۔ ( فشردبھم م خلفھم) ” تو ان کو ایسی سزا دو کہ دیکھ کر بھاگ جائیں ان کے پچھلے“ یعنی ان کے ذریعے سے دوسروں کو سبق سکھا دیں اور ان کو ایسی سزا دیں کہ وہ بعد میں آنے والوں کے لئے نشان بن جائیں۔ (لعلھم) ” شاید کہ وہ“ یعنی بعد میں آنے والے (یذکرون) ” نصیحت پکڑیں“۔ ان کے کرتوتوں سے نصیحت پکڑیں تاکہ ان پر بھی وہی عذاب نازل نہ ہوجائی جو ان پر نازل ہوا تھا۔ یہ سزاؤں اور حدود کے فوائد ہیں جو گناہوں پر مترتب ہوتی ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لئے نرجرو تو بیخ کا سبب ہیں، جنہوں نے گناہ نہیں کئے بلکہ ان کے لئے بھی جنہوں نے گناہ کا ارتکاب کیا تاکہ وہ گناہ کا اعادہ نہ کریں۔ اس عقوبت کے لئے حالت جنگ کی قید لگانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کافر۔۔۔ اگرچہ بہت زیادہ خیانت کا ارتکاب کرنے والا بد عہد ہو۔۔۔ جب اس سے معاہدۂ امن کرلیا جائے، تو اس عہد میں خیانت کرنا اور اسے عقوبت دینا جائز نہیں۔