سورة الانفال - آیت 41

وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّهِ وَمَا أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور جان لو کہ جو کچھ تم بطور غنیمت حاصل کرو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لئے، رسول کے لئے اور اس کے قرابت داروں' [٤٣] مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اس (فتح و نصرت) پر جو فیصلہ کے دن ہم نے اپنے بندے [٤٣۔ الف] پر نازل کی تھی جبکہ دونوں لشکروں میں مقابلہ ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت (واعلموا انما عنمتم من شی) ” اور جان رکھو کہ تم مال غنیمت سے جو کچھ حاصل کرو۔” یعنی کفار کا جو مال تم فتح یاب ہو کر حق کے ساتھ حاصل کرو، خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ (فان للہ خمسہ) “ تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کے لئے ہے“ اور باقی تمہارے لئے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے غنیمت کی اضافت ان کی طرف کی ہے اور اس میں سے پانچواں حصہ نکال دیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پانچواں حصہ نکال کر باقی ان میں اسی طرح تقسیم کیا جائے گا جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تقسیم فرمایا تھا۔۔۔ یعنی پیادے کے لئے ایک حصہ اور سوار کے لئے دو حصے، ایک حصہ خود اس کے لئے اور ایک حصہ اس کے گھوڑے کے لئے 1۔ (1 لیکن حدیث سے سوار کے لئے تین حصے ثابت ہوتے ہیں، دو حصے اس کے گھوڑے کے لئے اور ایک حصہ خود اس کے لئے۔ (ان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جعل للفرس سھمین ولصاحبہ سھما) (صحیح بخاری، الجہاد والسیر، باب سھام الفرس، حدیث ؟؟؟؟ (ص۔ ی) رہا خمس، تو اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے، ان میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے مختص ہے جو کسی تعین کے بغیر عام مسلمانوں کے مصالح پر خرچ کیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حصہ قرار دیا ہے اور اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بے نیاز ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ یہ حصہ در حقیقت بندگان الٰہی کے لئے ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے مصارف متعین نہیں فرمائے اس لئے واضح ہوا کہ اس کو مصالح عامہ میں صرف کیا جائے گا۔ خمس کا دوسرا حصہ، ذوالقربیٰ کے لئے ہے اور یہاں ذووالقربیٰ سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قرابت دار یعنی بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب ہیں۔ ذووالقربیٰ کی طرف اس کی اضافت اس امر کی دلیل ہے کہ اس حکم کی علت مجروقرابت ہے جس میں ان کے مال دار اور محتاج، مرد اور عورتیں سب شامل ہیں۔ خمس کا تیسرا حصہ، یتیموں کے لئے ہے جن کے باپ فوت ہوچکے ہیں اور خود وہ بہت کمسن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت کی بناء پر ان کے لئے خمس کا پانچواں حصہ مقرر فرمایا ہے، کیونکہ وہ خود اپنے مصالح کی دیکھ بھال کرنے سے عاجز ہیں اور وہ کسی ایسی ہستی سے بھی محروم ہیں جو ان کے مصالح کا انتظام کرے۔ خمس کا چوتھا حصہ مساکین، یعنی چھوٹوں، بڑوں، مردوں اور عورتوں میں سے محتاج اور تنگ دستوں کے لئے ہے۔ خمس کا آخری حصہ مسافروں کی بہبود کے لئے ہے۔ (ابن السبیل) سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے جو اپنے وطن سے کٹ کر رہ گیا ہو۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ ان مذکورہ مصارف سے باہر خرچ نہ کیا جائے۔ البتہ یہ لازم نہیں کہ ان اصناف مذکورہ میں برابر برابر تقسیم کیا جائے بلکہ مصالح کے مطابق ان کے درمیان اس مال کو تقسیم کیا جائے گا۔۔۔ ی ہی رائے زیادہ قرین صواب ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خمس کو اس طریقے سے خرچ کرنا ایمان کی شرط قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا : (ان کنتھم امنتھ باللہ و اما انزلنا علی عبدنا یوم الفرقان) ” اگر تم ایمان رکھتے حو اللہ پر اور اس چیز پر جو ہم نے نازل کی اپنے بندے پر فیصلے کے دن“ (یوم الفرقان) سے مراد یوم بدر ہے جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حق اور باطل میں فیصلہ کیا۔ حق کو غالب کیا اور باطل کا بطلان ظاہر کیا۔ (یوم التقری الجمعنِ) ” جس دن بھڑ گئیں دونوں فوجیں“ یعنی مسلمانوں کے گروہ اور کفار کے گروہ کی مڈ بھیڑ ہوئی۔۔۔ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ پر اور اس حق پر ایمان رکھتے ہو جو اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بدر کے روز نازل فرمایا، جس سے ایسے دلائل اور براہین حاصل ہوئے جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ لائے ہیں، وہ حق ہے (واللہ علی کل شی قدیر) ” اور اللہ ہر چیز پر قار ہے“۔ یعنی جو کوئی اللہ کا مقابلہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی غالب آتا ہے۔ (اذانتھم بالعدوۃ الدنیا) ” جس وقت تم قریب کے ناکے پر تھے“ یعنی جب تم مدینہ سے قریب ترین وادی میں تھے۔ (وھم بالعدوۃ القصوی) ” اور وہ (کفار) مدینہ سے بعید ترین وادی میں تھے“ اللہ تعالیٰ نے تم دونوں گروہون خو ایک ہی وادی میں جمع کردیا (الرکب) ” اور قافلہ“ یعنی وہ تجارتی قافلہ جس کے تعاقب میں تم نکلے تھے، مگر اللہ تعاعلیٰ کا ارادہ کچھ اور ہی تھا (اسفل منکم) ” تم سے نیچے کی طرف تھا“ یعنی وہ ساحل کے ساتھ ساتھ تھا۔ (ولوتواعدتم) ” اور اگر تم آپس میں قرارداد کرلیتے“ اگر تم نے اور کفار نے اس حال میں اور اس وصف کے ساتھ ایک دوسرے سے وعدہ کیا ہوتا (لاختلفتم فی المیعد) ” تو نہ پہنچتے وعدے پر ایک ساتھ“ یعنی مقررہ میعاد میں تقدیم و تاخیر یا جگہ کے انتخاب وغیرہ میں کسی عارضہ کی بناء پر تم میں اختلاف واقع ہوجاتا جو تمہیں میعاد مقررہ پر پہنچنے سے روک دیتا۔ (ولکن) ” اور لیکن“ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس حال میں اکٹھا کردیا۔ (لیقضی اللہ امرا کان مفعولا) ” تاکہ اللہ اس امر کو پورا کرے (جو روز ازل سے مقرر ہے) جس کا واقع ہونا لابدی ہے“۔ (لیھلک من ہلک عن بینۃ) ” تاکہ مرے جس کو مرنا ہے دلیل کے وا ہونے کے بعد“ تاکہ معاند حق کے خلاف حجت اور دلیل قائم ہوجائے کہ اگر وہ کفر اختیار کرے تو پوری بصیرت کے ساتھ اختیار کرے اور اس کے بطلان کا اسے پورا یقین ہو اور یوں اللہ کے حضور پیش کرنے کے لئے اس کے پاس کوئی عذر نہ ہو۔ (ویحی من حی عن بینۃ) ” اور زندہ رہے جس کو جینا ہے دلیل کے واضح ہونے کے بعد“ تاکہ اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں پر جو حق کے دلائل واضح کئے ہیں اس کی بناء پر اہل ایمان کے یقین اور بصیرت میں اضافہ ہو۔ یہ دلائل و براہین عقل مندوں کے لئے یاد دہانی ہے۔ (و ان اللہ لسمیع) ” بے شک اللہ سننے والا ہے“ تمام آوازوں کو، زبانوں کے اختلاف اور مخلوق کی مختلف حاجات کے باوجود (علیم) ” جاننے والا ہے“۔ یعنی اللہ تعالیٰ ظاہری اعمال، ضمیر میں چھپی ہوئی نیتوں اور بھیدوں، غائب اور حاضر ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔