سورة الانفال - آیت 40

وَإِن تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَوْلَاكُمْ ۚ نِعْمَ الْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ النَّصِيرُ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور اگر وہ نہ مانیں تو جان لو [٤٢] کہ اللہ تمہارا سرپرست ہے جو بہت اچھا سرپرست اور بہت اچھا مددگار ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 40 یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ ان کفر اور ان کا دائمی عناد اسے اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ انہیں رشد و ہدایت کے راستے کی طرف بلائے اور انہیں گمراہی اور ہلاکت کی راہوں پر چلنے سے منع کرے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قل للذین کفروآ ان ینتھوا) ” کفار سے کہہ دیجییا گر وہ باز آجائیں۔“ یعنی اگر وہ کفر سے باز آجائیں اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ اللہ وحدہ لاشریک لہ، کے سامنے سرتسلیم خم کردیں۔ (یغفر لھم ما قد سلف) ” تو بخش دیا جائے گا جو کچھ ہوچکا ہے“ یعنی ان سے جن جرائم کا ارتکاب ہوچکا ہے (وان یعودوا) ” اگر وہ اعادہ کریں۔“ یعنی اگر وہ اپنے کفر اور عناد کا اعادہ کریں (فقد مصت سنت الاولین) ” تو تحقیق گزر چکا ہے طریقہ پہلوں کا“ یعنی رسولوں کو جھٹلانے والی قوموں کو ہلاک کرنے کا۔ پس وہ بھی اسی عذاب کا اتنظار کریں جو ان معاندین حق پر نازل ہوا تھا۔۔۔ عنقریب ان کے پاس وہی خبریں آئیں گی جن کا یہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ یہ خطاب تو جھٹلانے والوں سے ھتا۔ رہا وہ خطاب جو اہل ایمان کو کفار کے ساتھ معاملہ کرنے کا حکم دیتے وقت اہل ایمان کے ساتھ، تو اس میں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا : (وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ) ” اور ان سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ نہ رہے فساد“ یعنی جب تک کہ شرک اور اللہ تعالیٰ کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور نہ ہوجائیں اور کفار اسلام کے احکام کے سامنے سرنگوں نہ ہوجائیں۔ (ویکون الذین کلمہ للہ) ” اور ہوجائے حکم سب اللہ کا“ پس دشمنان دین کے خلاف جہاد اور قتال کا یہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو کفار کے شر سے بچایا جائے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی، جس کے لئے تمام کائنات تخلیق کی گئی ہے، حفاظت کی جائے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا دین تمام ادیان پر غالب آجائے۔ (فان انتھوا) ” پس اگر وہ باز آجائیں۔“ اپنے ظلم کے رویے سے (فان اللہ بما یعملون بصیر) ” تو بے شک اللہ ان کے کاموں کو دیکھتا ہے“ اور اللہ تعالیٰ سے ان کی کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔ (وان تولوا“ ” اور اگر وہ روگردانی کریں۔“ یعنی اگر اطاعت سے منہ موڑ کر کفر و سرکشی میں سرگرم ہوجائیں۔ (فاعلموآ ان اللہ مولکم نعم المولی) ” تو جان لو کہ اللہ تمہارا حمایتی ہے، کیا اچھا حمایتی ہے“ جو اپنے مومن بندوں کی رسرپستی کرتا ہے، انہیں ان کے مصالح بہم پہنچاتا ہے اور ان کے لئے دینی اور دنیاوی فوائد کے حصول میں آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ (ونعم النصیر) ” اور کیا اچھا مددگار ہے“ جو ان کی مدد کرتا ہے، ان کے خلاف فساق و فجار کی سازشوں کو ناکام بناتا ہے اور اشرار کی عداوت سے حفاظت کرتا ہے اور جس کا سرپرست اور حامی و ناصر اللہ تعالیٰ ہو تو اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا اور جس کا اللہ تعالیٰ مخالف ہو اسے کوئی مدد اور سہارا نہیں دے سکتا۔