سورة الانفال - آیت 35

وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِندَ الْبَيْتِ إِلَّا مُكَاءً وَتَصْدِيَةً ۚ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

بیت اللہ میں ان لوگوں کی نماز بس یہی ہوتی کہ وہ سیٹیاں بجاتے اور تالیاں پیٹتے تھے۔ تو لو اب (بدر میں شکست) عذاب کا مزا [٣٦] چکھو۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو تم حق کا انکار کردیا کرتے تھے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 35 اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسجد حرام صرف اس لئے بنائی ہے کہ اس میں اس کے دین کو قائم کیا جائے اور اس میں خلاص اسی کی عبادت کی جائے۔ پس اہل ایمان ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی اور رہے یہ مشرکین جنہوں نے لوگوں کو مسجد حرام سے روکا تو ان کی نماز، جو کہ سب سے بڑی عبادت ہے، (الا مکآء وتصدیۃ) ” سیٹیوں اور تایوں کے سوا کچھ بھی نہیں“ جو کہ جہلا اور کم عقل لوگوں کا فعل ہے جن کے دل اپنے رب کی تعظیم سے خالی ہوتے ہیں، جو اپنے رب کے حقوق کی معرفت سے تہی دست ہوتے ہیں اور ان کے دل میں افضل ترین خطہ زمین کا کوئی احترام نہیں ہوتا۔ جب ان کی نماز کا یہ حال ہے تو ان کی بقیہ عبادات کا کیا حال ہوگا؟ پس ان میں کوئی سی چیز ایسی ہے جس کی بنا پر وہ اپنے آپ کو ان مومنوں سے زیادہ بیت اللہ کا مستحق سمجھتے ہیں، جو اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں، جو لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں اور ان میں وہ تمام اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ موجود ہیں جو ان کے رب نے بیان فرمائے ہیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے الہ ایمان کو اپنے محترم گھر کا وارث بنایا اور سارے ان کو قدرت عطا کی۔۔۔ اور پھر ان کو اس پر قدرے عطا کرنے کے بعد فرمایا : (آیت) ” اے مومنو ! مشرکین تو ناپک ہیں، اس لئے وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں۔“ اور یہاں فرمایا : (فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون) ” اپنے کفر کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو۔ “