سورة الانفال - آیت 20

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور حکم سن لینے کے بعد [١٩] اس سے سرتابی نہ کرو

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 20 چونکہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں جن سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ فرمایا : (یا یھا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ) ” اے ایمان والو ! اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی“ یعنی ان کے اوامرکی پیروی اور ان کے نوازہی سے اجتناب کر کے (ولا تولوا عنہ) ” اور اس سے روگردانی نہ کرو۔“ یعنی اس معاملے سے منہ نہ موڑو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت ہے۔ (وانتم تسمعون) ” اور تم سنتے ہو۔“ حالانکہ تم پر اللہ تعالیٰ کی کتاب، اس کے اوامر، اس کی وصیتوں اور اس کی نصیحتوں کی جو تلاوت کی جاتی ہے، تم اسے سنتے ہو۔ اس حال میں تمہارا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑنا بدترین حال ہے۔ (ولا تکونوا کالذین قالوا سمعنا وھم لایسمعون) ” اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جنہوں نے کہا ہم نے سن لیا اور وہ سنتے نہیں“ یعنی مجرد خای خولی دعوؤں پر اکتفا نہ کرو جن کی کوئی حقیقت نہیں، کیونکہ یہ ایسی حالت ہے جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی نہیں۔ ایمان محض تمناؤں اور دعوؤں سے مزین ہونے کا نام نہیں ہے، بلکہ ایمان وہ ہے جو دل میں جاگزیں ہو اور اعمال اس کی تصدیق کریں۔