سورة الانفال - آیت 1

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ ۖ قُلِ الْأَنفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

لوگ آپ سے انفال [١] (اموال زائدہ) کے متعلق [٢] پوچھتے ہیں۔ آپ ان سے کہئے کہ یہ اموال زائدہ اللہ اور اس کے رسول [٣] کے لئے ہیں۔ پس تم لوگ اللہ سے ڈرتے رہو اور اپنے باہمی تعلقات [٤] درست رکھو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم مومن ہو

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(آیت 1) (الانفال) سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے امت کو عطا کی ہیں۔ اس سورۃ مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوہ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں۔ غزوہ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا، تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چنانچہ انہوں نے اس بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (یسئلونک عن الانفال) ” وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں“ ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انہیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ (قل) آپ ان سے کہہ دیجیے !(الانفال للہ و الرسول) ” غنیمتیں اللہ اور رسول کے لئے ہیں“ وہ جہاں چاہیں گے ان غنائم کو خرچ کریں گے۔ پس تمہیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں، بلکہ تم پر فرض ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول فیصلہ کردیں تو تم ان کے فیصلے پر راضی رہو اور ان کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دو اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ (فاتقوا اللہ) ” پس اللہ سے ڈور“ اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے۔ (واصلحوا ذات بینکم) ” اور صلح کرو آپس میں“ یعنی تم آپس کے بغض، قطعی تعلقی اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی، آپس کی مودت، محبت اور میل جول کے ذریعے سے اصلاح کرو۔ اس طرح تم میں اتفاق پیدا ہوگا اور قطع تعلق، مخاصمت اور آپس کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ ہوجائے گا۔ آپس کے معاملات کی اصلاح میں حسن اخلاق اور برا سلوک کرنے والوں سے درگزر کا بہت بڑا دخل ہے اس سے دلوں کا بغض اور نفرت دور ہوجاتی ہے اور ان تمام باتوں کی جامع بات یہ ہے (واطیعوا اللہ ورسولہ ان کنتم مؤمنین) ” اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم مومن ہو“ کیونکہ ایمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا تقاضا کرتا ہے جیسے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتا وہ مومن نہیں، جس کی اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ناقص ہے اس کا ایمان بھی اتنا ہی ناقص ہے۔ چونکہ ایمان کی دو قسمیں ہیں : (١) ایمان کامل، جس پر مدح و ثنا اور کامل فوز و فلاح مترتب ہوتی ہے۔ (٢) نقاص ایمان تو اس کامل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (انما المومنون) ” مومن تو صرف وہ ہیں“ الف لام استغراق کے لئے ہے جو تمام شرائع ایمان کو شامل ہے (الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم) ” کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا، تو ڈر جائیں دل ان کے“ یعنی ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور یہ ڈر خشیت الٰہی اور محارم سے اجتناب کا موجب بنتا ہے، کیونکہ خوف الٰہی گناہوں سے باز آنے کی سب سے بڑی علامت ہے۔ (واذا تلیت علیھم ایتہ زادتھم ایماناً) ” اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو زیادہ کردیتی ہیں ان کو ایمان میں“ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آیات الٰہی کو حضور قلب کے ساتھ غور سے سنتے ہیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کریں جس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو کیونکہ تدبر، اعمال قلوب میں شمار ہوتا ہے، نیز ان کے لئے معانی کی بھی توضیح ہوتی ہے جن سے وہ لاعلم ہیں اور ان کو ان امور کی یاد دہانی ہوتی ہے جن کو وہ فراموش کرچکے ہیں یا ان کے دلوں میں نیکیوں کی رغبت پیدا ہوتی ہے اور اپنے رب کے اکرام و تکریم کے حصول کا شوق پیدا ہوتا ہے یا ان کے دل میں عذاب سے خوف اور معاصی سے ڈرپیدا ہوتا ہے اور ان تمام امور سے ایمان پڑھتا ہے۔ (وعلی ربھم) ” اور اپنے رب پر‘ یعنی اپنے رب وحدہ لاشریک پر (یتوکلون) ” وہ بھروسہ کرتے ہیں“ یعنی اپنے مصالح کے حصول اور دینی اور دنیاوی مضرتوں کو دور کرنے میں اپنے دلوں میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور انہیں پورا وثوق ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کام ضرور کرے گا۔ توکل ہی انسانوں کو تمام اعمال پر آمادہ کرتا ہے تو کل کے بغیر اعمال وجود میں آتے ہیں نہ تکمیل پا سکتے ہیں۔ (الذین یقیمون الصلوۃ) ” جو نماز پڑھتے ہیں۔“ فرض اور نفل نماز کو، اس کے ظاہری اور باطنی اعمال، مثلاً حضور قلب جو کہ نماز کی روح اور اس کا مغز ہے، کے ساتھ قائم کرتے ہیں (ومما رزقنھم ینفقون) ” اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں“ یعنی وہ نفقات واجبہ مثلاً زکوۃ، کفارہ، بیویوں، اقارب اور غلاموں پر خرچ کرتے ہیں اور نفقات مستحبہ مثلاً بھلائی کے تمام راستوں میں صدقہ کرتے ہیں۔ (اولئک) یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں (ھم المؤمنون حقاً) ” وہی حقیقی مومن ہیں“ کیونکہ انہوں نے اسلام اور ایمان، اعمال اور باطنہ اور اعمال ظاہرہ، علم اور عمل اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کو جمع کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اعمال قولب کو مقدم کرکھا ہے، کیونکہ اعمال قلوب، اعمال جوارح کی بنیاد اور ان سے افضل ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے۔ نیکی کے افعال سے ایمان پڑھتا ہے اور اس کے متضاد افعال سے ایمان گھٹتا ہے، نیز بندے کو چاہئے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے اور اس کو نشو و نما دے اور یہ مقصد کتاب اللہ میں تدبر اور اس کے معانی میں غور و فکر کرنے سے بدرجہ اولین حاصل ہوتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے لئے حقیقی ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (لھم درجت عندربھم) ” اور ان کے لئے ان کے رب کے ہاں درجات ہیں۔“ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات بلند ہوں گے۔ (ومغفرۃ) اور ان کے گناہوں کی بخشش (ورزق کریم) ” اور عزت کی روزی“ یہ وہ روزی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اکرام و عزت والے گھر میں اہل ایمان کے لئے تیار کر رکھی ہے جو کسی آنکھ نے دیکھی ہے نہ کسی کان نے سنی ہے اور نہ کسی بشر کا طائر خیال وہاں تک پہنچا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی ایمان میں ان کے درجے تک نہیں پہنچ پاتا، وہ اگرچہ جنت میں داخل ہوجائے گا مگر اللہ تعالیٰ کی کرامت تامہ جو انہیں حاصل ہوئی ہے، اسے حاصل نہیں ہوگی۔