سورة الاعراف - آیت 200

وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ ۚ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور اگر کبھی شیطان آپ کو اکسائے [١٩٨] تو اللہ سے پناہ مانگئے۔ وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 200 (ینزغنک من الشیطن نزع) ” ابھارے آپ کو شیطان کی چھیڑ“ یعنی کسی وقت اور کسی حال میں بھی اگر آپ شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ، بھلائی کے راستے میں رکاوٹ، برائی کی ترغیب اور اکتاہٹ محسوس کریں (فاستعذ باللہ) ” تو اللہ تعالیٰ کی پناہ لیجیے“ اور اس کی حفاظت میں آ کر محفوظ ہوجایئے (انہ سمیع) ” بے شک وہ سننے والا ہے۔“ آپ جو کچھ کہتے ہیں اللہ اسے سنتا ہے۔ (علیم) ” جاننے والا ہے۔“ آپ کی نیت، آپ کی کمزوری اور آپ کی پناہ لینے کی قوت کو خوب جانتا ہے، وہ آپ کو اس کے فتنے سے محفوظ رکھے گا اور آپ کو اس کے وسوسوں سے بچائے گا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت):” کہو میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی، لوگوں کے بادشاہ حقیقی کی، لوگوں کے معبود کی، شیطان وسوسہ انداز کی برائی سے، شیطان پیچھے ہٹ جانے والے سے جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے خواہ وہ شیطان جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔ “ جب بندے کا غافل ہوجانا اور اس شیطان کا اس کو کچھ نہ کچھ شکار کرلینا لازمی امر ہے، جو ہمیشہ گھات لگائے رہتا اور بندے کی غفلت کا متنظر رہتا ہے، تو اب اللہ تعالیٰ نے گمراہ کرنے والوں سے بچ جانے والوں کی علامت ذکر کی ہے۔۔۔ اور صاحب تقویٰ جب شیطانی وسوسے کو محسوس کرلیتا ہے اور وہ کسی فعل واجب کو ترک کر کے یا کسی فعل حرام کا ارتکاب کر کے گناہ کر بیٹھتا ہے تو فوراً اسے تنبیہ ہوتی ہے، وہ غور کرتا ہے کہ شیطان کہاں سے حملہ آور ہوا ہے اور کون سے دروازے سے داخل ہوا ہے۔ وہ ان تمام لوازم ایمان کو یاد کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب قرار دیئے ہیں تو اسے بصیرت حاصل ہوجاتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے اور جو اس سے کوتاہی واقع ہوئی ہے، توبہ اور نیکیوں کی کثرت کے ذریعے سے اس کی تلافی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پس وہ شیطان کو ذلیل و رسوا کر کے دھتکار دیتا ہے اور شیطان نے اس سے جو کچھ حاصل کیا ہوتا ہے، سا پر پانی پھیر دیتا ہے۔ رہے شیاطین کے بھائی اور ان کے دوست، تو یہ جب کسی گناہ میں پڑجاتے ہیں تو یہ اپنی گمراہی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں، گناہ پر گناہ کرتے ہیں اور گناہ کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے، پس شیاطین بھی ان کو بدر اہ کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے کیونکہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ وہ نہایت آسانی سے ان کے تابع ہوجاتے ہیں اور برائی کے ارتکاب میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے، تو وہ ان کی بدراہی کے بہت، خواہش مند ہوجاتے ہیں۔