سورة الاعراف - آیت 179

وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا ۚ أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

بہت سے ایسے جنّ اور انسان ہیں جنہیں ہم نے جہنم کے لیے ہی پیدا کیا ہے۔[١٧٩] ان کے دل تو ہیں مگر ان سے (حق کو) سمجھتے نہیں اور آنکھیں ہیں لیکن ان سے دیکھتے نہیں اور کان ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں۔ ایسے لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے [١٨٠] اور یہی لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 179 اللہ تبارک و تعالیٰ راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں اور شیطان لعین کے پیروکاروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد ذرانا ) ” اور ہم نے پیدا کیا۔“ یعنی ہم نے پیدا کیا اور پھیلایا (لجھنم کثیراً من الجن والانس) ” جہنم کے لئے بہت سے جن اور آدمی“ پس چوپائے بھی ان سے بہتر حالت میں ہیں (لھم قلوب لایفقھون بھا) ” ان کے دل ہیں، جن سے وہ سمجھتے نہیں“ یعنی علم اور سمجھ ان تک راہ نہیں پاتے، سوائے ان کے خلاف قیام حجت کے (ولھم اعین لایبصرون بھا) ” ان کی آنکھیں ہیں، جن سے وہ دیکھتے نہیں“ یعنی وہ ان آنکھوں سے اس طرح نہیں دیکھتے کہ دیکھنا ان کے لئے فائدہ مند ہو بلکہ انہوں نے اپنی بینائ کی منفعت اور فائدے کو کھو دیا۔ (ولھم اذان لایسمعون بھا) ” ان کے کان ہیں، جن سے وہ سنتے نہیں“ وہ ان کانوں سے اس طرح نہیں سنتے کہ ان کے دلوں تک معانی و مفاہیم پہنچ جائیں۔ (اولئک) ” یہ“ یعنی وہ لوگ جو ان اوصاف قبیحہ کے حامل ہیں (کالانعام) ” چوپاؤں کی مانند ہیں“ جو عقل سے محروم ہیں۔ انہوں نے فانی چیزوں کو ان چیزوں پر ترجیح دی جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں پس ان سے عقل کی خاصیت سلب کرلی گئی (بل ھم اضل ) ” بلکہ وہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔“ یعنی وہ چوپاؤں سے بھی زیادہ گمراہ اور بے سمجھ ہیں کیونکہ بہائم سے تو وہ کام لئے جاتے ہیں جن کاموں کے لئے ان کو تخلیق کیا گیا ہے، ان کے ذہن ہیں جن کے ذریعے سے وہ مضرت و منفعت کا ادراک کرتے ہیں۔ بنا بریں چوپاؤں کا حال ان کے حال سے اچھا ہے۔ (اولئک ھم الغفلون) ” وہی لوگ ہیں غافل‘ جو سب سے زیادہ نفع مند چیز سے غافل ہیں وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان، اس کی اطاعت اور اس کے ذکر سے غافل ہیں حالانکہ ان کو دل، کان اور آنکھیں عطا کی گئیں، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کے حقوق کی ادائیگی میں ان سے مدد لیں، لیکن انہوں نے اس مقصد کے برعکس امور کے لئے ان کو استعمال کیا۔ پس یہ لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کو ان لوگوں میں شمار کیا جائے جن کو اللہ تعالیٰ نے جہنم کے لئے تخلیق کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگ میں جھونکنے کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ لوگ اہل جہنم کے اعمال سر انجام دے رہے ہیں۔ رہا وہ شخص جو ان جوارح کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں استعمال کرتا ہے، جس کا قلب اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کی محبت کے رنگ میں رنگا جاتا ہے اور وہ اللہ سے کبھی غافل نہیں ہوتا۔ پس ایسے ہی لوگ اہل جنت ہیں اور وہ اہل جنت کے اعمال سر انجام دیتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے جلال کی عظمت اور اس کے اوصاف کی وسعت کو بیان کرتی ہے، نیز یہ بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نام اسمائے حسنٰی ہیں، یعنی اس کا ہر نام اچھا ہے۔ اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر نام ایک عظیم صفت کمال پر دلالت کرتا ہے۔ اسی لئے ان اسماء کو اسمائے حسنیٰ کہا گیا ہے۔ اگر یہ اسماء صفات پر دلالت نہ کرتے بلکہ محض علم ہوتے تو یہ اسماء ” حسنیٰ“ نہ ہوتے اس طرح اگر یہ اسماء کسی ایسی صفت پر دلالت کرتے جو صفت کمال نہ ہوتی بلکہ اس کے برعکس صفت نقص یا صفت منقسم ہوتی یعنی بیک وقت مدح و قدح پر دلالت کرتے تب بھی یہ اسماء ” حسنیٰ“ نہ کہلا سکتے۔ پس اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہر اسم پوری صفت پر دلالت کرتا ہے جس سے یہ اسم مشتق ہے اور وہ اس صفت کے تمام معانی کو شامل ہے۔ مثلا اللہ تعالیٰ کا اسم مبارک (العلیم) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ایسے علم کا مالک ہے جو عام ہے اور تمام اشیاء کا احاطہ کئے ہوئے ہے، پس زمین و آسمان میں ایک ذرہ بھی اس کے دائرہ علم سے باہر نہیں۔ اس کا اسم مبارک (الرحیم) دلالت کرتا ہے کہ وہ عظیم اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ (القدیر) دلالت کرتا ہے کہ وہ قدرت عامہ کا مالک ہے کوئی چیز بھی اس کی قدرت کو عاجز اور لاچار نہیں کرسکتی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء کا کاملطور پر (حسنیٰ) ہونا یہ ہے کہ اس کو ان اسماء حسنیٰ کے وسا کسی اور اسم سے نہ پکارا جائے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے (فاد عوہ بھا) ” پس اس کو انہی ناموں سے پکاور“ اور اس دعا میں دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں شامل ہیں۔ پس ہر مطلوب میں اللہ تعالیٰ کو اس کے اس اسم مبارک سے پکارا جائے جو اس مطلوب سے مناسبت رکھتا ہے۔ پس دعا مانگنے والا یوں دعا مانگے ” اے اللہ مجھے بخش دے مجھ پر رحم کر بے شک تو بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ “” اے توبہ قبول کرنے والے میری توبہ قبول کر“ ” اے رزق دینے والے مجھے رزق عطا کر“ اور ” اے لطف و کرم کے مالک مجھے اپنے لطف سے نواز۔۔۔“ وغیرہ۔ (آیت) وذرو الذین یلجدون فی آسماء بہ سیجزون ماکانوا یعملون) ” اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں کج روی اختیار کرتے ہیں، عنقریب ان کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے گا“ یعنی اللہ تعالیٰ کی اسماء میں الحاد کی پاداش میں انہیں سخت سزا اور عذاب دیا جائے گا اور الحاد کی حقیقت یہ ہے کہ ان اسماء کو ان معانی سے ہٹا کر جن کے لئے ان کو وضع کیا یا ہے، دوسری طرف موڑنا،(اور اس کی مختلف صورتیں ہیں۔) (١) ان ناموں سے ایسی ہستیوں کو موسوم کرنا جو ان ناموں کی مستحق نہیں، مثلات مشرکین کا اپنے معبودوں کو ان ناموں سے موسم کرنا۔ (٢) ان اسماء کے اصل معانی و مراد کی نفی اور ان میں تحریف کر کے، ان کے کوئی اور معانی گھڑ لینا، جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہیں۔ (٣) ان اسماء سے دوسروں کو تشبہ دینا۔ پس واجب ہے کہ اسمائے حسنیٰ میں الحاد سے بچا جائے اور اسماء میں الحاد کرنے والوں سے دور رہا جائے۔ صحیح حدیث میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے، آپ نے فرمایا :” اللہ تبارک و تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو ان کو یاد کرلیتا ہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔“ (١) (ومن خلقنا امۃ یھدون بالحق“” اور ہماری مخلوقات میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں۔“ یعنی ان تمام لوگوں میں جن کو ہم نے پیدا کیا ہے ایک ایسا گروہ بھی ہے جو فضیلت کا مالک ہے، جو خود کامل (١) صحیح البخاری، کتاب الشروط، باب مایجوزمن الاشتراط والثنیا فی الاقرار۔۔۔ الخ، ح 2836 ہے اور دوسروں کی حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے، یہ لوگ حق کا علم رکھتے ہیں، اس پر عمل کرتے ہیں، حق کی تعلیم دیتے، اس کی طرف بلاتے اور اس پر عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ (وبہ یعدلون) ” اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں“ جب وہ لوگوں کے مال، خون، حقوق اور ان کے مقالات وغیرہ کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں تو حق کی بنیاد پر انصاف کرتے ہیں۔ یہ لوگ ائمہ ہدی اور تاریکیوں میں روشن قنادیل ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان، عمل صالح، حق کی وصیت اور صبر کی وصیت جیسی نعمتوں سے نوازا ہے۔ وہ صدیق ہیں جن کا مرتبہ رسالت کے بعد ہے اور خود ان کے مراتب میں ان کے احوال اور قدر و منزلت کے مطابق تفاوت ہے۔ پس پاک ہے وہ ذات جو اپنی رحمتکے لئے جس کو چاہتی ہے، مختص کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل کا مالک ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ان آیات کی تکذیب کی، جو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہونے والی کتاب اور ہدایت کی صحت پر دلالت کرتی ہیں، پس انہوں نے ان کو ٹھکرا دیا اور ان کو قبول نہ کیا (سنستدرجھم من حیث لایعلمون) ” ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسی جگہ سے پکڑیں گے جہاں سے ان کو خبر بھی نہ ہوگی“ یعنی اس طرح کہ اللہ تعالیٰ ان کو وافر رزق بہم پہنچاتا ہے۔ (واملی لھم) ” اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں“ یہاں تک کہ وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ان کا مواخذ ہ نہیں کیا جائے اور ان کو سزا نہیں دی جائے گی، پس وہ کفر اور سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان کے شر میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ بنا بریں ان کی سزا میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے اور ان کا عذاب کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور انہیں علم تک نہیں ہوتا۔ اس لئے فرمایا : (ان کیدی متین) ” میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔“ یعنی میری چال بہت مضبوط اور کارگر ہے۔ (اولم یتفکرواما بصاحبھم) ” کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو“ یعنی محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (من جنۃ) ” کوئی جنون نہیں“ یعنی کیا انہوں نے غفور و فکر نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کا حال، جس کو یہ اچھی طرح جانتے ہیں، چھپا ہوا نہیں ہے۔ کیا وہ پاگل ہے؟ پس اس کے اخلاق و اطوار، اس کی سیرت، طریقے اور اس کے اوصاف کو دیکھیں اور اس کی دعوت میں غور وفکر کریں۔ وہ اس میں کامل ترین صفات، بہترین اخلاق اور ایسی عقل و رائے کے سوا کچھ نہیں پائیں گے جو تمام جہانوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ وہ بھلائی کے سوا کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا اور برائ کے سوا کسی چیز سے نہیں روتکا۔ پس اے صاحبان عقل و دانش ! کیا اس شخص کو جنون لاحق ہے یا یہ شخص بہت بڑا ارادہ نما، کھلا خیر خواہ، مجدد کرم کا مالک اور رؤف و رحیم ہے؟ بنا بریں فرمایا : (ان ھو الا نذیر مبین) ” وہ تو صرف ڈرانے والا ہے“ یعنی وہ تمام مخلوق کو اس چیز کی طرف بلاتا ہے جو انہیں عذاب سے نجات دے اور سج سیا نہیں ثواب حاصل ہو۔ (اولم ینظروا فی ملکوت السموت ولارض) ” کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں نظر نہیں کی“ کیونکہ جب یہ لوگ زمین و آسمان کی بادشاہی میں غور و فکر کریں گے تو وہ اسے اس کے رب کی وحدانیت اور اس کیصفات کمال پر دلیل پائیں گے۔ (وما خلق اللہ من شیء) ” اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے“ اسیطرح وہ ان تمام چیزوں میں غور و فکر کریں، کیونکہ کائنات کے تمام اجزا اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی قدرت، اس کی حکمت او اس کی بے کراں رحمت، اس کے احسان، اس کی مشیت نافذہ اور اس کی ان عظیم صفات پر سب سے بڑی دلیل ہیں، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اکیلاخلق و تدبیر کا مالک ہے وہ اکیلا معبود محمود، وہ اکیلا پاکیزگی کا مستحق اور واحد محبوب ہے۔ فرمایا : (وان عسی ان یکون قد اقترب اجلھم) ” اور شاید کہ قریب آگیا ہو ان کا وعدہ“ یعنی وہ اپنے خصوصی احوال میں غور کریں اس سے قبل کہ ان کا وقت آن پہنچے اور اچانک ان کی غفلت اور اعراض کی حالت میں موت کا پنجہ ان کو اپنی گرفت میں لے لے اور اس وقت وہ اپنی کوتاہی کا استدراک نہ کرسکیں۔ (فبای حدیث بعدہ یومنون) ” تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے؟‘ یعنی اگر یہ اس جلیل القدر کتاب پر ایمان نہیں لائے تو پھر کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟ کیا یہ جھوٹ اور گمراہی کی کتابوں پر ایمان لائیں گے؟ کیا وہ ہر بہتان طراز اور دجال کی بات پر ایمان لائیں گے؟ مگر گمراہ شخص کی ہدایت کی کوئی سبیل نہیں۔ (آیت):” جس کو اللہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور اللہ چھوڑے رکھتا ہے ان کو گمراہ میں سرگرداں“ یعنی وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں پھرتے ہیں، وہ اپنی سرکشی سے نکل کر حق کی طرف نہیں آتے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ جناب محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتا ہے : (یسئلونک) ” آپ سے پوچھتے ہیں۔“ یعنی یہ جھٹلانے والے اور تلسبیس کی غرض سے سوال کرنے والے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھتے ہیں۔ (عن الساعۃ ایان مرسھا) ” قیامت کے بارے میں کہ اس کے واقع ہونے کا وقب کب ہے۔“ یعنی وہ وقت کب ہوگا جب قیامت کی گھڑی آئے گی اور مخلوق میں قیامت قائم ہوگی۔ (قل انما علمھا عند ربی) ” کہہ دیجیے ! اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے“ یعنی قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص ہے۔ (لایجلیھا لوقتھا الا ھو) ” وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا۔“ یعنی وہ وقت جو اس کے قائم ہونے کے لئے مقرر کیا ہوا ہے، صرف اللہ تعالیٰ ہی ظاہر کرے گا (ثقلت فی السموت والارض) ” وہ بھاری بات ہے آسمانوں اور زمین میں“ یعنی زمین و آسمان کے رہنے والوں پر قیامت کی گھڑی مخفی ہے، اس گھڑی کا معامل ان کے لئے نہایت شدید اور وہ اس گھڑی سے ہبت خوف زدہ ہیں۔ (لاتاتیکم الا بغتۃ ) ” اور وہ ناگہاں تم پر آجائے گی۔“ یہ گھڑی اچانک انہیں اسطرح آئے گی کہ وہ ان کے خواب و خیال میں بھی نہ ہوگی اور اس کے لئے وہ تیار بھی نہ ہوں گے۔ (یسئلونک کانک حفی عنھا) ” یہ آپ سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا آپ اس سے بخوبی واقف ہیں۔“ وہ اس گھڑی کے بارے میں آپ سے سوال کرنے کے بہت خواہش مند ہیں گویا کہ آپ اس سوال کے متعلق پورا علم رکھتے ہیں اور انہوں نے اس بات کو نہیں جانا کہ باوجود اس بات کے کہ آپ کو اپنے رب کی بابت کمال علم حاصل ہے اور یہ کہ رب سے کون سی بات پوچھنی فائدہ مند ہے، آپ ایسے سوال کی پروا نہیں کرتے تھے جو مصلحت سے خالی ہوتا اور جس کا جاننا ناممکن ہوتا، قیامت کی گھڑی کو کوئی رسول جانتا ہے نہ کوئی مقر فرشتہ اور اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل حکمت اور وسیع علم کی بنا پر مخلوق سے مخفی رکھا ہے۔ (آیت):” کہہ دیجیے ! اس قیامت کا علم اللہ کے پاس ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے“ اسی لئے وہ اس چیز کے خواہش مند ہوتے ہیں جس کی خواہش کرنا ان کے لئے مناسب نہیں۔ خاص طور پر وہ لوگ جو ان اہم امور کے بارے میں تو سوال کرتے، جن کے بارے میں علم حاصل کرنا ان پر فرض ہے اور ان امور کے بارے میں سوال کرتے ہیں جن کے بارے میں حصول علم کی کوئی سبیل نہیں ہوتی، نہ ان سے یہ مطالبہ ہی کیا جائے گا کہ انہوں نے اس کا علم حاصل کیوں نہیں کیا۔ (قل لا املک لنفسی نفعا ولا ضراً) ” کہہ دیجیے ! میں تو اپنے نفس کے لئے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا“ اس لئے ہ میں تو محتاج بندہ ہوں اور کسی دوسری ہستی کے دست تدبیر کے تحت ہوں۔ مجھے اگر کوئی بھلائی عطا ہوتی ہے تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور مجھ سے شر بھی کوئی دور کرتا ہے تو صرف وہی اور میرے پاس کوئی علم بھی نہیں، سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ مجھے عطا کیا ہے۔ (آیت):” اگر میں غیب جان لیا کرتا تو بہت بھلائیاں حاصل کرلیتا اور مجھے برائی کبھی نہ پہنچتی“ یعنی میں وہ اسباب مہیا کرلیتا جن کے بارے میں مجھے علم ہوتا کہ وہ مصالح اور منافع پر منتج ہوں گے اور میں ہر تکلیف دہ اور ناپسندیدہ چیز سے بچ جاتا کیونکہ مجھے ان کے وقوع کا بھی پہلے ہی سے علم ہوتا اور مجھے یہ بھی معلوم ہوتا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ مگر مجھے غیب کا علم نہ ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی تکلیف بھی پہنچتی ہے اور اسی وجہ سے کبھی کبھی مجھ سے دنیاوی فوائد اور مصالح بھی فوت ہوجاتے ہیں اور یہ اس بات کی اولین دلیل ہے کہ میں غیب کا علم نہیں جانتا (ان انا الا نذیر) ” میں تو صرف ڈر سنانے والا ہوں۔“ یعنی میں تو صرف دنیاوی، دینی اور آخروی سزاؤں سے ڈراتا ہوں اور ان اعمال سے آگاہ کرتا ہوں جو ان سزاؤں کا باعث بنتے ہیں اور سزاؤں سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں۔ (وبشیر) ” اور خوشخبری سنا نے والا ہوں۔“ اور ثواب عاجل و آجل کی منزل تک پہنچانے والے اعمال کو واضح کر کے اور ان کی ترغیب دے کر اس ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں مگر ہر شخص اس تبشیر و انداز کو قبول نہیں کرتا بلکہ صرف اہل ایمان ہی اس بشارت و انداز کو قبول کر کے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ آیات کریمہ اس شخص کی جالت کو بیان کرتی ہیں جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کو مقصود بناتا ہے اور حصول منفعت اور دفع مضرت کے لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پکارتا ہے۔۔۔ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اختیار میں کچھ بنی ہیں، جسے اللہ تعالیٰ نفع پہنچانا چاہے آپ اسے کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور اللہ تعالیٰ جس سے ضرور دور نہ کرے آپ اس سے ضرور کو دور نہیں کرسکتے۔ اسی طرح آپ کے پاس علم بھی صرف وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ صرف تبشیر و انداز اور ان پر عمل ہی فائدہ دیتا ہے جن کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کیا گیا۔ یہ تبشیر اور انداز ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے فائدہ ہے جو ماں باپ، دوست احباب اور بھائیوں کی طرف سے فائدہ پر فوقیت رکھتا ہے، یہی وہ نفع ہے جس کے ذریعے سے بندوں کو ہر بھلائی پر آمادہ کیا جاتا ہے اور ہر برائی سے ان کے لئے حفاظت ہے اور اس میں ان کے لئے حددرجہ بیان اور توضیح ہے۔ (ھو الذی خلقکم)’ دوہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔“ اے مرد و اور عورتو ! جو روئے زمین پر پھیلے ہوئے ہو، تمہاری کثرت تعداد اور تمہارے متفرق ہونے کے باوصف (من نفس واحدۃ) ” ایک جان سے۔“ اور وہ ہیں ابوالبشر آدم (وجعل منھا زوجھا) ” اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا“ یعنی آدم سے ان کی بیوی کیا گیا ہے اس لئے ان دونوں کے مابین ایسی مناسبت اور موافقت موجود ہے جو تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں اور شہوت کے تعلق سے ایک دوسرے کی اطاعت کریں۔ (فلما تغشھا) ” سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے۔“ یعنی جب آدمی نے اپنی بیوی سے مجامعت کی تو باری تعالیٰ یہ بات مقدر کردی کہ اس شہوت اور جماع سے ان کی نسل وجود میں آئے اور اس وقت (حملت حملاً خفیفاً) ” حمل رہا ہلکا سا حمل“ یہ کیفیت حمل کے ابتدائی ایام میں ہوتی ہے عورت اس کو محسوس نہیں کر پاتی اور نہ اس وقت یہ حمل بوجھل ہوتا ہے۔ (فلما) ” پس جب“ یہ حمل اسی طرح موجود رہا (اثقلت) ” بوجھل ہوگئی“ یعنی اس حمل کی وجہ سے، جب کہ وہ حمل بڑا ہوجاتا ہے تو اس وقت والدین کے دل میں بچے کے لئے شفقت، اس کے زندہ صحیح و سالم اور ہر آفت سے محفوظ پیدا ہون کی آرزو پیدا ہوتی ہے۔ بنا بریں (دعوا اللہ ربھما لئن اتیتنا) ” دونوں نے دعا کی اللہ اپنے رب سے، اگر بخشا تو نے ہم کو“ یعنی بچہ (صالحاً) ” صحیح و سالم“ یعنی صحیح الخلقت“ پورا اور ہر نقص سے محفوظ (لنکونن من الشکرین) ” تو ہم شکر گزار بندوں میں سے ہوں گے۔ “ فلما اتھما صالحاً ) ” پس جب وہ ان کو صحیح وسالم (بچہ) دیتا ہے۔“ یعنی ان کی دعا قبول کرتے ہوئے جب ان کو صحیح سالم بچہ عطا کیا اور اس بارے میں ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کردی (جعال للہ شرکآء فیمآء اتھما) ” تو اس میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں۔“ یعنی اس بچے کے عطا ہونے پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیئے۔ جس کو اکیلا اللہ تعالیٰ وجود میں لایا ہے اس نے یہ نعمت عطا کی ہے اور اسی نے یہ بچہ عطا کر کے والدین کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ پس انہوں نے اپنے بیٹے کو غیر اللہ کا بندہ بنا دیا۔ یا تو اسے غیر اللہ کے بندے کے طور پر موسوم کردیا مثلاً” عبدالحارث“ ” عبدالعزی‘ اور ” عبدالکعبہ“ وغیرہ۔ یا انہوں نے یہ کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان نعمتوں سے نوازا جن کا شمار کسی بندے کے بس سے باہر ہے، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شرک کیا۔ کلام میں یہ انتقام نوع سے جنس کی طرف انتقال کی قسم شمار ہوتا ہے کیونکہ کلام کی ابتدا آدم اور حوا کے بارے میں ہے پھر کلام آدم و حوا سے جنس کی طرف منتقل ہوگیا اور اس میں کوئی شک نہیں کہیہ شرک، آدم و حوا کی ذریت میں بہت کثرت سے موجود ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان سے شرک کے بطلان کا اقرار کروایا ہے نیز یہ کہ وہ اس بارے میں سخت ظالم ہیں، خواہ یہ شرک اقوال میں ہو یا افعال میں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان سب کو ایک جان سے پیدا کیا پھر اس جا نسے اس کا جوڑ پیدا کیا اور ان میں سے ان کے جوڑے پیدا کئے پھر ان کے درمیان مودت و محبت پید کی جس کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے پاس سکون پاتے ہیں، ایک دوسرے کے لئے الفت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے لذت حاصل کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف ان کی راہنمائی فمرائی جس سے شہوت، لذت، اولاد اور نسل حاصل ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے وقت مقررہ تک ماؤں کے بطن میں اولاد کو وجود عطا کیا۔ وہ بڑی امیدوں کے ساتھ اولاد کی پیدائش کا اتنظار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بچے کو صحیح سالم ماں کے پیٹ سے باہر لائے۔ پس (اس دعا کو قبول کرتے ہوئے) اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمت پوری کردی اور ان کو ان کا مطلوب عطا کردیا۔ تب کیا اللہ تعالیٰ اس بات کا مستحق نہیں کہ وہصرف اسی کی عبادت کریں، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اسی کے لئے اطاعت کو خالص کریں؟ مگر معاملہ اس کے برعکس ہے، انہوں نے ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا دیا (مالا یخلق شیاوھم یخلقون ولا یستطیعون لھم) ” جو پیدا نہ کریں کوئی چیز بھی اور وہ پیدا ہوئے ہیں اور نہیں کرسکتے وہ ان کے لئے“ یعنی اپنے عبادت گزاروں کے لئے (نصراً والا انفسھم ینصرون) ” مدد اور نہ اپنی ہی مدد کریں“ کسی کی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ خود اپنی مدد کرسکتے ہیں۔ جب (شریک ٹھہرائی ہوئی اس ہستی کی) یہ حالت ہو کہ وہ پیدا نہ کرسکتی ہو، ایک ذرہ بھی پیدا کرنے پر قادر نہ ہو بلکہ وہ خود مخلوق ہو اور وہ اپنے عبادت گزار سے کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے کی طاقت نہ رکھتی ہو بلکہ خود اپنی ذات سے بھی کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے پر قادر نہ ہو، تو بھلا اس کو اللہ کے ساتھ کیسے معبود بنایا جاسکتا ہے؟ بلاشبہ یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی حماقت ہے۔ (وان تدعوھم) ” اور اگر تم ان کو پکاور۔“ یعنی اے مشرکو ! اگر تم ان بتوں کو، جن کی تما للہ کے سوا عبادت کرتے ہو، پکارو (آیت):” راستے کی طرف، تو نہ چلیں تمہاری پکار پر، برابر ہے تم پر کہ تم ان کو پکارو یا چپکے ہو رہو“ ان معبودوں سے تو انسان ہی اچھا ہے کیونکہ یہ معبود سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں۔ یہ کسی کی راہنمائی کرسکتے ہیں نہ ان کی راہ نمائی کی جاسکتی ہے۔ ایک عقل مند شخص جب ان تمام امور کو مجرد طور پر اپنے تصور میں لاتا ہے تو اسے یقین ہوجاتا ہے کہ ان کی الوہیت باطل ہے اور جو کوئی ان کی عبادت کرتا ہے وہ بے وقوف ہے۔