سورة الاعراف - آیت 178

مَن يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِي ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اللہ جسے ہدایت دے وہی ہدایت [١٧٨] پا سکتا ہے اور جسے وہ گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 178 (واتل علیھم نبا الذی اتینہ ایتنا) ” اور سنا دوان کو حلال اس شخص کا جس کو ہم نے اپنی آیتیں دین“ یعنی ہم نے اسے کتاب اللہ کی تعلیم دی اور وہ ایک علامہ اور ماہر عالم بن گیا (فانسلخ منھا فاتبعہ الشیطن) ” پھر وہ ان کو چھوڑ نکلا اور شیطان اس کے پیچھے گیا“ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے علم سے حقیقی طور پر متصف نہ ہوا کیونکہ آیات الٰہی کا علم، صاحب علم کو مکارم اخلاق اور محاسن اخلاق سے متصف کردیتا ہے اور اسے اعلیٰ ترین درجات اور بلند ترین مقامات پر فائز کردیتا ہے۔ پس اس نے کتاب کو چھوڑ دیا اور ان اخلاق کو دور پھینک دیا جن کا حکم کتاب اللہ دیتی تھی اور ان اخلاق کو اس طرح (اپنی ذات سے) اتار دیا جس طرح لباس اتارا جاتا ہے۔ جب وہ آیات الٰہی سے نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور جب وہ مضبوط پناہ گاہ سے نکل بھاگا تو شیطان اس پر مسلط ہوگیا اور یوں وہ ادنیٰ ترین لوگوں میں شامل ہوگیا شیطان نے اسے گناہوں پر آمادہ کیا (اور وہ گناہوں میں گھر گیا) (فکان من الغوین) ” پس وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔“ جب کہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ کر اس کے نفس کے حوالے کردیا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ولوشئنا لرفعنہ بھا) ” اور اگر ہم چاہتے تو اس کا رتبہ ان آیتوں کی بدلوت بلند کردیتے‘ یعنی ہم اسے آیات الٰہی پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرتے اور یوں وہ دنیا و آخرت میں بلند درجات پاتا اور اپنے دشمنوں سے محفوظ ہوجاتا (ولکنہ) مگر اس نے ایسے افعال سر انجام دیئے جو اس بات کا تقاضا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی توفیق سے محروم کر دے۔ (اخلد الی الارض) ” وہ ہورا زمین کا“ یعنی وہ سفلی جذبات آقا و مولیٰ کی اطاعت چھوڑ دی۔ (فمثلہ) ” تو اس کی مثال“ پس دنیا کی حرص کی شدت اور اس کی طرف میلان میں اس کی حالت یہ ہوگئی (کمثل الکلب ان تحمل علیہ یلھث او تترکہ یلھث) ” جیسے کتا ہوتا ہے، اس پر تو بوجھ لادے تو ہانپے اور چھوڑ دے تو ہانپے“ یعنی وہ ہر حال میں (حرص کی وجہ سے) زبان باہر نکالے رکھتا ہے، سخت لالچی بنا رہتا ہے، اس میں ایسی حرص ہے جس نے اس کے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا ہے دنیا کی کوئی چیز اس کی محتاجی کو دور نہیں کرسکتی۔ (ذلک مثل القوم الذین کذبوا بایتنا) یہ مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا“ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنی آیات بھیجیں مگر انہوں نے ان کی اطاعت نہ کی بلکہ انہوں نے خواہشات نفس کی پیروی میں ان آیات کو جھٹلا کر ٹھکرادیا (فاقصص القصص لعلھم یتفکرون) ” پس بیان کرو یہ احوال، تاکہ وہ غفور و فکر کریں“ یعنی شاید وہ ان ضرب الامثال، آیات الٰہی اور عبرتوں میں غور و فکر کریں، کیونکہ جب وہ غور و فکر کریں گے تو انہیں علم حاصل ہوگا، جب علم حاصل ہوگا تو اس پر عمل بھی کریں گے۔ (آیت):” جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انہوں نے اپنا نقصان کیا۔“ یعنی اس شخص کی بہت بری مثال ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی اور مختلف قسم کے گناہ اور معاصی کے ذریعے سے اپنے نفس پر ظلم کیا۔ پس ان کی مثال بدترین مثال ہے۔ یہ شخص، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا، احتمال ہے کہ اس سے کوئی معین شخص مراد ہو جس سے یہ سب کچھ واقع ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اور بندوں کو تنبیہ کے لئے یہ قصہ بیان کیا اور اس میں احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد اس جنس ہ اور اس کے عمومی میں ہر وہ شخص شامل و جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا اور ان سے نکل بھاگا ہو۔ ان آیات کریمہ میں علم و عمل کرنے کی ترغیب ہے، نیز یہ کہ علم پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ صاحب علم کو رفعت عطا کرتا اور شیطان سے بچاتا ہے۔ نیز ان آیات کریمہ میں علم پر عدم عمل سے ڈرایا گیا ہے اس لئے کہ اگر علم پر عمل نہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عمل نہ کرنے والے کو اسفل سافلین کے جرجے پر اتار دیتا ہے اور اس پر شیطان کو مسلط کردیتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جو کوئی خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے اور شہوات میں دھنس جاتا ہے تو یہ چیز اس بات کا سبب بنتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ را ہراست دکھانا اور گمراہ کرنا صرف اسی اکیلے کے قبضہ قدرت میں ہے۔ چنانچہ فرمایا : (من یھد اللہ) ” جس کو اللہ ہدایت دے۔“ یعنی نیکیوں کی توفیق عطا کر کے اللہ تعالیٰ جسے راہ راست دکھا دے اور ناپسندیدہ امور سے بچا لے اور ان چیزوں کے علم سے نواز دے جنہیں وہ نہیں جانتا تھا (فھو المھتدی) ” تو وہی حقیقی ہدایت یافتہ ہے“ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو ترجیح دی۔ (ومن یضلل) ” اور جس کو گمراہ کر دے۔“ یعنی جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اور بھلائی کی توفیق سے محروم کر کے وہ گمراہ کر دے۔ (فاؤلئک ھم الخسرون) ” تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔“ یہی لوگ قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالنے والے ہیں۔ خبر دار ! یہی کھلا خسارہ ہے۔