سورة الاعراف - آیت 174

وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

ہم اپنی آیات اسی طرح تفصیل سے بیان کرتے ہیں اور اس لیے کرتے ہیں کہ لوگ (راہ راست) کی طرف لوٹ آئیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 174 یعنی انسانوں کی صلبوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کے درمیا نقرن بعد قرن سلسلہ تناسل وتوالد جاری ہوا۔ (و) ” اور“ جب ان کو ان کی ماؤں کے بطنوں اور ان کے آباؤ کی صلبوں سے نکالا (اشھدھم علی انفسھم الست بربکم) ” اقرار کرایا ان سے ان کی جانوں پر، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ یعنی ان کی فطرت میں اپنے رب ہونے، ان کا خالق و مالک ہونے کا اقرار ودیعت کر کے اپنی ربوبیت کے اثبات کا اقرار کروایا۔ (قالوا بلی) ” انہوں نے کہا ہاں ! ہم نے اقرار کیا“۔۔۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دین حنیف پر پیدا کیا ہے۔ پس ہر شخص کو دین حنیف پر تخلیق کیا گیا ہے۔ مگر عقل پر عقائد فاسدہ کے غلبہ کی وجہ سے کبھی کبھی فطرت میں تغیر و تبدیل واقع ہوجاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قالوا بلی شھدنا ان تقولوا یوم القیمۃ انا کناعن ھذا غفلین) ” وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں کہ قیامت کے دن کہیں یوں نہ کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی۔“ یعنی ہم نے تمہارا امتحان لیا حتی کہ تم نے اس بات کا اقرار کیا، جو تمہارے نزدیک ثابت ہے کہ اللہ تمہارا رب ہے اور ہم نے یہ امتحان اس لئے کہ کہیں تم قیامت کے روز انکار نہ کر دو اور کسی بھی چیز کا اقرار نہ کرو اور یہ دعویٰ کرنے لگو کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم نہیں ہوئی اور اس بارے میں تمہارے پاس کوئی علم نہ تھا بلکہ اس بارے میں تم بالکل لاعلم اور غافل تھے۔ پس آج تمہاری حجت منقطع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کی حجت تم پر قائم ہوگئی۔ یا تم ایک اور حجت سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہو۔ (آیت):” یہ شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا تھا اور ہم ان کے بعد ان کی اولاد ہوئے۔“ پس ہم ان کے نقش قدم پر چلے اور ان کے باطل میں ہم نے ان کی پیروی کی۔ (آیت):” کیا تو ہم کو ایسے فعل پر ہلاک کرتا ہے جو گمراہوں نے کیا“ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہاری فطرت میں ایسی چیز ودیعت کردی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کچھ تمہارے آباء واجداد کے پاس تھا وہ باطل تھا اور حق وہ ہے جو انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں اور یہ حق اس چیز کے خلاف اور اس پر غالب ہے جس پر تم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا۔ ہاں ! کبھی کبھی اپنے گمراہ آباء و اجداد کے بعض ایسے اقوال اور فاسد نظریات بندے کے سامنے آتے ہیں۔ آفاق و انفس میں اس کی آیات سے گریز کرتا ہے۔ اس کا یہ گریز اور اہل باطل کے نظریات کی طرف اس کا متوجہ ہونا اس کو اس مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں وہ باطل کو حق پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ ان آیات کریمہ کی تفسیر میں یہی قرین صواب ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے جناب آدم کی ذریت کو ان کی پیٹھ سے نکال کر ان سے عہد لیا اور ان کو خود ان کی ذات پر گواہ بنایا اور انہوں نے یہ گواہی دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت ان کو جو حکم دیا تھا اس کو دنیا و آخرت میں ان کے کفر و عناد میں ان کے ظلم کے خلاف ان پر حجت بنایا۔۔۔ مگر آیت کریمہ میں کوئی ایسی چیز نہیں جو اس قول کی تائید کرتی ہو یا اس سے مناسبت رکھتی ہو۔۔۔ نہ حکمت الٰہی اس کا تقاضا کرتی ہے اور واقعہ اس کا شاہد ہے، اسلئے کہ وہ عہد اور میثاق جس کا یہ لوگ ذکر کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کی ذریت کو ان کی پیٹھ سے نکالا اس وقت وہ چیونٹی کی مانند تھی، یہ عہد کسی کو یاد نہیں اور نہ کسی آدمی کے خیال میں اس میثاق کا گزر ہوا ہے۔۔۔ پس اللہ تعالیٰ کسی ایسی چیز کو بندوں کے خلاف کیسے دلیل بنا سکتا ہے جس کی انہیں کوئی خبر نہیں جس کی کوئی حقیقت ہے نہ اثر؟ (١) چونکہ یہ معاملہ نہایت واضح اور نمایاں ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وکذلک نفصل الایت) ” ہم اس طرح آیات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں“ (ولعلھم یرجعن) ” شاید وہ (اس چیز کی طرف) رجوع کریں، جو اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں ودیعت کی ہے اور شاید وہ اس عہد کی طرف لوٹیں جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس طرح وہ برائیوں سے باز آجائیں۔