سورة الاعراف - آیت 157

الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

جو لوگ اس رسول کی پیروی [١٥٤] کرتے ہیں جو نبی امی ہے، جس کا ذکر وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ رسول انہیں نیکی کا حکم دیتا اور برائی [١٥٥] سے روکتا ہے، ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کو حلال اور گندی چیزوں [١٥٦] کو حرام کرتا ہے، ان کے بوجھ ان پر سے اتارتا ہے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے [١٥٧] تھے۔ لہذا جو لوگ اس پر ایمان لائے اور اس کی حمایت اور مدد کی اور اس روشنی کی پیروی کی جو اس کے ساتھ [١٥٨] نازل کی گئی ہے تو یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(فالذین امنوا بہ وعزرہ) ” پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی“ (ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ) ” اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے“ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے (اولئک ھم المفلحون) ” وہی مراد پانے والے ہیں۔“ یہی لوگ میں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے، کیونکہ وہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہ لائے، انہوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہوسکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے۔۔۔ اس لئے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے۔ چنانچہ فرمایا :: (آیت) ” کہہ دیجیے اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں۔“ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کیطرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ (الذی لہ ملک السموت والارض) ” جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں“ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمہاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمہیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمہیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ (لا الہ الا ہو) ” اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں“ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔ (یحی ویمیت) ” وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔“ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہوسکتی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دار البقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دار البقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یقیناً تصدیق کرتا ہے۔ فامنوا باللہ و رسولہ النبی الامی) ” پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔“ یعنی اس نبی امی پر ایسا کامل ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ (الذی یومن باللہ وکلمتہ) ” جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر“ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے (واتبعوہ لعلکم تھتدون) ” اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ“ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے، کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ومن قوم موسیٰ امۃ ) ” موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں“ (یھدون بالحق وبہ یعدلون) ” جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں“ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :: (آیت) ” اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہنمائی کیا کرتے تھے جب تک وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے۔ “ اس آیت کریمہ میں امت موسیٰ کی فضیلت بیان ہوئی ہے، نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کئے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے“ کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہوسکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ تھے جو دوسرے لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔ وقطعنھم) ” اور ہم نے ان کو تقسیم کردیا۔“ (اثنتی عشرۃ اسباطاً امما) ” بارہ قبیلوں (کی شکل) میں، بڑی بڑی جماعتیں“ یعنی بارہ قبیلے بنا دیئے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوب کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ (واوحینا الی موسیٰ اذا ستسقہ قومہ) ” اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی“ یعنی جب انہوں نے موسیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انہیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔ کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰ کی طرف وحی فرمائی (ان اضرب بعصاک الحجر) ” اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار“ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (الحجر) اسم جنس کے لئے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے۔۔۔ پس حضرت موسیٰ نے پتھر پر عصا مارا (فانبجست) ”(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے“ (اثنتا عشرۃ عینا) ” بارہ چشمے“ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔ قد علم کل اناس مشربھم) ” سب لوگوں نے اپنا اپنا گھٹا معلوم کرلیا۔‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کردیا گیا اور ہر قبیلے کے لئے ایک چشمہ مقرر کردیا گیا اور انہوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انہوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ (وظللنا علیھم الغما) ” اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا“ پس یہ بادل انہیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ (وانزلنا علیھم المن) ” اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من“ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے (والسلوی) اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لئے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لئے پانی اور کھانے کے لئے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا : (کلوا من طیبت مارزقنکم وما ظلمونا) ” وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمہیں دیں اور انہوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دیتھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا (ولکن کانوآ انفسھم یظلمون) ” بلکہ انہوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا“ کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کرلیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کرلیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا،(واذ قیل لھم اسکنوا ھذہ القریۃ) ” جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔“ یعنی اس بستی میں داخل ہوجاؤ، تاکہ یہ بستی تمہارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ” ایلیاء“ یعنی ” قدس“ کی بستی تھی۔ (وکلوا منھا حیث شئتم) ” اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔“ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ (قولوا) یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ (حطۃ) یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ (وادخلوا الباب سجداً) ” اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو“ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے اور دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا (نغفرلکم خطیئتکم سنزید المحسنین) ” ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے۔ البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو“ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔ (فبدل الذین ظلموا منھم) ” پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے“ یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی (قولا غیر الذی قیل لھم) ” دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا“ پس انہوں نے طلب مغفرت اور (حطۃ) کو (حبۃ فی شعیرۃ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انہوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جاسکتی ہے۔ اس لئے وہ اپنی سرینوں پر گھسیٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ (فارسلنا علیھم) ” تو ہم نے ان پر بھیجا۔“ یعنی جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ (رجزاً من السمآء) ” آسمان سے سخت عذاب۔“ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔ (وسئلھم) ” ان (بنی اسرائیل) سے پوچھئے“ (عن القریۃ التی کائنت حاضرۃ البحر) ” اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی“ یعنی جب انہوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ (اذ یعدون فی السبت) ” جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں“ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احرام کریں، ہفتے کے روز شکار نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ (اذ تاتیھم حیتانھم یوم سبتھم شرعاً) ” جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر“ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں۔ (ویوم لایسبتون) ” اور جب سبت کا دن نہ ہوتا“ یعنی سبت کا دن گزر جاتا (لاتاتیھم) ” ان کے پاس نہ آتیں۔“ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ (کذلک نبلوھم بما کانوا یفسقون) ” اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لئے کہ وہ نافرمان تھے“ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کردیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔ پس انہوں نے شکار کے لئے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آ کر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔ (١) ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنہوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔ (٢) دوسرے وہ لوگ تھے جنہوں نے علانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔ (٣) تیسرے وہ لوگ تھے جنہوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انہوں نے منع کرنے والوں سے کہا : (لم تعظون قوما اللہ مھلکھم اومعذبھم عذاباً شدیداً) ” تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے“ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے، بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعددی پر جمے ہوئے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ (معذرۃ الی ربکم) ” تاکہ تمہارے رب کے ہاں عذرپیش کرسکیں“ (ولعلھم یتقون) ” اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں۔“ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کردیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں، بسا اوقات ان میں نصیحت کارگر ہوجاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عمذرت ہو، تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہوسکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو۔۔۔ اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کرسکے۔ (فلما نسوا ما ذکروا بہ) ” جب انہوں نے اس چیز کو بھلا دیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی“ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ (انجینا الذین ینھون عن السوآء) ” ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے“ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں۔ (واخذنا الذین ظلموا) ” اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو“ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے سبت کا قانون توڑا تھا (بعذاب بئیس ) ” برے عذاب میں“ یعنی سخت عذاب میں (بما کانوا یفسقون) ” اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔ “ رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا : (لم تحظون قوما اللہ مھلکھم) ” تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے۔“۔۔۔ اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کیساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنہوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا، نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہوجاتا ہے اور ان کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں۔ علاوہ ازیں انہوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی (لم تعظون قوما اللہ مھلکھم او معذبھم عذاباً شدیداً) ” تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انہیں سخت عذاب دینے والا ہے۔“ پس انہوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کردیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔ (فلما عتوا عن ما نھوا عنہ) ” پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے“ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انہوں نے نصیحت حاصل کی۔ (قلنا لھم) ” تو ہم نے ان سے کہا“ یعنی قضا و قدر کی زبان میں (کونوا قردۃ خسئین) ” ہوجاؤ تم بند ذلیل“ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا، پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کردی گئی۔ چنانچہ فرمایا : (واذ تاذن ربک) ” جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا“ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ (لیبعثن علیھم الی یوم القیمۃ من یسومھم سوء العذاب) ” کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا“ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا (ان ربک لسریع العقاب) ” بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔“ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ (وانہ لغفور رحیم) ” اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنیا کی انصاف پسند قوموں میں) ان کی کوئی مدد کرنے والا ہے۔ (وقطعنھم فی الارض امما) ” اور ہم نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کردیا۔“ جب کہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ (منھم الصلحون) ” کچھ ان میں نیک ہیں“ انمیں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں۔ (ومنھم دون ذلک) ” اور بعض اور طرح کے ہیں“ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ (ویلونھم) اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا (بالحسنت و السیات) ” خوبیوں میں اور برائیوں میں“ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے (لعلھم یرجعون) ” شاید کہ وہ لوٹ آئیں۔“ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں۔ (فخلف من بعدھم خلف) ” پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف“ ان کاشر بڑھ گیا (ورثوا الکتب) ” وہ (ان کے بعد) کتاب کے وارث بن گئے“ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انہوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کردیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا، تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔ (یاخذون عرض ھذا الادنی و یقولون) ” لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے“ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے (سیغفرلنا) ” ہم کو معاف ہوجائے گا“ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے، کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انہوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی، تو اپنے کئے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرین کا عزم کرتے۔۔۔ مگر اس کے برعکس جب ان کو مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انہوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کردیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (الم یوخذ علیھم میثاق الکتب ان لایقولوا علی اللہ الا الحق) ” کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے“ پس انہیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں۔ (و) درآنحالیکہ (درسوا مافیہ) ” انہوں نے اس کتاب کے مشولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔“ پس انہیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں، بلکہ انہوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انہوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (والدار الاخرۃ خیر للذین یتقون) ” اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو ڈرتے ہیں“ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں۔ (افلا تعقلون) ” کیا تم سمجھتے نہیں۔“ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کرسکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہئے اور کو نسی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لئے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے۔۔۔ عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہوجانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟ حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے (والذین یمسکون بالکتب) ” اور جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں۔“ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں۔ کتاب اللہ کے احکام و اخیار کا علم رکھتے ہیں۔ کتاب اللہ کے احکام و اخیار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنا بریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کا میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (انا لانضیع اجر المصلحین) ” ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔“ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا، بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (واذ نتقنا الجبل فوقھم) ” اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘ یعنی جب انہوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کردیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کردیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا (کانہ ظلۃ وظنوا انہ واقع بھم) ” گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔“ ان سے کہا گیا۔ (خذوا مآ اتینکم بقوۃ) ” پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے“ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ (واذکروا مافیہ) ” اور یاد رکھو جو اس میں ہے“ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو (لعلکم تتقون) ” شاید کہ تم بچ جاؤ۔“ جب تم یہ سب کچھ کرلو گے تو امید ہے کہ تم پرہیز گار بن جاؤ گے۔