سورة الاعراف - آیت 103

ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِم مُّوسَىٰ بِآيَاتِنَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَظَلَمُوا بِهَا ۖ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

ان کے بعد ہم نے [١٠٨] موسیٰ کو اپنے معجزات دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا مگر انہوں نے بھی ہمارے معجزات سے ناانصافی [١٠٩] کی۔ پھر دیکھ لو۔ فساد کرنے والوں کا کیا انجام ہوا

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 103 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل یمیں“ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا“ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔ یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وقال موسی) ” موسیٰ نے فرمایا“ یعنی موسیٰ نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا : (یفرعون انی رسول من رب العلمین) ” اے فرعون میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں“ یعنی وہ ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سلفی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیر الہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآنحالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔ جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لئے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں او اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰ کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰ لے کر آئے۔ اس لئے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں۔ (١) وہ موسیٰ پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں۔ (٢) بنی اسرائیل کو آزاد کردیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلل بختشی ہے۔ جو انبیاء کی اولاد اور یعقوب کا سلسلہ ہے اور موسیٰ اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ فرعون نے موسیٰ سے کہا (قال ان کنت جئت بایۃ فات بھآ ان کنت من الصدقین) ” اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔“ (فالقی عصاہ فاذا ھی ثعبان مبین) ” پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا“ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ (ونزع یدہ) ” حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا“ (فاذا ھی بیضآء للنظرین)’ دپس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔“ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔ مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنا بریں (قال الملامن قوم فرعون) ” قوم فرعون کے جو سرادار تھے وہ کہنے لگے۔“ یعنی جب انہوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کردیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لئے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے (ان ھذا السحر علیم) ” یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔“ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔ پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے (یرید“ یعنی اس فعل سے موسیٰ کا ارادہ ہے (ان یخرجکم من ارضکم) ” کہ وہ تمہیں تمہارے وطن سے نکال باہر کرے۔“ (فما ذا تامرون) ” اب تمہاری کیا صالح ہے“ یعنی انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے، تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔ تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انہوں نے فرعون سے کہا (ارجہ و اخاہ) ”(فی الحال) موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔“ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہر کار دوڑ ادو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ کے معجزات کا مقابلہ کرسکیں۔ چنانچہ انہوں نے موسیٰ سے کہا ” ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کرلو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔“ موسیٰ نے جواب میں فرمایا : (آیت) ” تمہارے لئے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہوجائیں۔ فرعون لوٹ گیا۔ اسنے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لئے آگیا۔ (وجآء السحرۃ فرعون) ” اور جادو گر فرعون کے پاس آپہنچے۔“ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعن کے پاس آئے اور کہنے لگے : (انا لنا لاجرا ان کنا نحن الغلبین) ” اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟“ (قال) فرعون نے کہا (نعم) ہاں تمہیں انعام سے نوازا جائے گا (وانکم لمن المقربین) ” اور اس پر مستزادیہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہوجاؤ گے۔“ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کرلیا تاکہ وہ موسیٰ کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کردیں۔ جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰ کے مقابلے میں آئے۔ (قالوا) تو انہوں نے موسیٰ کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا : (یموسی اما ان تلقی) ” اے موسیٰ ! یا تم ڈالو۔“ یعنی تمہارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ (واما ان نکون نحن الملقین) ” یا ہم ڈلاتے ہیں۔“ یعنی ہم اپنا جادو کھاتے ہیں۔ (قال) موسیٰ نے کہا (القوا) ” ڈالو تم“ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰ کے پاس کیا ہے (فلما القوا)’ دپس جب انہوں نے ڈالیں۔“ یعنی جب انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئیں ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں۔ (سحروآ اعین الناس واسترھبوھم وجآء و بسحر عظیم) ” اس طرح انہوں نے جادوگر کے ان کی نظر بندی کردی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔“ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔ (واوحینا الی موسیٰ ان الق عصاک) ” اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے۔“ پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا (فاذا ھی) ” وہ فوراً) یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا (تلقف مایافکون) اور انہوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔ (فوقع الحق) ” تو حق ثابت ہوگیا۔‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا (وبطل ماکانوا یعملون) ” اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔“ (فغلبوا ھنالک) ” اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔“ (وانقلبوا صغرین) ” اور روہ حقیر بن کر رہ گئے“ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انہیں وہ مقصد حاصل نہ ہوسکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے، جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہنچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے۔۔۔ و جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انہوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ (آیت) ” جادو گر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہانوں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہاورن کے پروردگار پر۔“ یعنی موسیٰ جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں۔ (قال فرعون) فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہکا (امنتم بہ قبل ان اذن لکم) ” کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے“ وہ خبیث شخص، جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لئے جائز نہیں۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہوجاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فاستخف قومہ فاطاعوہ) (الزخرف :83/53) ” پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انہوں نے اس کی بات مالی۔“ یہاں فرعون نے کہا (امنتم بہ قبل ان ذن لکم) ” اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔“ یعنی یہ تمہاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے۔ پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا (ان ھذا المکر مکر تموہ فی المدینہ لتخرجوا منھا اھلھا) ” بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔“ یعنی موسیٰ تمہارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو۔ پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمہاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰ کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہر کاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰ نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگر ان کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا (فسوف تعلمون) ” تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا“ کہ تم کس سزا سے دو چار ہونے والے ہو۔ (لاقطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف) ” میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔“ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہٰذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا۔۔۔ یعنی دایاں ہاتھ اور بائیاں پاؤں (ثم لاصلبنکم) ” پھر تم کو سولی دوں گا۔“ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ (اجمعین) ” سب کو“ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔ ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انہوں نے کہا : (انا الی ربنا منقلبون) ” ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں“ یعنی ہمیں تمہاری سزا کی کوئی پروا نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لئے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کرلے۔ (وما تنقم منآ) ” تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔“ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں (الا ان منا بایت ربنا لما جآء تنا) ” سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں“ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انہیں ثابت قدمی عطا کرے اور انہیں صبر سے نوازے۔ (ربنا افرغ علینا صبراً) ” ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر“۔۔۔ جیسا کہ (صبرا) میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے۔۔۔ کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جا نکے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہوجائے۔ (وتوفنا مسلمین) ” اور ہمیں مسلمان مارنا۔“ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تباع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں۔ ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔ یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیرو کار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کردیا۔ انہوں نے فرعون کو موسیٰ پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے۔۔۔ کہا (اتذر موسیٰ و قومہ لیفسدوا فی الارض) ” کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں۔“ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو، تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ (ویذرک والھتک) ” وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے“ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ (قال) فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم۔۔۔ بزعم خود۔۔۔ ان کے ضرر سے محفوظ ہوجائیں گے۔ چنانچہ کہنے لگا : (سنقتل ابنآء ھم ونستحی نسآء ھم) ” ہم ان کے یٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے“ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انہیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھ لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ (وانا فوقھم قھرون) ” اور ہم ان پر غالب ہیں“ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔ (قال موسیٰ لقومہ) (موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا۔“ ان حالات میں، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰ نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا : (استعینوا باللہ) ” اللہ سے مدد طلب کرو“ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمہارے لئے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمہارے لئے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمہارے معاملے کو پورا کرے گا۔ (واصبروا) ” اور صبر کرو۔“ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید کرھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ (ان الارض للہ) ” زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے“ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں (یورثھا من یشآء من عبادہ) ” وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت، تب بھی بالاخر کامیابی انہی کے لئے ہے۔ (والعاقبۃ) ” اور اچھا انجام“ (للمتقین) ” متقین کیلئے ہے“ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ یہ بندہ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔ (قالوآ) بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے۔۔۔ موسیٰ سے کہا : (اوذینا من قبل ان تاتیناً) ” ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے“ کیونکہ انہوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کردیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے (ومن بعد ماجئتنا) ” اور آپ کے آنے کے بعد بھی“ ایسا ہی سلوک ہے (قال) جناب موسیٰ نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا : (عسی ربکم ان یھلک عدوکم ویستخلفکم فی الارض) ” امید ہے کہ تمہارے رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنا دے“ یعنی زمین میں تمہیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمہارے سپرد کر دے۔ (فینظر کیف تعملون) ” پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو“ اللہ تعلایٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آگیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کردیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں (ولقد اخذنا ال فرعون بالسنین) ” ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کردیا۔“ (ونقص من الثمرات لعلھم یذکرون) ” اور رومیوں کے نقصان میں پڑکاتا کہ نصیحت حاصل کریں۔“ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی گئ اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہو اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدسوتر جمے رہے۔ (فاذا جآء تھم الحسنۃ) ” پس جب پہنچتی ان کو بھلائی“ یعنی جب انہیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ (قالو الناھذہ) تو کہتے ” ہم اس کے مستحق تھے“ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ (وان تصبھم سیءۃ) ” اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی“ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی (یطیروا بموسیٰ و من معہ) ” تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی“ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (الا انما طئرھم عند اللہ) ” ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے“ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں (ولکن اکثرھم لایعلمون) ” لیکن انکے اکثر لگو نہیں جانتے“ بنا بریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں۔ (وقالوا) ” اور انہوں نے کہا۔“ یعنی انہوں نے موسیٰ پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ (مھما تاتنا بہ من ایۃ لتسحرنا بھما فما نحن لک بمؤمنین) یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادو گر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لئے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لئے حالات برابر ہیں۔ (فارسلنا علیھم الطوفان) ” ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔“ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انہیں بہت بڑا نقصان اٹھاناپڑا۔ (والجراد) ” اور ٹڈیاں“ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ (والقمل) ” اور جوئیں۔“ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ (والصفادع) ” اور مینڈک“ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لئے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے (والدم) ” اور خون“ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔ (والضفادع) ” اور مینڈک“ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لئے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے (والدم) ” اور خون“ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔ (ایت مفصلت ) ” نشانیاں جدا جدا“ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰ حق اور صداقت پر ہیں۔ (فاستکبروا) ” پس انہوں نے تکبر کیا۔“ جب انہوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ( وکانوا قوما مجرمین) ” اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔“ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہ پر برقرار رکھا۔ ولما وقع علیھم الرجز) ” اور جب ان پر عذاب واقع ہوا“ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہوسکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون، یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں۔۔۔ یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا (قالوا یموسی ادع لنا ربک بما عھد عندک) ” تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے“ یعنی وہ موسیٰ کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے : (لائن کشفت عنا الرجو لنومنن لک و لنرسلن معک بنی اسرآئیل) ” اگر دور کردیا تو نے ہم سے یہ عذاب، تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو“ وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے ہو وہ عذاب دور ہوجائے جو ان پر نازل ہوچکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔ (فلما کشفنا عنھم الرجز الی اجل ھم بلغوہ) ” پھر جب ہم ایک مدت کے لئے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔“ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کردیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لئے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لئے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ (اذا ھم ینکثون) ” تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے“ وہ موسیٰ پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کردینے کے عہد کو، جو انہوں نے موسیٰ سے کیا تھا، توڑ دیتے۔ وہ موسیٰ پر ایمان لائے نہ انہوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا، بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انہوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔ (فانتقمنا منھم) ” پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے“ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لئے مقرر کیا ہوا وقت آگیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ (فارسل فرعون فی المدآئن خشرین) (الشعراء، 53/26) ” پس فرعون نیتمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کردیئے۔“ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ (آیت) ” یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انہوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لئے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو بھی قریب لے آئے اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق دیا۔ “ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فاغرقنھم فی الیم بانھم کذبوا بایتنا وکانو عنھا غفلین) ” پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔“ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں، ہم نے ان کو غرق کردیا۔ (واورثنا القوم الذین کانوا یستضعفون) ” اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے“ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ (مشارق الارض و مغاربھا) ” اس زمین کے مشرق و مغرب کا“ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سر زمین مصر ہے۔ (١) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا (١) بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طور پر دوبارہ مصر جاناثابت نہیں۔ اس لئے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا لعاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور کر رکھا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سر زمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کردی۔ (آیت) ” جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہوگیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے“ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰ نے ان سے کہا (آیت) ” اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیز گاروں کے لئے ہے۔ “ (آیت) ” اور تباہ کردیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے“ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کردیئے (وما کانوا یعرشون) ” اور (وہ انگور کے باغات تباہ کردیئے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔“ یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لئے نشانی ہے۔ (آیت) ” اور پارا تار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے“ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعن اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ (فاتوا) ” پس وہ پہنچے“ یعنی ان کا گزر ہوا (علی قوم یعکفون علی اصنام لھم) ” ایکق وم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔“ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ (قالوا) بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰ سے کہا (یموسی اجعل لنا الھا کما لھم الھۃ) ” اے موسیٰ ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں، ہمارے لئے بھی ایک معبود بنا دو۔“ یعنی تو ہمارے لئے بھی جائز کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔ (قال) موسیٰ نے ان سے کہا (انکم قوم تجھلون) ” تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو“ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہوسکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟ بنا بریں موسیٰ نے فرمایا : (ان ھولآء متبر ماھم فیہ وبطل ماکانوا یعملون) ” یہ لوگ، ہاورن کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نون نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لئے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ” ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔“ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بنی اسرائیل :1/17) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (صی۔ ی) تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں“ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔ فرمایا (اغیر اللہ ابغیکم الھاً) ” کیا میں اللہ کے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کروں۔“ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کروں (وھو فضلکم علی العلمین) ” حالانکہ اس نے تمہیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے“ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو۔۔۔ اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (واذا انجینکم من ال فرعون) ” جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔“ یعنی جب ہم نے تمہیں فرعن اور آل فرعون سے نجات دی (یسومونکم سوٓء العذاب) ” دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب“ انہوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ (یقتلون ابناء کم ویستحیون نسآء کم وفی ذلکم) ” کہ مار ڈالتے تھے تمہارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمہاری عورتوں کو اور اس میں“ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں (بلآء من ربکم عظیم) ” تمہارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔“ یا اس کا معنی یہ ہے کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ” تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے لئے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔“ پس جب حضرت موسیٰ نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کردی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی میعاد پوری کردی تاکہ موسیٰ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرلیں، تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انہیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰ اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انہوں نے ہاورن سے بنی اسرائیل کے بارے میں، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا : (اخلفنی فی قومی) ” میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔“ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا (واصلح) ” اصلاح کرتے رہنا۔“ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ (ولاتتبع سبیل المفسدین) ” اور مفسدوں کی راہ مت چلنا“ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ (ولما جآء موسیٰ لمیقاتنا) ” اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر“ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لئے کر رکھا تھا (ولکمہ ربہ) ” اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔” یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامرونواہی سے نوازا، تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ (قال رب ارنی انظر الیک) ” عرض کیا، اے میرے رب ! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں“ (قال لن ترئنی) ” فرمایا، تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔“ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لئے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنتا میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کرسکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کیطاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کرسکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرہ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کرسکیں گے۔ اسی لئے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰ کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لئے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی۔ چنانچہ فرمایا : (ولکن انظر الی الجبل فان استقر مکانہ) ” لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا“ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ (فسوف ترینی) ” تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔ “ فلما تجلی ربہ للجبل) ” جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی“ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ (جعلہ دکا) ” تو اسے ریزہ ریزہ کردیا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا (وخر موسیٰ صعقاً) ” اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔“ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ (فلما افاق) ” جب وہ ہوش میں آئے۔“ یعنی جب موسیٰ کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰ نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لئے انہوں نے عرض کیا (سبحنک) ” تیری ذات پاک ہے۔“ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں۔ (تبت الیک) ” اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔“ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں۔ (وانا اول المؤمنین) ” اور میں سب سے پہلے یقین لایا“ یعنی موسیٰ نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کردیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیار سے محروم کردیا حالانکہ موسیٰ دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر تے نواز دیا۔ (قال یموسی انی اصطفیتک علی الناس)’ داے موسیٰ! میں نے لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔“ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا (برسلتی) ’ اپنی رسالت کے لئے“ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں۔ (وبکلامی) ” اور اپنے کلام کے لئے“ میں نے بلا واسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰ کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں۔ (فخذما اتیتک) ” تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔“ یعنی میں نے تمہیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امرونہی نازل کئے ہیں انہیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو (وکن من الشکرین) ” اور (میرا) شکر بجا لاؤ۔“ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔ (وکتبنا لہ فی الالواح من کل شیء) ” اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لئے ہر چیز لکھ دی۔“ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ (موعظۃ) ” اور نصیحت“ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ (وتفصیلاً لکل شیء) ” اور ہر چیز کی تفصیل“ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ (فخذھا بقوۃ) ” پس پکڑ لو ان کو زور سے“ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ (وامر قومک یا خذوا باحسنھا) ” اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں“ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں۔ (س اور یکم دارالفسقین) ” عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر“ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں۔ رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا : (ساصرف عن ایتی) ” میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا“ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ (الذین یتکبرون فی الارض بغیر الحق) ” ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق“ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کردیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔۔۔ بلکہ بسا اوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ (وان یروا کل ایۃ لا یومنوا بھا) ” اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں، ایمان نہ لائیں ان پر“ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرتے ہیں (وان یروا سبیل الرشد) ” اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ“ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ۔۔۔ اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ (لایتخذوہ سبیلا) ” تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ“ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں۔ (وان یروا سبیل الغنی) ” اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا رساتہ“ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ (یتخذوہ سبیلاً) ” تو اس کو ٹھہرا لیں راہ“ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے (ذلک بانھم کذبوا بایتنا وکانوا عنھا غفلین) ” یہ اس لئے کہ انہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے“ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختایر کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں۔ (والذین کذبوا بایتنا ) ” اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا“ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ (ولقآء الاخرۃ حبطت اعمالھم) ” اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہوگئے اعمال ان کے“ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے (ھل یجزون) ” وہی بدلہ پائیں گے“ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں (الا ماکانوا یعملون) ” جو کچھ وہ عمل کرتے تھے“ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنا بریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔ (واتخذ قوم موسیٰ من بعدہ من حلیھم عجلاً جسداً) ” اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن“، بچھڑے کے اس بات کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ (لہ خوار) ” اس کی آواز تھی۔“ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگے۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مانلیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔ سامری نے کہا ” یہ تمہارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے۔“۔۔۔ یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت تھی ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں۔ چنانچہ فرمایا : (الم یروا انہ لا یکلمھم) ” کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا“ یعنی کلام کرنے سے محروم ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ (ولا یھدیھم سبیلاً) ” اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ“ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کرسکتا اور نہ انہیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کرسکتا ہے۔ انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کرسکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنا بریں فرمایا : (اتخذوہ وکانوا ظلمین) ” انہوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے“ کیونکہ انہوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے، تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کرسکتی۔ (ولما) ” اور جب“ یعنی جب موسیٰ اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انہیں بڑی ندامت ہوئی۔ (سقط فی ایدیھم) ” پچھتائے“ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے (وراوا انھم قدضلوا) ” اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں“ تو انہوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے برأت کا اظہار کیا۔ (قالوا لئن لم یرحمنا ربنا) ” اور انہوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔“ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے (ویغفرلنا) ” اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔“ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ (لنکونن من الخسرین) تو ہم یقیناً ان لوگوں میں شامل ہوجائیں گے جنہیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔ (ولما رجع موسیٰ الی قومہ غضبان اسفا) ” اور جب موسیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔“ یعنی موسیٰ ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ (قال بئسما خلفتمونی من بعدی) ” کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بد اطواری کی۔“ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال و اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں۔ (اعجلتم امر ربکم) ” کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی“ کیونکہ اس نے تمہارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ (والقی الالواح) ” اور (ورات کی) تخیاں ڈال دیں۔“ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ (واخذ براس اخیہ) ” اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ۔“ (یاجرہ الیہ) ” اپنی طرف کھینچا“ اور ان سے کہا : (مامنعک اذ رایتھم ضلوآ الا تتبعن افعصیت امری) (طہ :93-92/2) ” جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمہیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟“ یعنی میرے حکم (اخلفنی فی قومی واصلح ولا تتبع سبیل المفسدین) (الاعراف :132/8) کی نافرمانیکی۔ ہاورن نے عرض کیا (آیت) ” اے میرے ماں جائے بھائی ! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیئے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو محلوظ نہ رکھا۔ “ (قال ابن ام) ” کہا اے ماں جائے“ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لئے کیا ہے ورنہ ہاورن ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰ کے بھائی تھے۔ (ان القوم استضعفونی) ” لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا“ یعنی جب میں نے ان سے کہا : (آیت) ” اے میری قوم ! اس سے تمہاری آزمائش کی گئی ہے، تمہارا پروردگار تو اللہ رحمٰن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔ “ (وکادوا یقتلونی) ” اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں“ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں (فلا تشمت بیالاعدآء ) ” پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو“ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انہیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ (ولا تجعلنی مع القوم الظلمین) ” اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملائیے۔“ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں۔ موسیٰ نے عجلت میں، اپنے بھائی کی برأت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انہیں سخت ندامت ہوئی۔ (قال رب اغفرلی ولاخی) ” موسیٰ نے عرض کی کہ اے میرے رب ! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔“ (وادخلنا فی رحمتک) ” اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔“ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے، کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مستر کا سرچشمہ ہے۔ (وانت ارحم الرحمین) ” اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے“ یعنی تو ہمارے ماں، باپ اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ان الذین اتخذوا العجل) ” وہ لوگ جنہوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا“ (آیت) ” ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں“ جیسا کہ انہوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ (وکذلک نجزی المفترین) ” اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی، چنانچہ انہیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں۔ پس انہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں، فرمایا : (والذین عملوا السیات) ” اور جنہوں نے برے اعمال کئے۔“ یعنی جنہوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا (ثم تابوا من بعدھا) ” پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔“ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کرلیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ (وامنوآ) اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ (ان ربک من بعدھا) ” بے شک تمہارا رب اس کے بعد“ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد (لغفور) ” بخشنے والا۔“ وہ گناہوں کو بخش کر انہیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں (رحیم) ” رحم کرنے والا ہے۔“ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔ (ولما سکت عن موسیٰ الغضب) ” اور جب موسیٰ کا غصہ فرد ہوا۔“ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آ کر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم ترامور میں مشغول ہوگئے۔ (اخذ الالواح) ” انہوں نے ان تختیوں کو اٹھایا، جن کو انہوں نے غصے میں آ کر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں۔ (وفی نسختھا) ” اور ان میں جو لکھا ہوا تھا، یعنی یہ تختیاں جس چیز پر مشتمل تھیں (ھدی و رحمۃ) ” اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔“ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہنمائی، اخلاق و آداب کو ان تخیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تخیوں میں ان لوگوں کے لئے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ (للذین ھم لربھم یرھبون) ” جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔“ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوجائے گی۔ جب بنی اسرائیل نے توبہ کرلی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ (واختار موسیٰ قومہ) ” اور چن لئے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے“ (سبعین رجلاً) ”(بہترین) ستر آدمی“ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایک وقت مقرر کردیا تھا، تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاض ر ہوئے تو انہوں نے موسیٰ سے کہا : (ارنا اللہ جھرۃ) (النساء :153/3) ” ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا“ پس انہوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ (اخذتھم الرجفۃ) ” تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔ پس موسیٰ اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑ گڑاتے رہے۔ انہوں نے عرض کیا : (رب لوشئت اھلکتھم من قبل و ایای) ” اے میرے رب ! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کی میقات کی طرف نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کردیتا“ (اتھلکنا بما فعل السفھآء منا) ” کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا“ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰ اللہ تعالیٰ کے حضور گڑا گڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہوجاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہوجاتا ہے۔ موسیٰ نے عرض کیا : (آیت) ” یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے، تو وہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے“ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ” اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔ رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کیطرف پھیر دیا، تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرن والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔“ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی دعا قبول کرلی اور ان (ستر آدمیوں) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کردیا اور ان کے گناہ بخش دیئے۔ موسیٰ نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کیا (واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ) ” اور لکھ دے ہمارے لئے اس دنیا میں بھلائی“ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ (وفی الاخرۃ) ” اور آخرت میں“ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لئے تیار کر رکھا ہے۔ (انا ھدنا الیک) ” ہم تیری طرف رجوع کرچکے۔“ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ (قال) اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (عذابی اصیب بہ من اشآء) ” میرا عذاب، پہنچتا ہے میں اس کو جس کو چاہوں“ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے (ورحمتی وسعت کل شیء) ” اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو“ میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سلفی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو، مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا : (فسا کتبھا للذین یتقون) ” سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لئے جو ڈر رکھتے ہیں“ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں (ویوتون الزکوۃ) ” اور جو (مستحق لوگوں کو) زکوۃ دیتے ہیں“ (والذین ھم بایتنا یومنون) ” اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں“ اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع ہے۔ : (آیت) ” وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبی امی ہے“ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے، کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عباللہ بن عبدالمطلب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقصود ہیں۔ یہ آیت نبی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لئے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لئے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو (الامی) کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت تھے جو لکھ سکتے تھے نہ پڑھ سکتے تھے اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ (الذی یجدونہ مکتوباً عندھم فی اللتواریۃ والانجیل) ” وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات) کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں“ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں۔ (یامرھم بالمعروف) ” وہ معروف کا حکم دیتے ہیں۔“ اور (معروف) سے مراد ” ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔“ (وینھھم عن المنکر) ” اور برے کاموں سے روکتے ہیں۔“ (منکر) سے مراد ” ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو“ پس وہ نماز، زکوۃ، روزے حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں، جن سے آپ روکتے ہیں، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں۔ اس لئے (ویحل لھم الطیبت) ” وہ حلال کرتا ہے ان کے لئے سب پاک چیزیں“ یعنی آپ ماکولات، مشروبات اور منکوحات میں سے طیبات اور پاک چیزوں کو حلال قرار دیتے ہیں۔ (ویحرم علیھم الخبئث) ” اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں۔“ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ : (آیت) ” اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں۔“ یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک صوف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دنیا میں کوئی بوجھ، کوئی ناورا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔