سورة الاعراف - آیت 102

وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍ ۖ وَإِن وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

ان میں اکثر لوگ ایسے تھے جن میں ہم نے عہد کا لحاظ نہ پایا اور ان [١٠٧] میں سے اکثر کو فاسق ہی پایا

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 102 اللہ تبارک و تعالیٰ گزشتہ قوموں کی ہلاکت کے بعد باقی رہ جانے والی قوموں کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : (آیت) ” کیا ان لوگوں کو جو اہل زمین کے (مر جانے کے) بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں۔ کیا ان امتوں پر واضح نہیں ہوا جو ان قوموں کے اپنے گناہوں کے سبب سے ہلاکت کے بعد، جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں، زمین میں وارث نبی ہیں؟ پھر انہوں نے بھی ان ہلاک ہونے والے لوگوں جیسے اعمال کا ارتکاب شروع کردیا۔ کیا انہیں اس حقیقت کا علم نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں بھی ان کے گناہوں کے سبب سے پکڑ لے؟ کیونکہ اولین و آخرین کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے۔ (ونطبع علی قلوبھم فھم لایسبعون) ” اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیں، پس وہ نہ سنیں۔“ یعنی جب اللہ تعالیٰ انہیں تنبیہ کرے تو وہ متنبہ نہ ہوں، انہیں نصیحت کرے، مگر وہ نصیحت نہ پکڑیں اور اللہ تعالیٰ آیات اور عبرتوں کے ذریعے سے ان کی راہ نمائی کرے، مگر وہ راہنمائی حاصل نہ کریں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دیتا ہے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے پس ان کے دلوں پر میل کچیل جم جاتا ہے اور وہ زنگ آلود ہوجاتے ہیں۔۔۔ ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے حق ان میں داخل نہیں ہوسکتا، بھلائی ان تک پہنچ نہیں سکتی۔ وہ کوئی ایسی بات نہیں سن سکتے جو انہیں فائدہ دے۔ وہ تو صرف وہی بات سن سکتے ہیں جو ان کے خلاف حجت بنے گی۔ (تلک القریٰ) ” وہ بستیاں“ یعنی وہ بستیاں جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے (نقص علیک من انبآءھا) ” ہم بیان کرتے ہیں آپ پر ان کی کچھ خبریں“ جس سے بعرت حاصل کرنے والوں کو عبرت حاصل ہوتی ہے، ظالموں کے لئے اجر و توبیخ ہے اور اہل تقویٰ کے لئے نصیحت (ولقد جآء تھم رسلھم بالبینت) ” اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔“ یعنی ان جھٹلانے والوں کے پاس ان کے رسول آئے جو ان کو ان امور کی طرف دعوت دیتے تھے جن میں ان کی سعادت تھی، اللہ تعالیٰ نے ظاہر معجزات کے ذریعے سے ان رسولوں کی تائید کی اور حق کو کامل طور پر واضح کردینے والے دلائل کے ذریعے سے ان کو توقیت بخشی۔ مگر اس چیز نے انہیں کوئی فائدہ دیا نہ ان کے کسی کام آئی۔ (فما کانوا لیؤمنوا بما کذبوا من قبل) ” پھر ہرگز نہ ہوا کہ ایمان لائیں اس بات پر جس کو پہلا جھٹلا چکے تھے“ یعنی ان کی تکذیب اور حق کو پہلی مرتبہ رد کردینے کے سبب سے اللہ تعالیٰ ایمان کی طرف ان کی راہ نمائی نہیں کرے گا، یہ حق کو ٹھکرا دینے کی سزا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے وہ اس پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے (ویسے ہی پھر ایمان نہیں لائیں گے) ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے وہ اس پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے (ویسے ہی پھر ایمان نہیں لائیں گے) ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیں گے۔“ (کذلک یطبع اللہ علی قلوب الکفرین) ” اسی طرح اللہ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔“ یعنی سزا کے طور پر اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا انہوں نے خود ہی اپنے آپ پر ظلم کیا۔ (وما وجدنا لاکثرھم من عھد) ” ہم نے ان ہی سے اکثر میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا۔“ یعنی ہم نے اکثر قوموں میں جن کی طرف رسول بھیجے گئے، عہد کی پاسداری نہیں دیکھی، یعنی اللہ تعالیٰ کی وصیت کا التزام اور اس پر ثابت قدمی، جو اس نے تمام جہانوں کو کر رکھی ہے اور نہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ان احکام کی تعمیل کی ہے جو اس نے اپنے انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے ان تک پہنچائے ہیں (وان وجدنا اکثر ھم لفسقین) ” اور اکثر ان میں پائے نافرمان“ یعنی ہم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل بھاگنے اور بے راہ رو ہو کر خواہشات نفس کی پیروی کرنے والے ہی پایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول مبعوث فرما کر، کتابیں نازل کر کے اپنے بندوں کو آزمایا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے عہد اور اس کی ہدیات کی اتباع کریں۔ مگر بہت کم لوگوں نے اس کے حکم کی تعمیل کی، یعنی صرف ان لوگوں نے جن کے لئے پہلی ہی سعادت لکھ دی گئی تھی اور رہے اکثر لوگ تو انہوں نے ہدیات سے روگردانی کی اور ان تعلیمات کو تکبر سے ٹھکرا دیا جو رسول لے کر آئے تھے۔ پس اس پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر مختلف قسم کے عذاب نازل فرمائے۔