سورة الاعراف - آیت 45

الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُم بِالْآخِرَةِ كَافِرُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے [٤٤] منکر تھے''

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 45 اللہ تعالیٰ یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اہل ایمان اور کفار جنت اور جہنم میں اپنے اپنے ٹھکانوں میں داخل ہوجائیں گے اور وہاں سب کچھ ویسا ہی پائیں گے جیسا انبیاء و رسل نے ان کو خبر دی تھی اور جیسا کہ ثواب و عقاب کے بارے میں انبیا کی لائی ہوئی کتابوں میں تحریر تھا، فرماتا ہے کہ اہل جنت جہنمیوں کو پکار کر کہیں گے : (ان قدو جدنا ما وعدنا ربنا حقاً” کہ جو وعدہ ہمارے رب نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچا پا لیا۔“ جب اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے اور نیک عمل کرنے پر جنت کا وعدہ کیا تو ہم نے اس کے وعدہ کو سچاپایا، اس نے ہمیں جنت میں داخل کردیا ہم نے وہاں وہ سب کچھ دیکھا جو اس نے ہمارے لۓ بیان کیا تھا (آیت) ” بھلا جو وعدہ تمہارے رب نے تم سے کیا تھا، کیا تم نے بھی اسے سچا پایا؟“ یعنی تمہارے کفر اور معاصی پر تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے سچاپایا؟ (قالو انعم) ” وہ کہیں گے، ہاں !“ ہم نے اسے سچ پایا۔ پس تمام مخلوق کے سامنے یہ بات واضح ہوجاۓ گی کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بات سے زیادہ کس کی بات سچی ہوسکتی ہے؟ تمام شکوک و شبہات دور ہوجائیں گے اور معاملہ حق الیقین بن جاۓ گا۔ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے وعدے پر خوش ہوں گے، کفار بھلائی سے مایوس ہوجائیں گے۔ وہ اپنے بارے میں خود اقرار کریں گے کہ وہ عذاب کے مستحق ہیں۔ (فاذن مؤذن بینھم) ” تو (اقت) ان میں ایک پکارنے والا پکارے گا۔“ پکارنے والا اہل جنم اور اہل جنت کے درمیان پکار کر کہے گا : (ان لعنۃ اللہ) ” کہ لعنت ہے اللہ کی ” یعنی ہر بھلائی سے بعد اور محرومی (علی الظلمین) ” ظالموں پر“ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اپنی رحمت کے دروازے کھولے مگر انہوں نے اپنے ظلم کی وجہ سے ان سے منہ موڑا، خود اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور دوسروں کو بھی اس راستے پر نہ چلنے دیا۔ پس وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کا راستہ سیدھا رہے اور اس پر چلنے والے اعتدال کے ساتھ اس پر گامزن رہیں۔ (و) ” اور“ یہ کفار (یبغونھا عوجاً) ” ڈھونڈتے ہیں اس میں کجی“ یعنی سیدھے راستے سے ہٹا ہوا (وھو بالاخرۃ کفرون) ” اور وہ آخرت کے منکر تھے“ یہی کفر ہے جو راہ راست سے ان کے انحراف کا باعث بنا اور یہی کفر ہے جو فنس کی شہوات محرمہ، کو محور بنانے آخرت پر عدم ایمان، عذاب سے عدم خوف اور ثواب سے نا امیدی کا موجب بنا۔ اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اہل ایمان پر سایہ کناں، اس کا فضل ان کے شامل حال اور اس کا احسان ان پر متواتر ہے۔