سورة الانشقاق - آیت 14

إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اس نے سمجھ رکھا تھا کہ وہ قطعاً (میرے پاس) لوٹ [١٠] کر نہ آئے گا

تفسیر احسن البیان - حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ

1- یہ اس کے خوش ہونے کی علت ہے۔ یعنی آخرت پر اس کا عقیدہ ہی نہیں تھا ۔ حور کےمعنی ہیں، لوٹنا۔ جس طرح نبی (ﷺ) کی دعا ہے [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْحَورِ بَعْدَ الْكَورِ ] (صحيح مسلم، الحج، باب ما يقول إذا ركب إلى سفر الحج وغيره، ترمذی، ابن ماجہ ) مسلم میں بعد الكون ہے۔ مطلب ہے، اس بات سے میں پناہ مانگتا ہوں کہ ایمان کے بعد کفر، اطاعت کے بعد معصیت یا خیر کے بعد شر کی طرف لوٹوں۔