سورة الملك - آیت 30
قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَاءٍ مَّعِينٍ
ترجمہ تیسیرالقرآن - مولانا عبد الرحمن کیلانی
آپ ان سے پوچھئے : ''بھلا دیکھو! اگر تمہارا پانی گہرائیوں میں اتر جائے تو کون ہے جو تمہیں نتھرا [٣٣] پانی لا کر دے گا ؟''
تفسیر مکہ - حافظ صلاح الدین یوسف حافظ
* غَوْرًا کے معنی ہیں خشک ہو جانا یا اتنی گہرائی میں چلا جانا کہ وہاں سے پانی نکالنا ناممکن ہو۔ یعنی اگر اللہ تعالٰی پانی خشک فرما دے کہ اس کا وجود ہی ختم ہو جائے یا اتنی گہرائی میں کر دے کہ ساری مشینیں پانی نکالنے میں ناکام ہو جائیں تو بتلاؤ! پھر کون ہے جو تمہیں جاری، صاف اور نتھرا ہوا پانی مہیا کر دے؟ یعنی کوئی نہیں ہے۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ تمہاری معصیتوں کے باوجود وہ تمہیں پانی سے بھی محروم نہیں فرماتا۔